امریکہ میں اسقاط حمل پر پابندی کے مواقع عدالتی فیصلے کیخلاف احتجاج کا خدشہ 

    امریکہ میں اسقاط حمل پر پابندی کے مواقع عدالتی فیصلے کیخلاف احتجاج کا ...

  

       واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی  رپورٹ) امریکی سپریم کورٹ میں اسقاط حمل پر پابندی لگانے کے حوالے سے ایک مقدمے کا فیصلہ جلد آنے والا ہے۔ خلاف معمول ججوں نے جو ڈرافٹ تیارکیا ہے اس کے کچھ حصے قبل از وقت Leak ہوگئے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ طویل عرصے سے متنازعہ چلے آنے والے اسقاط حمل کے معاملے پر اس کے خلاف فیصلہ سنانے والی ہے۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق اس متوقع فیصلے کے باعث واشنگٹن میٹرو ایریا میں خصوصاً اعلیٰ عدالت کے خلاف مظاہروں کوسلسلہ شروع ہوگیا ہے اس کے بعد سپریم کورٹ کے نو ججوں کی رہائش گاہوں اور ان کی عدالتوں کے بارے سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ میڈیا کے مطابق سوموار کی شام واشنگٹن کے نواح میں الیگزنیڈریا کے شہر میں ایک جج سیموئیل الیٹو کے گھر کے باہر سینکڑوں افراد نے مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نعرے لگا رہے تھے کہ اسقاط حمل پر پابندی لگانے والی عدالتوں کو ”ساقط“ کردو۔ ویک اینڈ میں دوسرے ججوں کے گھروں پر بھی مظاہرے ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔ ہفتے کی شب ”چیوی چیز“ شہر میں سپریم کورٹ کے جج بریٹ کواناگ کے گھر سے لے کر چیف جسٹس جان رابرٹس کی رہائش گاہ تک تقریباً سو افراد نے ایک ریلی نکالی اوران کے خلاف نعرے لگائے۔ ”شٹ ڈاؤن ڈی سی“ نامی بائیں بازو کی تنظیم نے ان مظاہروں کا اہتمام کیا تھا۔ سوموار کے روز امریکی سینیٹ نے متفقہ طورپر ایک بل منظور کیا ہے جس میں اعلیٰ عدالت کے ججوں کو سیکورٹی فراہم کرنے کے لئے خصوصی فنڈ منظور کیا گیا ہے۔

اسقاط حمل

مزید :

صفحہ اول -