پاکستانی افواج، کوئی مقابل نہیں دور تک
پاکستان کی مسلح افواج نے پاکستانی قوم اور دنیا کیساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ اللہ کے فضل وکرم سے پورا کردیا ہے۔بھارتی فوج کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے پر وزیر اعظم میاں شہبازشریف نے پاکستان کی مسلح افواج کو شاباش دیتے ہوئے خراج تحسین پیش کیا ہے۔آپریشن بنیان المرصوص میں انڈیا کی اہم فوجی تنصیبات تباہ کردیں ۔چندی گڑھ میں اسلحہ ڈپو،سری نگر،گجرات اورجالندھرکی ایئربیس کو اڑا دیا گیا۔راجستھان اوردہلی میں بھارت کی فوجی تنصیبات کو صفحہ ہستی سے غائب کردیا گیا۔پٹھان کوٹ،ادھم پوراورآدم پورمیں ایئر فیلڈ کو ہوا میں تحلیل کردیا گیا۔ہماری مسلح افواج نے پاکستان میں دہشت گردی کروانے والا بھارتی ملٹری انٹیلی جینس کا تربیتی مرکز بھی تباہ کردیاہے۔بھارت کی سرسہ ائیر فیلڈ کو بھی تباہ کردیا گیا جس کی تصدیق خود بھارتی میڈیا نے خود کی۔پاک فوج نے بھارتی مہاراشٹرا سٹیٹ الیکٹرسٹی ٹرانسمیشن کمپنی لمیٹڈ پربھی سائبرحملہ کیا جس کے نتیجے میں بجلی مکمل طور پر بند ہوگئی۔موجودہ صورتحال میں امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیونے وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف اورآرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سےٹیلیفونک رابطہ کرکے پاک بھارت کشیدگی کو کم کرنے کے لیے تعاون کی پیشکش کی ہے۔
وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے امریکہ کو اصولی جواب دے کرقومی امنگوں کی ترجمانی کی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی روز سے جاری جنگی جھڑپوں کے پیش نظروزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف سے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ٹیلی فونک رابطہ کیا تووزیر اعظم نے دوٹوک اور اصولی موقف اپنایاکہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع میں کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔اس موقع پرپاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈارنے ٹھیک کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا تھا بھارت اپنا کام کرتاجائے اور ہم انتظار کرتے رہیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان 6 اور 7 مئی کی شب ہونے والی فضائی جھڑپ نے بھی دنیا بھر کی توجہ حاصل کی اور اسے جدید فضائی ہتھیاروں، پائلٹوں کی مہارت اور لڑاکا طیاروں کی کارکردگی کو جانچنے کا ایک بہترین موقع قرار دیا ۔چینی ساختہ پاکستانی لڑاکا طیاروں اور فرانسیسی ساختہ بھارتی رافیل طیاروں کے درمیان ہونے والی اس فضائی جھڑپ کا دنیا بھر کی افواج تجزیہ کریں گی تاکہ مستقبل کی جنگوں میں برتری حاصل کرنے کے لیے قیمتی معلومات حاصل کی جا سکیں۔پاکستان اور بھارت کی فضائیہ کے درمیان 6 اور 7 مئی کی شب ہونے والی جھڑپ حالیہ تاریخ کی سب سے بڑی اور طویل ترین لڑائی تھی۔
اس فضائی جھڑپ میں چین کے تیار کردہ پاکستانی طیارے جے 10 اور فرانسیسی ساختہ بھارتی رافیل لڑاکا طیارے آمنے سامنے آئے۔سینیئر پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے امریکی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ ایک گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی اس لڑائی میں دونوں طرف کے تقریباً125 طیارے شریک تھے، دونوں ملکوں کے جنگی طیارے اپنی فضائی حدود سے باہر نہیں نکلے۔ اس لڑائی کے دوران کچھ موقعوں پر 160 کلومیٹر کے فاصلے سے بھی ایک دوسرے پر میزائل داغے گئے۔ترجمان پاک فوج کے مطابق پاکستان نے بھارتی حملوں کا بھرپور جواب دیتے ہوئے 5 بھارتی طیاروں کو مار گرایا جن میں 3 فرانسیسی ساختہ رافیل طیارے شامل تھے۔2 امریکی حکام نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ6 اور 7 مئی کی شب کو پاکستانی فضائیہ کے ایک چینی ساختہ جنگی طیارے نے کم از کم 2 بھارتی فوجی طیاروں کو مار گرایا۔
