بھارتی خصوصی عدالت کا حریت رہنما یاسین ملک کے خلاف یکطرفہ ٹرائل ،وزیراعظم آزاد کشمیر کی مذمت

بھارتی خصوصی عدالت کا حریت رہنما یاسین ملک کے خلاف یکطرفہ ٹرائل ،وزیراعظم ...
بھارتی خصوصی عدالت کا حریت رہنما یاسین ملک کے خلاف یکطرفہ ٹرائل ،وزیراعظم آزاد کشمیر کی مذمت

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس خان نے معروف حریت پسندکشمیری رہنما یاسین ملک کے خلاف بھارتی خصوصی عدالت کی جانب سے یکطرفہ ٹرائل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ممتاز آزادی پسند رہنما چیئرمین جموں کشمیر لبریشن فرنٹ محمد یاسین ملک کے خلاف دہلی کی عدالت میں مودی حکومت کے جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات کی کارروائی شروع ہے جس کا کوئی جواز نہیں۔ یٰسین ملک کے خلاف بھارتی خصوصی عدالت میں ٹرائل بالکل یکطرفہ ہے۔ یاسین ملک کی ساری زندگی بھارتی قابض افواج کے خلاف مزاحمت میں گزری ہے، انہوں نے بھارتی ناجائز قبضے کو تسلیم نہیں کیا یہی وجہ ہے کہ ان کے خلاف پہلے قید و بند کی صعوبتیں شروع کی گئیں اور جب یہ صعوبتیں یاسین ملک کو جھکانے میں ناکام رہیں تو ان کے خلاف من گھڑت، بے بنیاد اور جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے، ان مقدمات کے خلاف دوران ٹرائل یٰسین ملک نے بجائے وکیل کے خود پیروی کی جس میں یٰسین ملک کو تہاڑ جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعہ محض حاضری کیلئے پیش کیا جاتا رہا۔ کسی بھی موقع پر یٰسین ملک کو نہیں سنا گیا۔ گواہوں کی شہادتوں پر یٰسین ملک کی طرف سے ازخود جرح کے مطالبہ کو مسترد کرتے ہوئے گواہوں سے جرح نہیں کرنے دی گئی جس پر یٰسین ملک نے عدالتی عمل کا بائیکاٹ کیا، خصوصی عدالت نے اس بائیکاٹ کو بادی النظر میں الزامات کو تسلیم کیا جانا طے کیا جس پر 19 مئی کو سزا سنائی جائے گی۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ یٰسین ملک کو سیاسی انتقام اور بھارت بھر میں جاری مذہبی منافرت کی لہر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یاسین ملک کی طرف سے الزامات تسلیم کرنے کی خبر بد نیتی پر مبنی ہے اور اس کا پس منظر بتانے سے گریز کیا جا رہا ہے۔ بھارتی میڈیا یہ خبر ایک خاص مقصد کے ساتھ پھیلا رہا ہے۔ سردار تنویر الیاس خان نے مزید کہا کہ یاسین ملک سیاسی قیدی، آزادی پسند رہنما ہیں اور اپنی قوم کی آزادی کے لیے پر امن سیاسی جدوجہد کر رہے ہیں۔جس طرح مہاتما گاندھی اور نہرو نے ہندوستان میں انگریز کے خلاف جدوجہد کی۔ انہوں نے اس خدشہ کا اظہار کیا کہ بھارتی انتہا پسند حکومت آنے والے انتخابات سے قبل بھارتی انتہاء  پسندوں کی جذباتی حمایت حاصل کرنے کے لیے محمد یٰسین ملک کو انتقام کا نشانہ بنا سکتی ہے۔ جس کے لئے وہ میڈیا کے ذریعے بے بنیاد پروپیگنڈا پھیلا کر رائے عامہ ہموار کر رہی ہے۔ بھارتی میڈیا کے منفی پروپیگنڈہ کا موثر جواب دینا ہو گا۔ ریاست جموں کشمیر کے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ بھارتی میڈیا کی خبریں کاپی پیسٹ نہ کریں اس سے بھارتی بیانیئے کو پذیرائی مل رہی ہے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ اس معاملے میں آزاد کشمیر کی دیگر سیاسی جماعتوں، حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں سمیت انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی اداروں کے ساتھ بھی رابطے کریں گے۔وزیر اعظم سردار تنویر الیاس نے مزیدکہا کہ بھارت عدالتوں کے ذریعے کل جماعتی حریت کانفرنس کے دیگر رہنماوں چیئرمین مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، نعیم احمد خان، فاروق احمد ڈار، شاہد الاسلام، الطاف احمد شاہ، ایاز محمد اکبر،معراج الدین کلوال، پیر سیف اللہ، ڈاکٹر عبدالحمید فیاض اور محترمہ آسیہ اندارابی سمیت تمام گرفتار سیاسی رہنماؤں، سول سوسائٹی کے نمائندوں، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور صحافیوں کو طویل عرصے تک جیلوں میں رکھ کر ان کی آواز کو دبانا چاہتاہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے اپیل ہے کہ وہ بھار ت کی جیلوں میں زیرحراست دیگر کشمیری رہنماؤں کی رہائی کے لیے سنجیدہ کوشش کریں۔ یہ لوگ سیاسی قیدی ہیں اور کشمیر کی آزادی کیلیے سیاسی جدوجہد کوئی جرم نہیں۔ انہیں انصاف دلانا اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔سردار تنویر الیاس  نے دنیا بھر میں آباد کشمیریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ زیرحراست کشمیری لیڈروں کے ساتھ رکھے گے ناروا سلوک پر بھارتی حکومت کے خلاف بھرپور مہم چلائیں۔ امریکی کانگریس، برطانوی اور یورپی پارلیمنٹ کے علاوہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو بھی متحرک کریں۔

مزید :

قومی -