صدر اوباما کی جیت.... اور جیت کے بعد

صدر اوباما کی جیت.... اور جیت کے بعد
صدر اوباما کی جیت.... اور جیت کے بعد

  

صدر اوباما دوسری مدت کے لئے واضح اکثریت کے ساتھ جیت گئے ہیں۔ وہ امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر ہیں۔ وہ اینڈریو جیکسن، گرورکلیو لینڈ، ووڈروولسن، فرینکلن ڈی روز ویلٹ اور بل کلنٹن کے بعد ایسے ڈیموکریٹ صدر ہیں جو دوسری بار منتخب ہوئے ہیں۔ سی این بی سی کے جم کریمر نے پیش گوئی کی تھی کہ صدر اوباما 440 بمقابلہ 98 جیتیں گے، جبکہ ایک یہودی تجزیہ کار جوزف ویزن تھال نے کہا تھا کہ مَیں بے حد خوش فہمی کی حالت میں باراک اوباما کی جیت کو تصور میں ہی نہیں لاسکتا۔ صدر اوباما کو الیکٹرول ووٹ میں 206 کے مقابلے میں 303 ووٹ ملے۔ یہ ایک بہت ہی واضح برتری ہے۔ پاپولر ووٹ (عوامی ووٹ) میں 5 کروڑ 69 لاکھ 61 ہزار 2 سو تیس کے مقابلے میں 5 کروڑ 95 لاکھ، 84 ہزار ایک سو 23 ووٹ ملے۔ یہ 26 لاکھ 22 ہزار 8 سو ترانوے ووٹوں کی برتری ہے، جبکہ بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ باراک اوباما ضرور ہار جائیں گے، ورنہ ایک بار پھر ویسا ہی پیچ پڑ جائے گا، جیسا گور اور جارج ڈبلیو بش کے درمیان پڑا تھا۔ باراک اوباما کی جیت سے کچھ لوگوں کو بے حد صدمہ بھی پہنچا ہے، جن میں پراپرٹی کے بے تاج بادشاہ امریکی سرمایہ دار ڈونالڈ ٹرمپ بھی شامل ہیں۔ جنہوں نے اپنے صدمے کا بَرملا اظہار بھی کیا۔ دوسرا صدمہ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کو پہنچا۔ بدھ کی صبح نیتن یاہو کی کابینہ کے ایک وزیر ایلی ژیشائی نے اخبار نویسوں سے کہا: آج کی صبح وزیراعظم کے لئے Good morningنہیں ہے۔

باراک اوبامہ کی فتح کے ساتھ سینیٹ میں ڈیموکریٹس نے اپنی برتری میں اضافہ کیا ہے۔ ایوان نمائندگان میں ابھی تک ری پبلیکنز کی برتری قائم ہے۔ تاہم اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ یہاں حزب اختلاف کے اکثر نمائندے حکومت کے ساتھ ووٹ دیتے ہیں اور یہ ایوان کو چلانے والے پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ کس طرح دونوں جماعتوں کو ساتھ لے کر چلے۔ اسے یہاں Bi-Partisan کہا جاتا ہے اور یہ ایک خوبی شمار ہوتی ہے۔ یہاں کوئی اسے فرینڈلی اپوزیشن کا طعنہ دیتا ہے۔ نہ ”مک مُکا“ کی پھبتی کستا ہے، لیکن یہ خوبی ری پبلیکنز میں ڈیموکریٹس سے کہیں زیادہ پائی جاتی ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی جارج ڈبلیو بش کی جنگی پالیسیوں کی مخالفت کرتی رہی، لیکن ڈیموکریٹ نمائندے (کانگریس مین) بش کی جنگی پالیسیوں کی حمایت میں ووٹ دیتے رہے۔ ایوان نمائندگان کے انتخابات ہر جفت سال میں ہوتے ہیں اور یہ نمائندے دو سال کے لئے منتخب ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے 2014ءمیں ایک بار پھر ایوانِ نمائندگان کے لئے انتخابات ہوں گے اور اگر ڈیموکریٹس کارکردگی دکھا سکے تو ایوانِ نمائندگان میں اپنی پوزیشن بہتر بنا سکیں گے۔

