خواہشات کی درازی کا عُقدہ

خواہشات کی درازی کا عُقدہ
 خواہشات کی درازی کا عُقدہ

  

افراتفری کے اِس دور میں اپنی عادات اور اطوار پر ناقدانہ نگاہ ڈالنے کا یوں تو کبھی کم ہی وقت ملتا ہے، لیکن کبھی کبھی ایسے چند لمحات میسر آہی جاتے ہیں۔ سوچتا ہوں کہ کیا اپنے اندر صبر صرف اتنا ہی رہ گیا ہے کہ جب کسی دعوت میں کھانے سے’ انصاف ‘ کااِذن ملتا ہے تو قدم فوراً آگے نہیں بڑھتے۔دو تین منٹ تک بھیڑ چھٹ جانے کا انتظار کرلیتا ہوں۔اکثر یہ تامل بہت مہنگا پڑتا ہے اور میں کھانے سے’انصاف‘ نہیں کرپاتا۔ وجہ یہ نہیں ہوتی کہ قابیں خالی ہوتی ہیں ،بلکہ اِس لئے کہ اتنی دیر میں لوگ پلیٹوں میں بوٹیوں کے اتنے بڑے بڑے انبار لگا لیتے ہیں کہ جنہیں دیکھ کر میرے اندر کراہت کی اتنی زبردست لہر اُٹھتی ہے کہ بمشکل تھوڑ ا سا سالن اور ایک آدھ نان لے کر کسی گوشے میں جا بیٹھتا ہوں۔اِس لمحے مجھے حکیم محمد سعید شہید بہت یاد آتے ہیں۔

حکیم صاحب مرتبہ¿ شہادت پر فائز ہوئے تو جناب مجیب الرحمن شامی نے اُن کی یاد میں قومی ڈائجسٹ کی خصوصی اشاعت ترتیب دینے کا حکم دیا۔ اُس وقت” قومی ڈائجسٹ “ کی ادارتی ذمہ داری میرے سپرد تھی، چنانچہ میں نے ایک تو حکیم صاحب کے بارے میں لکھے گئے مضامین اور کالم وغیرہ جمع کئے، دوسرے ،کچھ لوگوں سے انٹرویوز کئے۔اِن تحریروں اور زبانی یادداشتوں سے انکشاف ہوا کہ حکیم صاحب جب کسی تقریب میں شریک ہوتے تو فقط سلاد سے شاد کام ہوتے۔لذیذ سے لذیذ کھانوںکی طرف نظر اُٹھا کر نہ دیکھتے۔میزبان کہتے رہ جاتے حکیم صاحب! ذرا چکھ تو لیں،نہ آپ نے قورمہ لیا اور نہ بریانی سے اعتنا فرمایا۔ حکیم صاحب کا ایک ہی جواب ہوتا،بھئی میرے لئے بس اتنا ہی کافی ہے!

ہمدر د سنٹر لٹن روڈ (لاہور) کے کارکنان نے حکیم صاحب کی ایک اور عادت کا بھی ذکر کیا۔ بتایا کہ وہ لاہور تشریف لاتے تو سنٹر ہی میں قیام فرماتے۔ اِس دوران میں اپنی ذاتی استعمال کی اشیاءمثلاً رومال، بنیان،جرابیں وغیرہ خود دھوتے۔ہم لوگ اصرار کرتے کہ یہ خدمت ہمیں سونپ دیں ،لیکن وہ ہمیشہ انکار کردیتے۔اِن باتوں سے مجھ پر حکیم صاحب کیSmartness کا راز کھل گیا۔

حکیم صاحب کا یہ مجاہدہ مجھے بہت پسند ہے اور اِس پر عمل کرنے کو جی بھی چاہتا ہے ،لیکن معلوم نہیں کیوں عمل نہیں کرپاتا۔یہ نہیں کہ مجھے کم خوراکی یا بھوک کے مطابق کھانے کے فوائد کا علم نہیں۔ میرے علم میں تویہ ارشادِ نبویﷺ بھی ہے کہ صحت چاہتے ہو تو ایک دو لقموں کی اشتہاءباقی ہو تو کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا کرو۔

