عالمی بنک کی اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد کیلئے پاکستان کو تعاون کی یقین دہانی 

  عالمی بنک کی اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد کیلئے پاکستان کو تعاون کی یقین ...

  

      اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی) ورلڈ بینک کے نائب صدر جنوبی ایشیا ریجن ہارٹ وِگ شیفر نے پاکستان کو حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے اور ورلڈ بینک کی طرف سے فنڈز فراہم کرنے والے منصوبوں پر عمل درآمد میں اپنے مکمل تعاون کی  یقین دہانی کرادی  جبکہ وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہاہے کہ  ملک کو اس وقت اشیاء کی عالمی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مالیاتی اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا ہے، موجودہ حکومت ان مسائل سے بخوبی آگاہ  اور ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے،موجودہ حکومت معیشت کو پائیدار اور جامع ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے پرعزم ہے، آئندہ بجٹ کا مقصد مالیاتی استحکام لانا اور معیشت کی مجموعی لچک کو بہتر بنانا ہے،اسی وجہ سے حکومت معاشرے کے کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے مختلف امدادی اقدامات فراہم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے، حکومت پاکستان کی جانب سے کی جانے والی اصلاحات کے لیے عالمی بینک کا مسلسل تعاون  اہم ہوگا۔منگل کووفاقی وزیر برائے خزانہ اور محصولات مفتاح اسماعیل نے ورلڈ بینک کے نائب صدر جنوبی ایشیا ریجن ہارٹ وِگ شیفر سے ملاقات کی۔وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا، کنٹری ڈائریکٹر ڈبلیو بی ناجی بینہسین، قائم مقام گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر مرتضیٰ سید، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری پاور ڈویژن، سیکرٹری ای اے ڈی، چیئرمین ایف بی آر اور دیگر سینئر افسران نے اجلاس میں شرکت کی۔وزیر خزانہ نے ہارٹ وِگ شیفر کا خیرمقدم کیا اور بتایا کہ ملک کو اس وقت اشیاء کی عالمی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مالیاتی اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ موجودہ حکومت ان مسائل سے بخوبی آگاہ ہے اور ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ موجودہ حکومت معیشت کو پائیدار اور جامع ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے پرعزم ہے۔وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ آئندہ بجٹ کا مقصد مالیاتی استحکام لانا اور معیشت کی مجموعی لچک کو بہتر بنانا ہے۔ اسی وجہ سے حکومت معاشرے کے کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے مختلف امدادی اقدامات فراہم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت مالیاتی خسارے کو دور کرنے کے لیے ترجیحی شعبوں میں اصلاحات متعارف کرائے گی۔ اس تناظر میں، عالمی بنک کے دو پروگرام جن کا نام ہے لچکدار ادارہ برائے پائیدار معیشت (RISE-II) اور پروگرام برائے سستی اور صاف توانائی (PACE-II) حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہارٹ وِگ شیفر نے ورلڈ بینک کی طرف سے تجویز کردہ اصلاحاتی اقدامات کے بارے میں اپنی بصیرت کا اظہار کیا۔ یہ پروگرام نہ صرف پائیدار ترقی کو یقینی بناتے ہیں بلکہ کسی بھی معاشی بحران کی صورت میں موثر جھٹکا جذب کرنے والے کے طور پر بھی کام کرتے ہیں۔ انہوں نے معاشی چیلنجز پر قابو پانے میں حکومت پاکستان کے عزم کو سراہا۔اجلاس میں جن اہم شعبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا ان میں ملک کی میکرو اکنامک صورتحال، مالیاتی ذمہ داری اور قرض کی حد بندی کے قوانین اور پاور سیکٹر کی مالی استحکام شامل ہیں۔وزیر خزانہ نے عالمی بینک کے نائب صدر کا شکریہ ادا کیا اور ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی میں عالمی بینک کے اہم کردار کا اعتراف کیا۔ وزیر خزانہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے کی جانے والی اصلاحات کے لیے عالمی بینک کی مسلسل حمایت اہم ہوگی۔ ہارٹ وِگ شیفر نے حکومت پاکستان کو حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے اور ورلڈ بینک کی طرف سے فنڈز فراہم کرنے والے منصوبوں پر عمل درآمد میں اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔اس سے قبل وزیر اعظم محمد شہباز شریف  نے  ورلڈ بینک کے نائب صدر برائے جنوبی ایشیا   ہارٹ وِگ شیفر  سے ملاقات میں پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں عالمی بینک کے تعاون کو سراہتے ہوئے دونوں   اطراف سے  خاص طور پر زراعت، پیشہ ورانہ تربیت اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ منگل کو وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے ورلڈ بینک کے نائب صدر برائے جنوبی ایشیا ہارٹ وِگ شیفر نے یہاں ملاقات کی جس دوران نائب صدر کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعظم نے پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں عالمی بینک کے تعاون کو سراہا۔وزیراعظم نے دونوں   اطراف سے  خاص طور پر زراعت، پیشہ ورانہ تربیت اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ملاقات کے دوران  فریقین نے قریبی رابطے میں رہنے اور مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے مل کر کام کرنے پر  بھی اتفاق کیا۔وزیر اعظم شہباز شریف سے جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں ملاقات کی جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں ملک میں جمہوریت کے استحکام اور سماجی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملکر کام کرنے پر اتفاق کیا گیا- ملاقات میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ تمام سیاسی جماعتیں مل کر ملک کی معیشت کو بہتر بنانے میں اپنا اپناکردار ادا کریں گی۔وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک میں یوریا اور گندم کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ذخیرہ اندوزی کو روکنے کے لیے مارکیٹ میں طلب اور رسد کا مربوط نظام بنانے کے ساتھ ساتھ اسمگلنگ کو روکنے کے لیے سخت بارڈر کنٹرول وقت کی اہم ضرورت ہے۔وہ ملک میں گندم اور یوریا کی اسمگلنگ سے نمٹنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ مارکیٹ میں یوریا اور ڈی اے پی کی مستحکم اور ارزاں نرخوں پر دستیابی یقینی بنائیں تاکہ ملک گندم کی پیداوار میں خود کفیل ہو سکے۔ وزیر اعظم نے اس سلسلے میں ٹاسک فورس کی تشکیل کی ہدایت کی۔علاوہ ازیں انہوں نے ملک میں یوریا اور گندم کی ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کو روکنے کے لیے بھی ٹاسک فورس بنانے کی ہدایت کی

شہباز شریف

مزید :

صفحہ اول -