ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفس میں بڑے پیمانے پرلوٹ مار

  ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفس میں بڑے پیمانے پرلوٹ مار

  

ملتان (نیوز رپورٹر)ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفس میں گریجویٹی، جی پی فنڈ، پینشن اور ریکارڈ اپڈیٹ کرنے سمیت ہر کام کے لیئے ریٹ مقرر، افسران کی ناک کے نیچے بلا خوف رشوت وصول کی جاتی ہے آفس میں براجمان عملہ کی لوٹ مار اور بلاوجہ اعتراضات نے سرکاری ملازمین کی زندگی اجیرن بنا کر رکھ دی ہے سرکاری ملازمین بالخصوص خواتین اپنے ریکارڈ کی درستگی کے(بقیہ نمبر32صفحہ6پر)

 لیئے مہینوں دھکے کھانے پر مجبور کردی جاتی ہیں ذرائع کے مطابق سرکاری ملازمین کی جوائننگ سے لے کر پینشن کے کیسز تک نمٹانے کے لیئے 10 ہزار روپے سے لے کر 25 ہزار تک رشوت وصول کی جاتی ہے اور اس مقصد کے لیئے تمام سرکاری دفاتر میں باقاعدہ ایجنٹ تعینات ہیں تاہم اگر کوئی سرکاری ملازم اپنے معاملات براہ راست ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفس سے رابطہ کرنے کی کوشش کرے تو اسے اس حد تک خوار کیا جاتا ہے کہ وہ بالآخر اپنے ادارے میں مخصوص ایجنٹ سے رابطہ کرنے پر مجبور کردیا جاتا ہے ذرائع کے مطابق اکاونٹس آفس کا ریکارڈ 2004 کے اوائل میں کمپیوٹرائزڈ کیا گیا ہے تاہم اس سے قبل کے ملازمین کے مینول ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کے لیئے بھی فی کس 20 ہزار روپے تک وصول کیئے جاتے ہیں اسی طرح جن ملازمین کا دیگر شہروں میں تبادلہ کیا جاتا ہے ان کی تنخواہوں کو ٹرانسفر کرنے پر بھی فیس مقرر ہے جبکہ سب سے زیادہ مالی مار دھاڑ ترقیاتی منصوبوں کے بلوں کی منظوری پر کی جاتی ہے ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفس اس ملک کا واحد سرکاری ادارہ ہے جو اپنے ہی سرکاری ملازمین سے بھتہ وصولی سمیت انہیں خوار کرنے میں بھی ریکارڈ رکھتا ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -