دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ ،پاکستان اور افغانستان(2)

دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ ،پاکستان اور افغانستان(2)
دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ ،پاکستان اور افغانستان(2)

  

افغانستان اور پاکستان میں پچھلے ہفتے چھے بچوں پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ تین نوبالغ (teenage) لڑکیاں پاکستان میں جن میں سے ایک ملالہ یوسف زئی شدید زخمی ہوئی۔ دوسرا حملہ افغانستان کے ہلمند صوبہ کی تحصیل ناوا میں جس میں امریکی ہوائی جہاز کے حملے میں تین بچے ہلاک ہوئے: 13سالہ بارجان، 10سالہ سردار ولی اور 8سالہ خان بی بی۔ تینوں ایک ہی خاندان کے چراغ تھے جو اپنے گھر کے لیے ایندھن کے لیے گوبر جمع کر رہے تھے۔ تین پاکستانی بچوں پر حملہ طالبان نے کیا (گو، وہ بچ گئیں) اور افغانستان میں تین معصوم بچوں پر حملہ امریکا کی فوج نے کیا جسے اپنے ٹھیک ٹھیک نشانے (precision Attack ) پر ناز ہے اور تینوں جان کی بازی ہار گئے۔

اِس دوسری تفصیل سے کئی سوالات فوری طور پر ا±بھرتے ہیں: سب سے پہلے، یہ اگر تین بچے اِس قدر قریب تھے کہ وہ اِس ’تیر بہ ہدف‘ حملے سے مارے جاتے تو پھر یقینی طور پر وہ اتنے قریب بھی تھے کہ طالبان مجاہدین کی کارروائی کی نگرانی کرنے والے جہاز کو بھی نظر آجاتے اور اُس فضائی حملے کی ضرورت ہی نہ پڑتی جس کا بندوبست کیا گیا تھا۔ دوسری بات یہ کہ امریکا الزامی طور پر کوشش کر رہا ہے کہ شہریوں کی جان کے اِتلاف کو کم کرے۔ اب فرض کرلیجیے کہ فضائی حملے متقابل فوجوں کی جھڑپ ( Rules of engagement) کے قانون کے مطابق کیے جارہے ہیں، تب بھی حملوں کی اجازت اُس وقت ہوتی ہے جب امریکا یا اتحادی افواج کے لیے خطرہ منڈلا رہا ہو۔

LEDکی تنصیب کس طرح منڈلاتا ہوا خطرہ بن گئی؟ اگر حقیقی مقام معلوم ہو، ا±س علاقے کے فوجی دستوں کو خبردار کیا جاسکتاہے۔ LEDہٹایا بھی جاسکتاہے اور ا±ڑایا بھی جاسکتا ہے۔ شناخت کردہ LEDمنڈلاتا ہوا خطرہ نہیں ہوسکتا۔ امریکی ذرائع ابلاغ، تین پاکستانی لڑکیوں اور حوصلہ مند لڑکیوں کی تعلیم کے باب میں وکیل ملالہ پر حملے کی کوریج کرتے ہوئے لبریز دکھائی دیتے ہیں۔ تین افغان بچوں کی موت پر یہ سب کچھ نہیں ہوا، تاہم نیویارک ٹائمز نے ایک نام نہاد حملے میں مقبوضہ افغان اتحادیوں کے ہاتھوں ہلاکت پر امریکی فوجیوں کی ”سبز پر نیلی اموات“ نامی مضمون کے اختتام کے نزدیک چند پیراگراف لگادئیے....(یہ خاص اصطلاح ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ امریکی اور ناٹو افواج پر، جن کا فوجی لباس نیلا ہے، افغان سرکاری افواج، جن کا لباس ہریالی کی مانند ہے ، نے حملہ کیا۔ ناٹو اور امریکیوں پر ان افغان حملوں سے مغربی دنیا سخت خفت، بوکھلاہٹ ، غصہ کا شکار اور انتقام کے جذبات سے پاگل ہوئی جارہی ہے۔ صرف سالِ رواں میں ایسے حملوں میں ۱۵امریکی اور ناٹو فوجی ہلاک ہوچکے ہیں، اور انتقاماً ناٹو نے افغان فوجوں کی تربیت کے پروگرام کو معطل کردیا ہے۔)

پاکستان اور امریکا، دو ایسے ممالک ہیں کہ جہاں بچوں پر ہونے والے دو حملوں کا ردعمل انتہائی واضح طور پر مختلف ہے۔ ملالہ اور ا±س کی دو ہم جماعت ساتھیوں پر حملے کے بعد پاکستان میں ہزاروں پاکستانی سڑکوں پر نکل آئے تاکہ طالبان جنونیوں کے اقدام پر احتجاج ریکارڈ کراسکیں اور ا±ن کی گرفتاری اور ا±ن کو سزا دینے کا مطالبہ کرسکیں (جرم میں معاونت کرنے والے دو ملزموں کو گرفتار کیا جاچکا ہے)۔ حکومتِ پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ قرار پانے والے ملزموں کو سزا دی جائے گی۔ نیز ملالہ کی برطانیہ میں ایک بہتر اور محفوظ ہسپتال میں منتقلی کے اخراجات بھی برداشت کیے ہیں۔ دوسری دو لڑکیوں کے تحفظ کے لیے بھی مسلح گارڈ فراہم کردیے گئے ہیں۔

اسی اثنا میں، امریکا میں بہت سے لوگ یہ بھی نہیں جانتے کہ ا±ن کی اپنی ملٹری نے تین افغان بچوں کو بھون کر رکھ دیا ہے۔ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ اگر ا±نھیں اس کا علم ہوبھی جاتا، تب بھی وہ اس کی کوئی پروا نہیں کرتے۔سڑکوں پر ایسے بھرپور مظاہرے نہ ہوتے جن میں مطالبہ کیا جاتا کہ فضائی حملے بند کیے جائیں اور ڈرون حملے کے ذریعے قتل کا سلسلہ ختم کیا جائے۔ صرف 28فیصد امریکی کہتے ہیں کہ ا±نھیں ڈرون کے ذریعے حملے جاری رکھنے پر اعتراض ہے۔اگرچہ یہ واضح ہے کہ ڈرون حملے سیکڑوں___ شاید ہزاروں معصوم شہریوں کی ہلاکت کا باعث بن رہے ہیں۔

پاکستان میں اسکول کی لڑکیوں پر حملہ کرنے والوں کو پہلے ہی گرفتار کیا جاچکا ہے۔ یقینی طور پر ا±ن کو مکروہ جرم کی پاداش میں قید کی سزا ملے گی، یہ سلوک ا±س پائلٹ اور حملہ کرنے والے افراد کے ساتھ نہ کیا جائے گا جنھوں نے اس ہلاکت خیز حملے میں حصہ لیا جس کے باعث تین افغان بچے زندگی سے محروم ہوگئے۔

واپسی پر ا±ن کا خیرمقدم ، ا±ن سے ملنے والے جنگ سے واپس آنے والے ’ہیرو‘ کے طور پر کریں گے۔ لوگ ا±ن کے قریب سے گزریں گے اور کہیں گے: ”آپ کی خدمات پر آپ کا شکریہ“۔ چاہے ا±س خدمت میں معصوم بچوں کو ہلاک کرنے کی ’خدمت‘ بھی شامل ہو۔

کیا یہ حقیقت نہیں کہ جن تین بچوں کو نشانہ بنا کر امریکی فوجیوں نے ہلاک کرنے کا جو اقدام کیا ہے وہ افغان حکومت کے ساتھ، قوت کے استعمال کے جن اصولوں پر ا±نھوں نے اتفاق کر رکھا ہے، ا±س کی بھی خلاف ورزی نہیں ہے؟ اگرچہ ٹائمز نے جو شہ سرخی لگائی ہے ا±س کا عنوان ہے: ”اتحادیوں کے حملے میں افغان بچوں کی ہلاکت پرسوالات ا±ٹھائے گئے“ لیکن اس سوال کا ذکر کہیں نہیں ملتا؟ نہ ٹائمز نے ہی ایمان داری سے یہ رپورٹ کیا کہ یہ امریکی حملہ تھا، جوابی حملہ نہیں تھا۔(کاﺅنٹرپنچ۔18اکتوبر2012ئ)(جاری ہے) ٭لیکن بات صرف اِن چھے بچوں تک محدود نہیں۔ صرف پاکستان میں ڈرون حملوں سے امریکی یونی ورسٹی کی تحقیق کے مطابق3 ہزار 3 سوسے زیادہ افراد ہلاک کیے جاچکے ہیں جن میں سے صرف 41کے بارے میں معلومات ہیں کہ ان کا کوئی تعلق القاعدہ یا طالبان سے تھا۔ 98فی صد عام شہری تھے جن میں سیکڑوں بچے شہید ہوئے۔ یہی خونیں داستان افغانستان کی ہے، عراق کی ہے، کشمیر کی ہے، فلسطین کی ہے، برما کی ہے___ اور نہ معلوم کہاں کہاں روے زمین پر معصوم انسانوں کا خون اسی طرح بہایا جارہا ہے اور ظالم کا ہاتھ روکنے والا اور قاتل کو قرارواقعی سزا دینے والا کوئی نہیں۔ کیا یہی ہے تہذیب و تمدن کا عروج اور جمہوریت کا فروغ؟

