مہاراج!تسی وڈے تے اسی چھوٹے۔۔۔

 مہاراج!تسی وڈے تے اسی چھوٹے۔۔۔
 مہاراج!تسی وڈے تے اسی چھوٹے۔۔۔

  

اب کی بار عید پر شکرگڑھ جانا ہوا تو مشرقی سرحد کے کنارے ایک بلند ترین ٹیلے پر آرام فرما بلند مرتبہ بزرگ کے "در" حاضری کو دل مچلا.......جمعہ کے مبارک دن موسم بھی بڑا ہی دلکش تھا.....آسمان پر رقص کرتے بادل اور ٹھنڈی ہوا کے جھونکے دل و دماغ کو معطر کر رہے تھے ......کہہ لیجیے کسی" مہ جبیں" کے دیدار کا موسم تھا......سوچا اللہ کے کسی" محبوب بندے" سے بہتر" دلربا" کون ہو سکتا ہے....کیوں ناں خواجہ عبدالسلام چشتی رحمتہ اللہ علیہ کو سلام کر آئیں کہ اس سے پہلے اللہ والوں سے محبت کرنے والے والد گرامی کی قبر پر قاری مہد عثمانی کی قرآن خوانی سے بھی "بے قرار دل "کو خوب قرار آیا........!!!!

شکرگڑھ کے پرسکون"تبلیغی مرکز "میں نماز جمعہ کے بعد "وفا میں گندھے "برادر عزیز ملک قدیر کو ساتھ لیا اور " مسرور دل" کے ساتھ"بڑا بھائی مسرور" چل دئیے......ہندوستان اور کشمیر کے پڑوس میں واقع خواجہ صاحبؒ  کے مزار پر فاتحہ خوانی کے بعد احاطے میں کھڑے یادوں کے "دریچے" کھل گئے......آستانہ عالیہ کے سابق سجادہ نشین ڈاکٹر مبارک غوری شدت سے یاد آئے کہ کوئی 22 سال پہلے وہ "اسی مقام "پر  ہمارے میزبان تھے....تب وہ اس دربار کے" مجاور" تھے....ان دنوں وہ بڑھاپے کی وجہ سے صاحب فراش ہیں....وہ تحصیل پسرور کے مشہور گاؤں" ٹھروہ منڈی" میں مقیم ہمارے دوست جناب ڈاکٹر ممریز احمد نعیم کے سسر ہیں.....ڈاکٹر مبارک نے اس رات کھانے کی میز پر" تاریخ کے اوراق" پلٹے اور خواجہ صاحب کی کرامات سے سجے صفحات ایک ایک کرکے آنکھوں کے سامنے "سجا" دئیے.....وہ خوش قسمت ہیں کہ انہوں نے خواجہ صاحب کی سوانح عمری پر" تذکرہ "کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی.....شکرگڑھ کے معتبر اخبار نویس برادرم ملک یونس اور یاسین چودھری بھی تب شریک محفل تھے......

ڈاکٹر صاحب نے بڑابھائی مسرور کا "محل وقوع" اور" وجہ تسمیہ  بتاتے ہوئے "قیمتی معلومات" دیں کہ یہاں سے تحصیل پٹھان کوٹ مشرق کی جانب18 اور تحصیل کٹھوعہ شمال کی طرف 15میل کے فاصلے پر ہے جبکہ مغرب کی جانب ہندوستان کے گاﺅں ڈینڈا،کھوچکی چک اور سکول واضح نظر آتے ہیں.....شکرگڑھ یہاں سے 17کلومیٹر کی مسافت پر شاد آباد ہے......گویا تقسیم سے پہلے انٹرنیشنل بارڈر اور ورکنگ باؤنڈری پر واقع "خواجہ صاحب کی نگری" پاکستان،کشمیر اور بھارت سے ایک جیسے فاصلے پر ہونے کے باعث "مرکز "کا درجہ رکھتی تھی.....

ڈاکٹر مبارک صاحب کے مطابق یہ علاقہ دیورائے ڈوگرا راجہ کے تسلط میں تھا اور”گنیا سنگھ“اس حصے کا حکمران تھا........حضرت نظام الدین اولیاؒ نے اس" اندھیرنگری" میں اسلام کی شمع روشن کرنے کیلئے اپنے خلیفہ خاص حضرت خواجہ عبدالسلامؒ  کو ادھر پہنچنے کا حکم دیا، جو اپنے 3 مصاحبوں جمال خان ، کمال خان اور حسین خان کے ساتھ یہاں تشریف لائے.........حضرت عبدالسلام چشتیؒ کی آمد کے ساتھ ہی یہاں اسلام کی شعاعوں سے ہر طرف "اجالا" ہونے لگا.........

