صدر نے آئین شکنی کی، وفاقی کابینہ، گورنر پنجاب کا ایشو قومی اسمبلی میں زیر بحث لایا جائے گا اور اس پر قرار داد بھی منظور کی جائے گی: وزیر قانون 

        صدر نے آئین شکنی کی، وفاقی کابینہ، گورنر پنجاب کا ایشو قومی اسمبلی ...

  

 اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)  وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کی برطرفی کے فیصلے کی توثیق،چیئرمین واپڈا کا استعفیٰ منظور کرلیا جبکہ 3  ملین میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے،ملک میں گندم کی کمی کو پورا کرنے کیلئے  فوری پلان مرتب کرنے، ایک سے زائد غیر ملکی پاسپورٹس کو منسوخ کرنے، فواد اسد اللہ خان کو ڈی جی آئی بی  اورممبر فنانس واپڈا کوچیئرمین واپڈا کے عہد ے کا اضافی چارج دیدیا۔کابینہ نے  ملک میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 950 روپے سے کم کر کے 800 روپے اورچینی 85 روپے کلو سے 70 روپے کلو  کرنے  کی بھی  ہدایت کردی۔وفاقی وزراء  مریم اورنگزیب، اعظم نذیر تارڑ اور خرم دستگیر  نے کہا ہے کہ عمران خان کی طرف سے پنجاب کے اندر دوبارہ آئین شکنی کی شازش کی جا رہی ہے،عمران خان کی آئینی شکنی میں غنڈہ گردی بھی شامل ہے،  کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ گورنر پنجاب کے ایشو کو قومی اسمبلی میں زیر بحث لایا جائے گا  اور اس پر قرار داد بھی منظور کی جائے گی، کابینہ نے واضح کر دیا کہ کسی کو آئینی حدود سے تجاوز کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی،  صدر مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس مسترد کرکے آئین شکنی کا ارتکاب کیا،آئین شکنی کے حوالے سے مختلف اقدامات اٹھانے پر مشاورت جاری ہے،وفاقی کابینہ کے اجلاس میں صدر مملکت کے کرداد پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور کابینہ کی جانب سے عارف علوی کا کردار آئین سے ماورا قرار دیدیا گیا۔کابینہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صدر نے گورنر پنجاب کے معاملے پر آئین کا مذاق بنایا،۔ ملک کو انتشار کی جانب دھکیلنے کے لئے آئینی عہدوں کا استعمال کیا گیا، صدر اور گورنر پنجاب نے آئین، قانون، پارلیمان، جمہوریت کی توہین کی،آج ملک میں لوڈشیڈنگ صفر ہے،اس وقت 22ہزار634 میگاوواٹ بجلی پیدا کررہے ہیں۔منگل کو وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ   اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب،وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور خرم دستگیر  نے مشترکہ  پریس کانفرنس کی۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں آج اہم فیصلے ہوئے،کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم نے سعودی عرب اور یو اے ای کے دورہ کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا،پہلی مرتبہ ہم دوست ممالک کے ساتھ ایک ایسا سٹریٹجک پلان لے کر گئے ہیں جو صرف گرانٹ پر مبنی نہیں بلکہ پاکستان کے عوام کے لئے پراجیکٹس، روزگار، ریلیف کے ایک پورے وڑن پر مشتمل ہے،عید والے دن یو اے ای سے اقتصادی ماہرین کا وفد بھی پاکستان آیا، ہماری اقتصادی، توانائی اور پاور کی ٹیمیں ان منصوبوں پر کام کر رہی ہیں، عوام کو آگاہ کریں گے کہ کون کون سے منصوبے سعودی عرب اور یو اے ای کے ساتھ مکمل کئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر توانائی نے کابینہ کو ملک میں بجلی کی صورتحال کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی، حکومت عوام کو ریلیف دینے کا پلان رکھتی ہے،ٹرانسمیشن، لوڈ شیڈنگ پر مکمل جامع حکمت عملی مرتب کی گئی ہے، انرجی مکس، کنزرویشن پلانز، انرجی کنزرویشن پالیسی پر وفاقی وزیر توانائی بریفنگ دیں گے،پچھلے چار سالوں کے دوران گندم کی کاشتکاری کے دوران کوئی مراعات نہیں دی گئیں، 2018ء  میں ڈی اے پی کی بوری 2600 روپے کی تھی جو اس وقت 10 ہزار روپے میں مل رہی ہے، جس وقت گندم کی کاشت ہو رہی تھی اس وقت