صدر اوباما کی جیت کے اسباب کیا ہیں؟.... اس سوال پر کچھ تجزیہ کاروں نے اس طرح روشنی ڈالی ہے کہ مٹ رومنی کے ہارنے کے اسباب کیا ہیں؟.... مٹ رومنی کو امریکہ کے بڑے بڑے سرمایہ داروں ، بڑی بڑی کارپوریشنوں کی حمایت حاصل تھی، جنہوں نے جی کھول کر مٹ رومنی کو لاکھوں ڈالر کے عطیات دئیے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے گہرے دوست اور جوئے خانوں کے بے تاج بادشاہ شیلڈن مٹ رومنی کی مالی امداد میں سب سے بازی لے گئے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کی دولت مٹ رومنی کے لئے تھی۔ مٹ رومنی خود اب تک کے امریکی صدارتی امیدواروں میں راس پیرو کے بعد سب سے امیر ترین امیدوار تھے۔

ری پبلیکنز نے ریڈیو ، ٹی وی پر صدر اوباما کے خلاف اور مٹ رومنی کے حق میں بے حد مو¿ثر اشتہارات کی بھرمار کر رکھی تھی۔ امریکہ میں کسی بھی پراڈکٹ اور کسی بھی خیال کو مقبول بنانے کے لئے”سیلز مین شپ“ کے ماہرین اپنی مہارت استعمال کرتے ہیں اور ایسے ماہرین کی خدمات مٹ رومنی کو حاصل تھیں۔ اس کے مقابلے میں صدر اوباما اور اُن کی انتخابی ٹیم نے عوام پر انحصار کیا۔ صدر باراک اوباما، خاتون اول مشل اوباما، انتخابی مہم کے انچارج، رضا کاروں، سینیٹروں نے اپنی خصوصی ای میل بنائیں اور یہ ای میلز عام لوگوں کو مسلسل بھیجی گئیں، جن میں اوباما کی پالیسیوں کی وضاحت، ان کی عوام کے لئے اہمیت اور ری پبلیکنز کی طرف سے ان پالیسیوں کی مخالفت کا مختصر بیان ہوتاتھا اور اس کے ساتھ ہی اپیل کی جاتی تھی کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ اوباما ان کے حقوق کے تحفظ کے لئے سرگرم رہے تو اس کے انتخابی فنڈ میں کم از کم تین ڈالر اور زیادہ سے زیادہ دس بارہ ڈالر یا جتنا چاہیں حصہ ڈالیں۔ یہ دونوں باتیںلوگوں کو اپیل کرتی تھیں۔ ایک تو یہ گراس روٹ رابطے کی شکل تھی۔ دوسرے تین چار ڈالر کا عطیہ دینا کسی کو مشکل نہیں لگتا تھا، جو اس قدر معمولی عطیہ دے دیتا تھا، اسے صدر باراک اوباما کی طرف سے (اگرچہ یہ ای میل باراک اوباما خود آپریٹ نہیں کرتے تھے) شکرئیے کی ای میل ملتی تھی۔ مشل اوباما ،سینیٹر جان کیری، چک شومر اور جانے کتنے لوگ اس کا شکر ادا کرتے تھے۔ ان ای میلز میں ہمیشہ بتایا جاتاتھا کہ کلوچ برادران اور شیلڈن نے مٹ رومنی کو کتنے ملین ڈالر دے دئیے ہیں اور وہ کس ریاست میں کتنے ملین خرچ کر کے اشتہاری مہم چلا رہے ہیں۔ اکثر ای میلز میں ری پبلیکنز کے جمع کردہ فنڈز سے مقابلے کے لئے اتنی ہی رقم جمع کرنے کی اپیل کی جاتی تھی اور جب یہ رقم پوری ہو جاتی تھی تو ہر اس شخص کو جسے ای میل بھیجی گئی ہوتی تھی، خواہ اُس نے عطیہ دیا ہو یا نہیں، یہ خوش خبری سنائی جاتی تھی، شکریہ ادا کیا جاتاتھا اور کسی دوسرے محاذ کو فتح کرنے کے لئے عطیے کی اپیل دہرائی جاتی تھی۔ یہ سلسلہ نہایت کامیاب رہا۔ مجھے مٹ رومنی کی انتخابی مہم کی طرف سے ایک خط موصول ہوا، جس میں مٹ رومنی کے لئے عطیات دینے کی اپیل کی گئی تھی اور کم سے کم پانچ سو ڈالر کا عطیہ طلب کیا گیا تھا۔

 ری پبلکنز عیسائی اور یہودی بنیاد پرستوں کی جماعت بن کر رہ گئی ہے۔ اس انتخابی مہم میں ری پبلیکنز کے غیر روایتی میڈیا، بلا گز وغیرہ میں جس طرح مسلمانوں کی مخالفت کی گئی، وہ انتہا پسندانہ ہی نہیں معاندانہ بھی تھی۔ ری پبلیکن امیدواری کی دوڑ سے نکل جانے والے ایلن کینز کی زیر سرپرستی ایک ویب سائٹ پر ایک خاتون صحافی نے جو ایم اے صحافت کے ساتھ ساتھ عیسائیت کی تعلیم سے آراستہ تھیں، یہ سوال اٹھایا گیا کہ ایک مورمن (مٹ رومنی) کو ووٹ دینا چاہئے یا ایک مسلمان ( صدر باراک اوباما) کو؟ اس کے نزدیک مورمن بھی قابل قبول نہیں تھا، لیکن اس کا فیصلہ یہ تھا کہ بہتر ہے ایک مسلمان کے مقابلے میں مورمن کو ووٹ دیا جائے۔ اس سوچ اور اس فکر نے مسلمان ووٹروں کو ری پبلیکنز سے دور کر دیا اور اس بار پہلے سے زیادہ مسلمانوں نے باراک اوباما کو ووٹ دئیے۔ مسلمان یہ جانتے تھے کہ مٹ رومنی آئے یا باراک اوباما، امریکی پالیسی میں کوئی فرق نہیں ہوگا، لیکن اُنہیں کم از کم مسلمانوں سے نفرت کرنے والے عیسائی بنیاد پرستوں کو ووٹ نہیں دینا چاہئے۔ ری پبلیکنز نے گوروں اور بالخصوص متعصب گوروں، ٹی پارٹی اور جنوب کی ریاستوں کے ”سفید فام بالادستی“ کے حامیوں پر تکیہ کیا۔ وہ اقلیتوں، سیاہ فام، سپینش اور چینیوں یا ایشیائیوں کے دل جیتنے کے لئے کچھ نہ کر سکے۔ اوہائیو میں ری پبلیکنز کے آخری جلسے کے مقررین نے اپنی شکست کو بھانپ لیا تھا اور انہوں نے پارٹی کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنی اپروچ میں تبدیلی لائے۔ اس کی موجودہ سوچ سے خواتین اور اقلیتیں اس سے خوش نہیں ہیں۔