خواجہ صاحب کی بڑھتی مقبولیت اور پذیرائی کو دیکھتے ہوئے” گنیا سنگھ“بدہواس ہو گیا.......اس نے آپ کو دعوت پر بلا کر کھانے میں زہر ملا دیا ......"نگاہ ولی "نے بد بخت کی بدنیتی بھانپ لی اور کھانا کتے کو ڈال دیا.....راجہ کا کتا مرگیا ...وہ اور ہواس باختہ ہو گیا اور نئی سازش تیار کر لی..... اب کی بار "شکار" کا پروگرام بنایا......درباریوں کا ایک لشکر جرار ساتھ لیا اور حضرت کو بھی دعوت دی .......جنگل کے گھنے حصے، جہاں شیروں اور سانپوں کا مسکن تھا، حضرت عبدالسلام چشتیؒ کو وہاں چھوڑ کر بھاگ آیا.....ایک شیر آگے بڑھا....آپ کے قدم چومے اور بیٹھ گیا.....چشتی صاحب شیر پر سوار ہوئے..... ایک سانپ کو "چابک "بنایااور واپس آگئے ....راجہ نے منظر دیکھا تو کانپ اٹھا کہ میں تو انہیں موت کے کنویں میں چھوڑکر آیا تھا.....بے اختیار پکاراٹھا کہ مہاراج!تسی وڈے تے اسی چھوٹے“یعنی مہاراج آپ بڑے اور ہم  چھوٹے ٹھہرے....تب سے آپ کو ”بڑا بھائی “کے نام سے پکارا جاتا ہے....کہتے ہیں کہ وہ شیر ساری عمر آپ کے ساتھ رہا اور آج بھی مزار کے ساتھ دفن ہے..... راجہ کو عقل آگئی اور وہ خواجہ عبدالسلام چشتیؒ کے حکم سے ”جسرونہ “کے مقام پر جابسا.....گنیا سنگھ کے ”دیوان خاص “ میں ایک درویش نے بوریا بچھا لیا .....آج اسی جگہ حضرت عبدالسلام چشتی کا ”مزار شریف“ واقع ہے .....یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شیر والے واقعہ کے بعد راجہ کا سارا لشکر بھی مسلمان ہو گیا......4نسلوں تک "راجے" بھی محبت و عقیدت کے ساتھ یہاں تشریف لاتے رہے......

یہ بھی روایت ہے کہ ڈوگرے لاہور جارہے تھے .....انہوں نے ”بڑا بھائی “کے مزار پر سلام کا پروگرام بنایا.....”کانے پنڈت“نے انہیں ورغلایا جس پر پنڈت کا خاندان ختم ہو گیا.......کہتے ہیں لیسر گاﺅں کا میراثی مانگ تانگ کر گھر گیا.... بیوی کو کہا کہ یہ سامان رکھ لو..... وہ مذاق میں بولی تم کونسا”بڑا بھائی “ لے آئے ہو ..... وہ سیدھا دربار پہنچا..... حضرت نے فرمایا کیا چاہتے ہو ؟ کہنے لگا میرے گھر چلیں .....آپ اس کے گھر گئے اور وہاں چودھری کی”نابینا “بیٹی کو خدا کے فضل سے بینا کردیا ۔ اس کرامت سے پورا علاقہ مسلمان ہو گیا .....اس گاﺅں میں چھوٹا سانشان آج بھی ”بڑا بھائی “کے نام مشہور ہے.....کہا جاتا ہے کہ بڑا بھائی مسرور کا گاؤں مشرق کی جانب اور مزاریعنی راجہ گنیا سنگھ کے محلات والا حصہ مغرب کی طرف تھا..... کٹاﺅ کی وجہ سے گاﺅں کا مشرقی حصہ گرتا گیا مگر حضرت کے حکم سے دریا ایک میل دور چلا گیا .....ڈاکٹر مبارک غوری نے”تذکرہ“میں خواجہ صاحب کی ایک اور کرامت کا ذکر کیا ہے کہ ”بڑا بھائی “مسرور" میں ”چور “نہیں آتے کیونکہ وہ اگر یہاں چوری کی نیت سے آئیں تو ”اندھے“ہو جاتے ہیں........71کی پاک ،بھارت جنگ میں یہ علاقہ انڈیا کے قبضے میں چلا گیا.....بھارتی فوج اس علاقے کو ویران کرتے ہوئے سوئی تک لے گئی لیکن حضرت عبدالسلام چشتیؒ کے مزار کو چھوا تک نہیں ،جو ان کی کرامت کا منہ بولتا ثبوت ہے .....

 بڑا بھائی مسرورمیں 9گزلمبی  قبریں بھی ہیں .... ”سیالکوٹ سے خیبر تک “کے مصنف جناب زمان خان ایڈووکیٹ کے مطابق ان نوگزہ مزاروں میں کافی بزرگان دین آسودہ خاک ہیں  ....یہ مسلمان فوج کے ہراول دستے کے سپاہی تھے جو  پرچم لیکر "علمبرداری" کا فریضہ اداکرتے اور شہید ہونے پر جھنڈوں سمیت دفن کر دیئے گئے.........

افسوس صد افسوس پیروں فقیروں کے سامنے پلکیں بچھانے والی اس دھرتی کے " عقیدت مندوں "نے اتنے بڑے ولی اللہ کو ایک سالانہ عرس تک "محدود" کردیا.......چاہیے تو یہ تھا کہ یہاں کے" صاحبان اقتدار" خواجہ صاحب کی تعلیمات عام کرنے کے لیے ان کے نام سے کوئی "سرکاری ادارہ" قائم کرتے....شکرگڑھ شہر کے ایک آدھ بڑے تعلیمی ادارے کو ان سے منسوب کیا جاتا.......اور کچھ نہیں تو ان کی درگاہ کو جانے والی سڑک کو کارپٹڈ کرکے اسے خواجہ عبدالسلام چشتی روڈ کا نام دے دیا جاتا کہ دوسرے شہروں سے آنے والے زائرین دعائیں دیتے.......لیکن اللہ والوں کی خدمت تو نصیب کی بات ہے......دنیا کے بکھیڑوں میں الجھے سیاستدانوں کو کون سمجھائے کہ یہ ایم این اے اور ایم پی اے شپ.....یہ عہدے، منصب اور کرسیاں عارضی ہیں......آخر سب کچھ "رزق خاک" ہو جائے گا.....کبھی یہاں راجے مہاراجے "راج" کیا کرتے تھے....آج ان کا نام و نشان نہیں.....ہاں" بوریا نشین فقیروں" کی "سلطنت "کو زوال نہیں....وہ دلوں پر" حکومت "کرتے رہیں گے....ان کی قبروں پر "دئیے"جلتے رہیں گے.........!!!

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

  ۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -