” اگلے آرمی چیف کی تعیناتی پر عمران خان اپنی مرضی کرنا چاہتے تھے تاکہ ۔۔“ خواجہ آصف نے بڑا دعویٰ کر دیا 

” اگلے آرمی چیف کی تعیناتی پر عمران خان اپنی مرضی کرنا چاہتے تھے تاکہ ۔۔“ ...
” اگلے آرمی چیف کی تعیناتی پر عمران خان اپنی مرضی کرنا چاہتے تھے تاکہ ۔۔“ خواجہ آصف نے بڑا دعویٰ کر دیا 

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہاہے کہ اگلے آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے پر عمران خان اپنی ذاتی مرضی کرنا چاہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ایسا ہو کہ ان کے سیاسی مفادات اور حکمرانی کے تسلسل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں خواجہ آصف کا کہناتھا کہ یہ وزیر اعظم کی صوابدید ہے کہ فوج کے بھیجے ناموں میں سے کسی کو منتخب کر لے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ 2013 اور پھر 2016 میں دو آرمی چیفس کی تعیناتی ہوئی۔ اور اس وقت کے وزیر اعظم نے میرٹ کی بنیاد پر فیصلے کیے اور فوج کی جانب سے ریکمنڈیشن کا مکمل احترام کیا۔نواز شریف، جنرل راحیل شریف کو نہیں جانتے تھے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کی تعیناتی کے وقت انھیں وزیراعظم اس لیے جانتے تھے کہ وہ راولپنڈی کور کمانڈ کر رہے تھے۔ مگر دونوں مرتبہ ادارے کی تجویز کا احترام کیا گیا۔ اور اسی دائرے میں رہتے ہوئے دونوں سربراہان تعینات کیے گئے۔ اب بھی اسی طرح میرٹ پر تعیناتی ہو گی۔آصف کا کہنا تھا کہ اگر لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا نام سینیارٹی لسٹ میں ہوا تو بالکل غور کیا جائے گا۔ ان سب ناموں پر غور ہو گا جو کہ اس فہرست میں موجود ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ عمران خان ان دو تین بیانیوں کے پیچھے اپنی ناکامی چھپا رہے ہیں جو بدقسمتی سے عوام میں مشہور ہو جاتے ہیں۔ وہ بیک وقت مذہب کی وکٹ پر کھیل رہے ہیں اور اس کے ساتھ امریکہ مخالف بیانیہ بھی دہرا رہے ہیں۔مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما کا کہنا تھا کہ عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ روایتی سیاستدانوں کے متبادل کے طور پر ہی سامنے لائی تھی۔عمران خان کو بتدریج بلڈ اپ کیا گیا کہ ایک نیا آدمی لایا جائے جس کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ زیادہ کمفرٹیبل ہو۔ روایتی سیاستدان کے ساتھ کبھی پیار زیادہ ہو جاتا اور کبھی کم ہو جاتا تھا۔ تو انھوں نے سوچا کہ اب یہ نیا آدمی ہے، سیاست میں تازگی لائی جائے۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ یہ تجربہ کیا گیا اور اس سے ملک کو نقصان ہوا۔ آج عمران خان کو سوٹ نہیں کرتا کہ ادارے نیوٹرل ہو جائیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ وہ اقتدار میں ہوں اور ادارے انھیں بیساکھیاں مہیا کریں۔خواجہ آصف کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان کی جانب سے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ ’شرمناک‘ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چار سالوں میں ہر چیز ایک شخص کی ذات کے گرد گھومتی رہی۔ معیشت، خارجہ پالیسی سے متعلق اقدامات یا اداروں کے درمیان تعلقات، سب انہی کی خواہشات کو سامنے رکھ کر طے پایا گیا۔ یعنی اگر ادارے ماتحت کے طور پر کام کریں تو عمران خان کے لیے ٹھیک ہے۔ لیکن اگر ادارے اپنے آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کریں تو عمران خان خوش نہیں ہیں۔ چاہے وہ عدلیہ ہو، فوج، پارلیمان یا میڈیا ہو۔ میرے خیال میں عمران خان کا فوج مخالف بیانیہ زیادہ عرصہ نہیں چلے گا اور خود ہی ختم ہو جائے گا۔

مزید :

قومی -