امریکی عہدیداروں نے برطانوی خبررساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے چینی ساختہ جے 10 طیارے نے 6 اور 7 مئی کی شب کو 2 بھارتی طیارے مار گرائے۔ امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ پاکستان نے چینی ساختہ جے 10 طیارے سے بھارتی لڑاکا طیاروں پر فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل داغے۔عہدیدار کے مطابق چینی ساختہ جے 10 طیارے سے داغے گئے میزائلوں سے 2 طیارے مار گرائے گئے۔ایک اور عہدیدار نے کہا کہ مار گرائے جانے والے بھارتی طیاروں میں کم از کم ایک فرانسیسی ساختہ رافیل طیارہ ضرورتھا۔
عہدیدار کے مطابق بھارت کے خلاف کارروائی میں امریکی ساختہ ایف 16 طیارے استعمال نہیں کیے گئے۔ پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی بھارت کے خلاف کارروائی میں جے10طیارے استعمال کرنے کی تصدیق کی تھی۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بھارت کے 3 رافیل طیارے مار گرانے میں جے 10 طیارہ استعمال کیا گیا۔اس سے قبل فرانس کے ایک اعلیٰ انٹیلی جنس اہلکار نے امریکی میڈیا کو تصدیق کی تھی کہ پاکستان نے بھارتی فضائیہ کا ایک رافیل لڑاکا طیارہ مار گرایا ہے۔فرانسیسی اہلکار نے کہا کہ فرانسیسی حکام یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا پاکستان نے واقعی ایک سے زائد رافیل طیارے مار گرائے۔
پاکستانی فضائیہ نے بھارت کی اس جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا اور دشمن کے فضائی حملے کو نہ صرف مؤثر انداز میں ناکام بنایا بلکہ دشمن کے قیمتی طیارے بھی تباہ کردئیے۔ بھارت نے پاکستان کے 5 مقامات پر میزائل داغے، جس پر بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے پاک فضائیہ نے بھارت کے 5 جہاز اور ایک کمبیٹ ڈرون مار گرایا۔پاک فضائیہ نے جن بھارتی طیاروں کو نشانہ بنایا ان میں فرانسیسی کمپنی کے تیار کردہ جدید طرز کے رافیل طیارے بھی شامل تھے۔
ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کو پاکستان کیخلاف6 اور 7 مئی کی شب جارحانہ آپریشن ’سندور‘ کے دوران بدترین فضائی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔اس نقصان میں مجموعی طور پر 956 ملین امریکی ڈالر (تقریباً 267 ارب روپے) کے جنگی طیارے تباہ ہو گئے، پاکستان ائیر فورس نے 3 رافیل، ایک Su-30MKI اور ایک MiG-29 طیارہ تباہ کر ڈالا۔
دستیاب معلومات کے مطابق بھارت کے 3 جدید رافیل طیارے تباہ ہوئے جن کی فی طیارہ قیمت 288 ملین ڈالر (تقریباً 80.6 ارب پاکستانی روپے) تھی۔ اس کے علاوہ ایک Su-30MKI طیارہ بھی تباہ ہوا جس کی مالیت 62 ملین ڈالر (تقریباً 17.4 ارب روپے) بتائی گئی ہے جب کہ ایک MiG-29 طیارہ بھی مار گرایا گیا جس کی قیمت 30 ملین ڈالر (تقریباً 8.4 ارب روپے) کے لگ بھگ ہے۔
رافیل طیاروں کی تباہی کے بعد رافیل بنانے والی فرانسیسی کمپنی ڈسالٹ ایوی ایشن (Dassault Aviation) کے شیئرز میں نمایاں کمی واقع ہوئی ۔ڈسالٹ ایوی ایشن کے شیئرز کی قدر میں 1.64 فیصد کمی آئی ،جب اس سے قبل گزشتہ 5 روز کے دوران کمپنی کے شیئرز کی قدر میں 3.4 فیصد کا اضافہ ہوا تھا۔غیر ملکی خبر ایجنسیوں کی متعدد رپورٹس کے مطابق پاک فوج کی جانب سے رافیل طیاروں کی تباہی کی خبروں کے بعد فرانسیسی کمپنی کے عالمی مارکیٹ میں شیئرز گر گئے ، یورپی اسٹاک مارکیٹ میں ڈسالٹ کمپنی کے شیئرز منفی رجحان کا شکار ہوئے۔رافیل طیاروں کو جدید ٹیکنالوجی کے حامل جنگی طیارے سمجھا جاتا ہے جو بھارتی فضائیہ کے زیر استعمال ہیں۔
خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق اپریل 2025میں ہندوستانی وزارت دفاع کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ بھارت نے فرانس کے ساتھ 630 ارب روپے (7.4 بلین ڈالر) کے 26 رافیل لڑاکا طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا ۔ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کو ایک رافیل طیارہ 288 ملین ڈالر کا پڑے گا۔ہندوستانی وزارت دفاع کے مطابق بھارت فرانسیسی کمپنی سے 22 سنگل سیٹر اور چار ٹوئن سیٹر فائٹر خریدے گا۔
رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں بھارت وزارت دفاع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طیاروں کی ترسیل 2030 تک مکمل ہو جائے گی، عملہ فرانس اور بھارت میں زیر تربیت ہے۔ہندوستانی فضائیہ اس وقت 36 رافیل لڑاکا طیارے چلا رہی ہے جبکہ بھارتی بحریہ کے پاس روسی مگ 29 جیٹ طیارے ہیں۔رافیل طیارے فرانسیسی ائیر اینڈ اسپیس فورس، فرانسیسی بحریہ، مصری ائیر فورس اور بھارتی ائیر فورس کے پاس ہیں۔ڈسالٹ ایوی ایشن اب تک 299 رافیل طیارے بنا چکی ہے۔
معروف فرانسیسی اخبارلی مونڈے نے بھارت کےجھوٹ اور پروپیگنڈے کو بے نقاب کردیا۔پاکستان میں فضائی آپریشن نے بھارتی فضائیہ کی کمزوریوں کو ظاہرکردیا ہے، فرانسیسی اخبارکے مطابق بھارت کے لڑاکا طیاروں بالخصوص رافیل کا تباہ ہونا بھارتی فضائیہ کیلئے شدید شرمندگی اور دھچکا ہے۔بھارت نے کم از کم تین لڑاکا طیاروں کے نقصان کوتسلیم کرلیا ہے، پاک فضائیہ کے ہاتھوں تباہ ہونے والے بھارتی لڑاکا طیاروں میں رافیل بھی شامل ہے ، بھارت کےسکیورٹی ذرائع نے فرانس کی خبر رساں ایجنسی کو طیاروں کی تباہی کے حوالے سے تصدیق کی ۔
بھارت نےاپنی فضائیہ کی استعداد بڑھانے کیلئے 2016ء میں36 رافیل طیارے تقریباً 8 ارب یورومیں خریدے تھے، ، فرانسیسی اخباردسمبر 2024 میں بھارت کے آڈیٹر جنرل کی ایک رپورٹ میں بھارتی فضائیہ کے تکنیکی مسائل اور تربیت پر سنگین سوالات اٹھائے گئے تھے،پاکستانی فضائیہ کے پاس 15 سال انسداد دہشت گرد کی کارروائیوں کی وجہ سےجنگی آپریشنز کابھارت سے زیادہ تجربہ ہے،پاکستان کے پاس جدید چینی ساختہ لڑاکا طیارے بھارت کےمقابلے کیلئے موجودہیں،بھارت نے میڈیا کو لڑاکا طیاروں کی تباہی کی خبر ہٹانے پر مجبور کیا،بین الاقوامی جریدے کی بھارتی لڑاکا طیاروں کی تباہی کی خبر مودی حکومت اور بھارتی فضائیہ کی نااہلی کو ظاہر کرتی ہے، بھارتی فضائیہ کی نااہلی اور بھارت کے بزدلانہ حملے اور شرمندگی پر بین الاقوامی میڈیا نے بھی مہر ثبت کردی ۔
پاکستان اور بھارت کی فضائیہ کی یہ جھڑپ دنیا بھر کی افواج کی گہری توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ جھڑپ آئندہ جنگوں کے لیے حکمتِ عملی اور جنگی صلاحیتوں کا اندازہ لگانے کے لیے ایک بہترین موقع ہے۔یہ فضائی جھڑپ دیگر ممالک کی افواج کے لیے ایک بہترین موقع ہے کہ وہ اس لڑائی میں پائلٹس، لڑاکا طیاروں اور فضاء سے فضاء میں مار کرنے والے میزائلوں کی کارکردگی کا مطالعہ کریں اور اس معلومات کو اپنی فضائی افواج کو جنگ کے لیے تیار کرنے میں استعمال کریں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اور پاکستان کی جانب سے جدید ہتھیاروں کے عملی استعمال کا دنیا بھر میں بالخصوص چین، امریکا اور دیگر یورپی ممالک میں تفصیلی تجزیہ کیا جائے گا۔انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے سینیئر رکن کا کہنا ہےکہ امریکا اور کئی یورپی ممالک کی فضائیہ پاک بھارت معرکے میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں، طریقہ کار اور حکمتِ عملی کے ہر پہلو کا گہرائی سے تجزیہ کرنے میں دلچسپی لیں گی۔
۔
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نکتہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
