پنجاب یونیورسٹی نے چار برسوں کے دوران سب سے زیادہ ترقی کی

     پنجاب یونیورسٹی نے چار برسوں کے دوران سب سے زیادہ ترقی کی

  

لاہور(لیڈی رپورٹر)پنجاب یونیورسٹی شعبہ تعلقات عامہ نے یونیورسٹی کی چار سالہ کارکردگی پر مفصل رپورٹ جاری کر دی جس کے مطابق 2018 تا 2022 پنجاب یونیورسٹی کی تاریخ میں سب سے زیادہ ترقی کے سال دیکھے گئے۔ وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر نیاز احمداختر کی سربراہی میں جامعہ پنجاب نے تمام تعلیمی، تحقیقی و انتظامی شعبوں میں تاریخ ساز ترقی کی۔رپورٹ کے مطابق  پنجاب یونیورسٹی نے بین الاقوامی رینکنگ میں 16 فیصد ترقی کی۔ گزشتہ چار سال میں پنجاب یونیورسٹی دنیا کی بہترین 78 فیصد سے ترقی کر کے 62 فیصد جامعات میں شامل ہوئی جبکہ کیو ایس ایشین رینکنگ میں بھی 87 درجے ترقی حاصل کی۔ کیو ایس نے پنجاب یونیورسٹی کو ایشیاء کی بہترین 145ویں جامعہ قرار دیاجبکہ نیچر پبلشنگ نے پنجاب یونیورسٹی کو پاکستان میں نیچرل سائنسز میں نمبر 1 قرار دیا۔ اسی طرح 2018 میں پنجاب یونیورسٹی کا ایک بھی مضمون بین الاقوامی رینکنگ میں شامل نہیں تھااور2022 میں کیو ایس نے جامعہ پنجاب کے 15 مضامین کو دنیا کے بہترین اداروں میں شمار کیا۔پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ پٹرولیم انجینئرنگ کودنیا کے 101 سے 150 بہترین اداروں میں شمار کیا گیا۔ مذہبی علوم میں پنجاب یونیورسٹی کو دنیا کے 101 سے 130 بہترین اداروں میں شمار کیا گیا۔ آئندہ پچاس سالہ قومی و تعلیمی ضروریات کے تحت پنجاب یونیورسٹی کی اکیڈیمک ری سٹرکچرنگ کی گئی۔ پنجاب یونیورسٹی میں قومی و معاشرتی مسائل کا حل کرنے والی تحقیق کی پہلی مرتبہ خصوصی حوصلہ افزائی ہوئی۔2020 میں یونیورسٹی اساتذہ نے سب سے زیادہ امپیکٹ فیکٹر تحقیقی مقالہ جات شائع کئے۔ اسی طرح چار سالوں میں یونیورسٹی کی تاریخ میں سب سے زیادہ تقرریاں و ترقیاں ہوئیں اور 2018-2022 میں دہائیوں سے ترقی و اگلی تعیناتی کے منتظر اساتذہ و ملازمین کے مسائل حل کئے گئے۔ شعبہ تعلقات عامہ کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق 2018-2022 میں یونیورسٹی کی حالیہ پچاس سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ سینیٹ کے 8 اجلاس منعقد ہوئے جبکہ ان چار سالوں میں گڈ گورننس کے حقیقی ماڈل کو پہلی مرتبہ عملی جامہ پہنایا گیا۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -