صدارتی انتخابات اور امریکہ کا مستقبل(3)

صدارتی انتخابات اور امریکہ کا مستقبل(3)
صدارتی انتخابات اور امریکہ کا مستقبل(3)

  

مَیں نے اپنے سویلین دوستوں کی زبان سے یہ مقولہ کئی بار سنا ہے کہ:”جنگ ایک ایسا سنجیدہ کاروبار ہے جو جرنیلوں پر نہیں چھوڑا جاسکتا“.... یوں تو جنگ کے بارے میں جمہوریت کے علمبرداروں کو یہ انگریزی کہاوت بڑی خوش نما نظر آتی ہے، لیکن دنیا کی طاقتور ترین جمہوریت کے ایک سابق جرنیل صدر نے اپنے الوداعی خطاب میں امریکی قوم کو کہا تھا:

”دوسرے تمام اداروں کی طرح فوج بھی اپنے پبلک امیج کو پبلک کی نگاہوں میں بلند دیکھنا چاہتی ہے، لیکن یہ عجیب بات ہے کہ عسکری امور پر سب سے زیادہ ستائشی مواد سویلین حضرات کی طرف سے آتا ہے۔ ہمارے یہ سویلین سپورٹر، ہمارے ٹروپس سے زیادہ، ٹروپس کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان رہتے ہیں“۔

گو یہ بات بھی درست ہے کہ آج امریکی کانگریس میں سابق فوجیوں کی تعداد گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ ہے، لیکن سابق فوجی حضرات، اپنے ٹروپس کی تحسین و آفرین میں اتنے آگے نہیں جاتے، جتنا سویلین اراکین چلے جاتے ہیں۔

سویلین حضرات شاید یہ سمجھتے ہیں کہ فوجی بھائی، اپنے بیٹی بھائیوں کی حمایت میں پیش پیش ہوتے ہیں، لیکن ان کو شاید خبر نہیں کہ یہ ان کی کتنی بڑی غلط فہمی ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد جو فوجی حضرات کسی اعلیٰ عہدے پر فائز ہو جاتے ہیں، وہ اپنے پیٹی بھائیوں کی تعریف کرنے میں اگر زیادہ بُخل سے کام نہیں لیتے تو زیادہ فیاضی کا مظاہرہ بھی نہیں کرتے۔ اس کی وجہ نفسیاتی ہے۔ ہر فوجی آفیسر کو کسی نہ کسی رینک میں سپر سیڈ کر دیا جاتا ہے۔ صرف ایک افسر ہی ٹاپ پر پہنچ سکتا ہے، لیکن ٹاپ پر پہنچنے کی تمنا تو ہر فوجی کے دل میں ہوتی ہے۔ اس کی پروموشن میں جہاں بریک لگتی ہے، وہ فوجی، بریک لگانے والے پیٹی بھائیوں کا دل سے مخالف ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے دل میں اس بریک کو اپنی حق تلفی سمجھتا ہے۔ اسے یہ باور کروانا ناممکن ہوتا ہے کہ یہ بریک اس کی اپنی کسی کمزوری یا نا اہلی یا نارسائی کے سبب لگی ہے۔ چنانچہ اس بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ڈھول سپاہی کی قصیدہ خوانی میں سویلین حضرات، فوجی حضرات (سابق یا حاضر سروس دونوں) سے بازی لے جاتے ہیں، لیکن اندازہ کیجئے کہ صدر آئزن ہاور نے 1953ءمیں وائٹ ہاو¿س میں جو تقریر کی تھی، اس میں یہ بھی کہا تھا:

”ہر وہ گن جو کسی اسلحہ ساز فیکٹری میں تیار ہو کر یونٹوں کو بھیجی جاتی ہے، ہر وہ بحری جنگی جہاز جس کو سمندر میں اتارا جاتا ہے اور ہر وہ راکٹ جو فائر کیا جاتا ہے، وہ ان لوگوں کی روزی روٹی کاٹ کر فائر کیا جاتا ہے۔ جو بھوکے سوتے ہیں اور ان کو پیٹ بھرکر کھانا فراہم نہیں کیا جاتا، وہ برہنہ جسم ہوتے ہیں اور تن ڈھانپنے کو کپڑوں کا بندوبست نہیں کیا ہوتا کہ جو ریاست کی اولین اور حتمی ذمہ داری ہے“۔

یہ کہہ چکنے کے بعد آئزن ہاور نے وہ مثال پیش کی تھی، جسے سن کر حاضرین چونک اٹھے تھے۔ انہوں نے وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا:

”آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ ایک جدید بمبار طیارے پر کتنا خرچ آتا ہے.... اس کا حساب یوں لگائیے کہ اس رقم سے 30 شہروں میں ایک ایک سکول تعمیر کیا جا سکتا ہے یا دو ایسے بجلی گھر تعمیر کئے جاسکتے ہیں، جن سے 60,000 نفوس کو بجلی کی سہولیات فراہم کی جاسکتی ہیں یا دو ایسے ہسپتال بنائے جاسکتے ہیں جو پورے طبی سازو سامان سے آراستہ و پیراستہ ہوں یا 50 میل (80 کلومیٹر) لمبی پکی سڑک تعمیر کی جاسکتی ہے.... اور اسی طرح ایک لڑاکا طیارے کے عوض 5 لاکھ من گندم خریدی جاسکتی ہے.... اور خواتین و حضرات! ایک بحری جنگی جہاز پر اٹھنے والی رقم سے اتنے گھر تعمیر کئے جاسکتے ہیں، جن میں 8000 افراد کو رہائشی سہولتیں مل سکیں“۔

آئزن ہاور کے اس تبصرے کو آج ساٹھ برس سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن کیا کسی امریکی صدر نے اس وارننگ پر کوئی کان دھرا ہے؟

آج تو صورت حال یہ ہے کہ صدر اوباما نے دفاعی بجٹ میں اضافے کا وہ سارا مطالبہ منظور کر لیا ہے جو ملٹری نے اوباما کی الیکشن مہم سے پہلے ان سے کہا تھا اور مٹ رومنی جو اب شکست کھا چکے ہیں، وہ تو فوج کے مطالبے سے بڑھ کر دینے کے وعدے وعید کر چکے تھے۔ امریکہ کو آج کل جن اقتصادی مشکلات میں گرفتار بتایا جاتا ہے، وہ محض ڈھکوسلا ہیں۔ کیا امریکی ایڈمنسٹریشن اتنی ہی بے خبر ہے کہ اسے جنگی اخراجات کا اندازہ نہیں ہوتا؟.... افغانستان، عراق، لیبیا یا شام میں جنگ پر جو خرچہ آ رہا ہے یا آچکا ہے اس کا تخمینہ اربوں ڈالر میں ہے، لیکن در حقیقت ان جنگوں سے امریکہ (اور مغرب) کو جو مالی فوائد حاصل ہو رہے ہیں اور ہو چکے ہیں وہ کھربوں ڈالر ہیں.... اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ، جنگ کو ایک منافع بخش کاروبار سمجھ رہا ہے۔ اس نے نہ صرف خود یہ بزنس کئی عشروں سے شروع کر رکھا ہے، بلکہ ناٹو ممالک کو بھی اس کا چسکا ڈال دیا ہے.... ہمارے محمود غزنوی کے 17 حملوں سے مغرب نے شاید یہی سبق سیکھا ہے.... لیکن ہم اس سے یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ دنیا کی طاقتور ترین جمہوریت میں اصل سکہ، فوج کا ہی چلتا ہے۔ اوباما ہوں کہ رومنی، فوج کو ناراض نہیں کر سکتے۔ جس طرح امریکی ایڈمنسٹریشن اور دوسری جمہوری حکومتوں کے سویلین حکمرانوں نے پس پردہ اپنے فوجی جرنیلوں کو رام کرنے کا فن سیکھ لیا ہے، اسی طرح فوج کے کرتا دھرتا وردی پوشوں نے بھی زیرِ نقاب رہ کر آنکھیں دکھانے کے ہُنر میں مہارت حاصل کر لی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ غمزہ و عشوہ و ناز و ادا میں مصروف ہیں....بقول سید عابد علی عابد:

کرتی ہے زیرِ برقعہءفانوس تاک جھانک

پروانے سے ہے شمع برابر لگی ہوئی

لیکن آپ امریکیوں کی سیماب صفتی ملاحظہ کیجئے کہ ایک طرف تو ایڈمنسٹریشن، دفاعی بجٹ میں کٹوتی کرنے کی اس وقت تک تاب نہیں رکھتی، جب تک فوجی جرنیل اثبات میں سر نہ ہلا دیں اور دوسری طرف سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس، ایڈمرل مائک مولن میڈیا پر آکر واشگاف بیان دیتے ہیں کہ ہمارے ملک کی قومی سلامتی کو اگر کوئی خطرہ ہے، تو وہ ان اربوں، کھربوں ڈالر کے قرضے کا ہے آج جو امریکہ کے ذمہ واجب الادا ہے۔

امریکہ کی نیول اکیڈیمی میں تاریخ کے اسسٹنٹ پروفیسر اوکونل نے کہ جن کا ذکر میں اوپر کر چکا ہوں، لکھا ہے:”نیول اکیڈیمی میں میرے شاگرد کیڈٹوں اور افسروں میں سے شاید ایک بھی ایسا نہ تھا اور نہ ہے کہ جس نے یہ نہ کہا ہو: ”ہماری زندگی میں کوئی ایسا لمحہ آج تک نہیں آیا، جس میں ہماری قوم برسر جنگ نہ رہی ہو.... ان سب کے لئے یہ خبریں ایک معمول بن چکی ہیں کہ آج یمن پر ڈرون حملہ کیا گیا ہے اور آج افغانستان میں طالبان نے حملہ کر دیا ہے۔ حال ہی میں جو یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ افریقہ میں دہشت گردی کے خلاف مہم کے لئے ہم نے کئی خفیہ مستقر(Bases) بنا رکھے ہیں تو یہ بھی کوئی انوکھی بات نہیں اور نہ ہی ہم امریکیوں کو اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ ہر روز کسی نہ کسی فوجی تقریب میں ٹروپس کی مدح سرائی کی جا رہی ہوتی ہے“۔

 اور اس کے مضمون کا آخری پیرا گراف تو گویا ”حاصلِ غزل“ ہے۔ وہ بھی ذرا دیکھئے:”آج اگر آئزن ہاور زندہ ہوتے تو ہمارے قرضوں کا حجم دیکھ کر ششدرہ رہ جاتے۔ وہ یہ جان کر بھی حیرانی میں ڈوب ڈوب جاتے کہ ان کے دور کا ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس ان کے جانے کے بعد بھی مسلسل پھل پھول رہا ہے.... قومی سلامتی کے سخت اور دشوار کام کو ہم نے کتنا مضحکہ خیز بنا دیا ہے!“

قارئین کرام! ہم پاکستانی اگر یہ سمجھتے ہیں کہ اوباما کی دوسری ٹرم میں ہمیں کوئی کسی قسم کا ریلیف مل جائے گا تو اس سے بڑی نادانی اور کیا ہوگی؟ اور اگر بالفرض مٹ رومنی کامیاب ہو جاتے تو ان کے چار سالہ (یا آٹھ سالہ) دور اقتدار میں ہمیں کیا مل جاتا؟.... جب امریکہ اپنے فوجیوں کی اس وارننگ کو نہیں سنتا کہ دفاع پر اخراجات کم کرو، یعنی دوسرے لفظوں میں دنیا میں ہر جگہ کوئی نہ کوئی نیا میدانِ جنگ نہ کھولو، بلکہ اس کے بجائے امریکی عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ دو تو وہ پاکستان جیسے تیسری دنیا کے ایک غریب بلکہ کنگال ملک کو کیا درخورِ اعتنا سمجھے گا؟(ختم شد)    ٭

مزید :

کالم -