اوباما کے صحت بل کی جس طرح ری پبلیکنز نے مخالفت کی اور بَرملا کہا کہ وہ برسراقتدار آکر اسے ختم کر دیں گے، وہ غریب طبقات کے لئے قابل قبول نہیں تھا۔ کارپوریشنوں کے اعلیٰ عہدیداروں، امراءاور صاحب ثروت لوگوں کے لئے اس کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی، لیکن عام اور غریب امریکی کے لئے اس کی بے حد اہمیت ہے اور اس طبقے کی اکثریت ہے۔ ری پبلیکنز کی بڑی کارپوریشنوں کو ٹیکس میں رعایت دینے کی پالیسی بھی عام آدمی کو اپیل نہیں کرتی۔ ڈیموکریٹس اس کے مقابلے میں مڈل کلاس سے ٹیکس کا بوجھ کم کرنا چاہتے ہیں۔ دونوں کے اپنے اپنے مو¿قف کے بارے میں دلائل ہیں اور ہو سکتا ہے کہ ری پبلیکنز کی یہ دلیل سو فی صد درست ہو کہ سرمایہ داروں کو ٹیکس میں چھوٹ دینے سے سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے اور روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں، لیکن یہ سوچ عوام میں قبولیت نہیں پا سکتی کہ امیروں کو ٹیکس میں رعایت دی جائے اور غریبوں پر ٹیکس لگائے جائیں۔ صحت، ٹیکس، اسقاط حمل وغیرہ ایسے عوامی مسائل ہیں، جن میں ڈیموکریٹس کا نقطہءنظر عوامی اپیل رکھتا ہے۔ ری پبلیکنز اس سلسلے میں نہایت کٹڑ ہیں، اگرچہ مٹ رومنی ہوا کا رُخ دیکھ کر بار بار اپنے مو¿قف میں تبدیلی کرتے رہے، لیکن اس سے اُن کے خیالات میں مزید اُلجھاو¿ پیدا ہوا، وہ واضح نہیں کر سکتے کہ آخر صحت پروگرام میں کیا اصلاح کریں گے۔ وہ بجٹ خسارے کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے، لیکن بجٹ خسارے کو کم کرنے کے لئے وہ کسی ٹھوس لائحہ عمل پر عمل کرنے میں ناکام رہے اور جب لوگوں نے دیکھا کہ انہیں صدر اوباما کی خارجہ پالیسی سے کوئی خاص اختلاف نہیں ہے، اگر کوئی اختلاف ہے تو صرف اس قدر کہ صدر اوباما اسرائیل کو خوش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اب امریکی عوام امریکہ کی خارجہ پالیسی کے اس بنیادی پتھر کو مسترد کر رہے ہیں اور یہی بات ہے کہ عوام نے مٹ رومنی کو مسترد کر دیا۔

 اوباما کی کامیابی میں طوفانوں کا بھی بہت دخل ہے۔ پہلے طوفان آئزک نے فلوریڈا میں ری پبلیکنز کے کنونشن کو ناکام بنا دیا۔ کنونشن جلد ختم کرنا پڑ گیا اور ڈونالڈٹرمپ جیسے اوباما مخالفین کی تقریریں اُن کی جیبوں میں پڑی رہ گئیں۔ سینڈی کی تباہی پر صدر اوباما کا فوراً بروئے کار آنا اُن کے لئے پسندیدگی میں اضافے کا سبب بنا۔ نارتھ کیرولینا میں کترینہ کی تباہی پر جارج بش نے کئی ہفتے توجہ نہیں دی تھی۔ صدر اوباما کی اس ادا پر نیو جرسی کا ری پبلیکن گورنر کرس کرسٹی صدر اوباما کا سخت مخالف ان کی حمایت پر آمادہ ہوگیا اور ناوابستہ میئر نیویارک بلوم برگ نے صدر کی نیویارک آمد کو خوش آمدید نہیں کہا، لیکن پھر اُن پر یکایک انکشاف ہوا کہ ری پبلیکنز موسمی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ کو نہیں مانتے۔ ڈیموکریٹ اس کے لئے متفکر ہیں، اس لئے انہوں نے بھی صدر اوباما کی حمایت کر دی۔( اشرف قریشی لاہور کے متعدد اخبارات سے وابستہ رہے ہیں۔ ہفت روزہ ”تکبیر کراچی“ کے نمائندے بھی رہے۔ اس وقت نیویارک میں مقیم ہیں اور ہفت روزہ ”ایشیا ٹربیون“ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر ہیں۔)     ٭

مزید :

کالم -