ڈی اے پی دستیاب ہی نہیں تھی، ملک کے اندر گندم کی صورتحال دیکھتے ہوئے کابینہ نے تین ملین میٹرک ٹن امپورٹ کی اجازت دی جو صرف ایک خاص مدت کے لئے ہے، 2018ء  میں جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت ختم ہوئی اس وقت پاکستان گندم ایکسپورٹ کر رہا تھا،وزیراعظم نے وفاقی وزیر غذائی تحفظ کو ہدایت کی ہے کہ فوری طور پر ایسا پلان مرتب کیا جائے جس کے تحت نہ صرف گندم کی پیداوار میں اضافہ ہو بلکہ پاکستان گندم برآمد کر سکے۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ محمد مسعود کو ڈائریکٹر انڈسٹریل اینڈ کمرشل ریلیشن شپ، کو بطور ممبر پاکستان آرڈیننس فیکٹری تعینات کرنے کی منظوری دی گئی، کابینہ نے ایڈمرل (ر) سلمان الیاس کو ایم ڈی شپ یارڈ انجینئرنگ ورکس کے ڈائریکٹر کے طور پر تعینات کرنے کی منظوری دی، کابینہ نے 1974ء  کے پاسپورٹ ایکٹ کے تحت ایک سے زائد غیر ملکی پاسپورٹس کو منسوخ کرنے کی منظوری دی،کابینہ نے فیصلہ کیا کہ ایسے پاسپورٹس کو نہ صرف منسوخ کیا جائے بلکہ آئندہ اس کی روک تھام کیلئے حکمت عملی اختیار کی جائے، کابینہ نے دو پاسپورٹس منسوخ کرنے کی آخری تاریخ 31 دسمبر 2022ء  مقرر کی گئی ہے، اس وقت تک پروسیجرل اور انتظامی امور مکمل کرنے کی ہدایت کی۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 9 مئی کے اجلاس کے فیصلوں کی توثیق کی،رمضان پیکیج کے تحت آٹے اور چینی کے تعین کئے گئے نرخوں کو آئندہ بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، 20 کلو آٹے کا تھیلا 950 روپے سے کم کر کے 800 روپے کیا گیا تھا، اسی طرح چینی 85 روپے کلو سے 70 روپے کلو کی گئی تھی، کابینہ نے منظوری دی ہے کہ اسی ریٹ پر ان اشیاء  کی قیمتوں کو برقرار رکھا جائے، کابینہ نے پاکستان کے عوام کو ریلیف کی فراہمی کی ہدایات جاری کی ہیں۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے فواد اسد اللہ خان کو ڈی جی آئی بی تعینات کرنے کی منظوری دی،کابینہ نے لیفٹیننٹ جنرل مزمل حسین کا چیئرمین واپڈا کے عہدہ سے استعفیٰ منظور کرلیا ہے،ممبر فنانس واپڈا کو چیئرمین واپڈا کی تعیناتی کا پراسیس مکمل ہونے تک چیئرمین واپڈا کے عہدہ کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی طرف سے پنجاب کے ندر دوبارہ آئین شکنی کی شازش کی جا رہی ہے۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذید تارڑ نے کہا کہ کچھ آئینی عہدیداروں کی جانب سے آئین کی خلاف ورزی کی گئی ہیں، وفاقی کابینہ نے گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کی برطرفی کے فیصلے کی توثیق کی ہے، کوئی آئینی عہدیدار اپنے اختیارات سے تجاوز نہ کرے،صدر مملکت کی آئین شکنی پر کابینہ نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا،اس آئین شکنی کے حوالے سے مختلف اقدامات اٹھانے پر مشاورت جاری ہے، کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ گورنر پنجاب کے ایشو کو قومی اسمبلی میں زیر بحث لایا جائے گا، گورنر پنجاب کے حوالے سے قومی اسمبلی کے اجلاس میں بحث ہوگی اور اس پر قرار داد بھی منظور کی جائے گی، صدر مملکت نے وزیراعظم کے ایڈوائس کو مسترد کیا۔وزیر قانون نے بتایا کہ کابینہ نے واضح کر دیا کہ کسی کو آئینی حدود سے تجاوز کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، صدر مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس مسترد کرکے آئین شکنی کا ارتکاب کیا۔وفاقی وزیر توانائی  خرم دستگیر   نے کہا کہ  لوڈشیڈنگ کے خاتمہ کے لیے کابینہ میں اضافی وسائل فراہم کرنے کی درخواست کی ہے،جس روز مجھے وزیرتوانائی بنایا گیا ملک میں آٹھ سے دس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ تھی،چار سال کا عذاب عمرانی اس ملک پر رہا ہے،وزیراعظم نے یکم مئی سے لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا اعلان کیا تھا،آج ملک میں لوڈشیڈنگ صفر ہے،اس وقت بائیس ہزار چھ سو چونتیس میگاوواٹ بجلی پیدا کررہے ہیں۔