یاد آتا ہے کہ قناعت او رصبر کا درس پہلے پہل والدہ مرحومہ ومغفورہ سے ملا تھا۔وہ یوں کہ مجھے اور چھوٹے بھائی کو بچپن میں ناشتے میں ایک پراٹھا ملتا تھا۔تلقین ہوتی کہ اِسی پر قناعت کرو،ا ور نہیں ملے گا، لیکن میر ی بے صبری کا یہ عالم ہوتا کہ کھانا کھاتے ہوئے بڑی معصومیت کے ساتھ اپنا پراٹھا چھوٹے بھائی کے پراٹھے کے اُوپر رکھتا اور لقمہ توڑتے ہوئے ساتھ ہی ساتھ اُس کے پراٹھے پر بھی ہاتھ صاف کرجاتا۔اِس بے چارے کے فرشتوں کو بھی خبر نہ ہوتی کہ اِس کے ساتھ کیا ہاتھ ہوگیا ہے۔سوچتا ہوں انسانی خواہشات کی بے لگامی کا سفر بچپن ہی میں شروع ہوجاتا ہے۔یہ تو گھر،خاندان،معاشرے اور ریاست کا فرض ہوتا ہے کہ وہ تربیت کے ایسے سانچے بنائیں جن میں بچوں کی شخصیت دھیرے دھیرے باشعور اور مہذب شہری میں ڈھل جائے۔

مولانا ابو اعلیٰ مودودی ؒ کی ایک بیٹی نے کہیں لکھا ہے کہ والد صاحب پھل وغیرہ گھر لاتے تو زیادہ مقدار میں لاتے۔ مقصد یہ ہوتا تھا کہ بچے سیر چشم ہوجائیں،بلاشبہ قناعت کا درس دینے کی یہ بھی ایک درست تکینک ہے ،لیکن کم وسائل رکھنے والے لوگ اولاد کے لئے بہت وافر مقدار میں پھل،مٹھائیاں وغیرہ کہاں سے لائیں۔ خاص طور پر اِس دور میں جب کہ کاروباری لوگوں کی ہوس زر آسمان پر پہنچ گئی ہے۔مجھے اور میرے بردارِخُرد کو لڑکپن ہی میں یتیمی کے دن دیکھنے پڑے۔ عزیزوں کا خدا بھلا کرے ،اُنہوں نے اِس مشکل وقت میں ہمارے سروں پر ہاتھ رکھا ،کسی موڑ پر ڈولنے نہیں دیا۔ والدہ صاحبہ محنت مشقت بھی کرتی تھیں اور خرچ کے معاملے میں اتنی احتیاط ملحوظ رکھتیں کہ سر پر قرض کا بار کبھی نہ آیا۔

بازار سے سبزی لے کر گھر لوٹتیں تو میں سارے کام چھوڑ کر فوراً ٹوکری کی طرف لپکتا۔ سبزی کے ساتھ ضرور کوئی پھل وغیرہ ہوتا جو کوالٹی کے اعتبار سے دوسرے یا کبھی تیسرے درجے کا ہوتا تھا ،لیکن نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوتا۔پھر وہ وضاحت کرتیں کہ راستے میں ایک ریڑھی پر میں نے یہ پھل دیکھا تو لے لیا، کیونکہ کچھ ٹھیک ہی لگا اور سستا بھی مل گیا۔آج جب میں خود اِس سے کہیں بہتر معیار کا پھل خرید کر گھر لاتا ہوں تو سچی بات ہے اُسے کھاتے ہوئے اتنا مزہ نہیں آتا، جو اُس معمولی درجے کے پھل سے آتا تھا۔یقینا اِس میں ماں کے ہاتھوں کے لمس کو دخل ہوتا تھا۔اِس شفقتوں بھرے ماحول کا اعجاز ہے کہ میری خواہشات بہت بے لگام نہ ہونے پائیں۔

خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ احساس کی نعمت میسر ہے ،جس کی وجہ سے اپنے اندر کشمکش لگی رہتی ہے کہ حکیم صاحب شہید کی طرح کا ضبطِ نفس حاصل ہوجائے۔اہلِ عرفان کا کہنا ہے کہ صرف علم ضروری نہیں ہوتا، جب تک تربیت میسر نہ آئے اور وہ کسی صاحب ِ نظر کی پیروی ہی سے مل سکتی ہے۔اُسے تلاش کرو ،سچے جذبے اور استقلال کے ساتھ تلاش کرو کہ دُنیا ایسے لوگوں سے کبھی خالی نہیں رہی!   ٭

مزید :

کالم -