وفاقی کابینہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے  سابق وزیر اعظم عمران خان کے بیان کو آئین شکنی کے اوپر غنڈہ گردی قرار دے دیا  اور کہا ہے کہ آئین شکنی اور اوپر سے غنڈہ گردی کرنے کے بعد آئین کے تقاضوں کی بات عمران صاحب کی سیاسی منافقت ہے؟ کسے دھوکہ دے رہے ہیں؟،عمران صاحب نے قومی اسمبلی میں جو شرمناک تماشا کیا، اسی کو پنجاب میں دوہرایا،قومی اسمبلی میں کی جانے والی آئین شکنی اور غنڈہ گردی پنجاب میں بھی دوہرائی گئی،عمران صاحب اپنے فسطائی سیاہ کردار کو دیکھیں جس کی تاریخ ہمیشہ مذمت کرتی رہے گی۔منگل کو اپنے ایک بیان میں وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران صاحب آپ کا اور آپ کی کٹھ پتلیوں کا یہ رویہ ہے جس کی وجہ سے عدالتوں کے دروازے نصف شب کو کھولے گئے،رات کی تاریکی میں چوروں کی طرح آپ نے آئین اور پارلیمنٹ پر شب خون مارا تو رات کو عدالت لگی،عمران صاحب آپ تو دن کے اجالے میں آئین کو پامال کرتے اور غنڈہ گردی کرتے ہیں  ،آئین شکن کے منہ سے آئین کی بات؟ کچھ شرم؟۔انہوں نے کہا کہ توہین عدالت کے مجرم عدالت سے نوٹس لینے کی اپیلیں کس منہ سے کر رہے ہیں؟ پہلے گھوسٹ انتخاب سے مجرم کٹھ پتلی عمران صاحب پاکستان پر مسلط ہوئے، پھر آئین شکنی کرکے دوہرا آئینی جرم کیا،عمران صاحب نے پاکستان کے عوام کی دولت لوٹی، باوقار آئینی عہدے کو فرح گوگی کے ذریعے مال بنانے کا ذریعہ بنایا،عمران صاحب اپنے فسطائی سیاہ کردار کو دیکھیں جس کی تاریخ ہمیشہ مذمت کرتی رہے گی،عمران صاحب آپ کے حکم پر آئینی مناصب کی توہین کی گئی، صدر، گورنر، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر سب نے آئین پامال کیا۔

مریم اورنگزیب

مزید :

صفحہ اول -