اِس سارے گھناو¿نے کھیل کو کیا نام دیا جائے؟ پاکستان کے ایک سابق نام ور سفیر اور تجزیہ نگار جناب آصف ایزدی نیوز انٹرنیشنل میں اپنے مضمون Malala and the Terrorist mind set میں یہ کڑوا سچ بڑے صاف الفاظ میں رقم کرتے ہیں:

سینٹ میں ایک تقریر کے دوران وزیراعظم نے اس امر پر زور دیا کہ ملالہ پر حملے کے پیچھے ’کارفرما ذہن‘ کے ساتھ جنگ کی جائے۔ ا±نھیں یہ ضرور جان لینا چاہیے کہ دہشت گردی کے تخلیقی سبب کی تلاش ایک کے بعد دوسری پاکستانی حکومت کی ا±ن پالیسیوں میں ملے گی جن کی وجہ سے تنخواہوں میں بہت بڑا فرق ہے، بدعنوانی کا چلن ہے اور عام آدمی کو تعلیم اور سماجی و اقتصادی ترقی کے عمل میں شرکت کا موقع فراہم نہیں کیا جاتا۔ جب تک ان مسائل کا حل تلاش نہیں کیا جاتا، اس ذہنی رویے کے، جس کی ا±نھوں نے نشان دہی کی ہے، پھلنے پھولنے کا سلسلہ جاری رہے گا اور کسی بھی قسم کا فوجی آپریشن نہ صرف بے نتیجہ بلکہ ضرر رساں ہو گا۔

ملالہ ایک بچہ سپاہی ہے جسے ’ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ‘ کے پروپیگنڈا محاذ پر غیرمسلح اورتنہا روانہ کردیا گیا۔ ا±س کے لیے وہی کردار طے کیا گیا جو طالبان کے 18/15برس کے خودکش بمباروں کا ہوتا ہے، تاہم ا±س کے بچ جانے کے امکانات نسبتاً بہتر تھے۔ یہ معجزے سے کم نہیں کہ وہ ابھی تک ہمارے پاس ہے۔

ملالہ اِس قدر کم عمر ہے کہ ا±س کو اندازہ ہی نہیں ہے کہ وہ کس کے خلاف کام کر رہی ہے اور ا±س کی اپنی ذات کے لیے اِس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے۔ ملالہ پر جو کچھ گزری ہے ا±س کی ذمہ داری مکمل طور پر ا±ن کے سر ہے جنھوں نے اُس نظریہ پرستی کا تنفرانہ استحصال کیا، صرف اِس لیے کہ اِس طریقے سے وہ اسٹر ٹیجک اہداف اور سیاسی مقاصد حاصل کرسکیں۔

ایک طرف، جب کہ ہم دُعاگو ہیں کہ وہ نارمل زندگی کی طرف لوٹ آئے، ہمیں اُن کو یہ اجازت نہ دینی چاہیے کہ وہ اپنے گناہ کو مذمت کے خنک دار بیانات سے چھپائیں یا گولی مارنے کے افسوس ناک واقعے کو، ہمارے ملک میں قتل عام اور تنازعات میں گہرا دھکیلنے کے لیے استعمال کریں۔ (نیوز انٹرنیشنل،22 اکتوبر 2012ئ)

ملالہ بلاشبہ ایک مظلوم بچی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ بھی دکھا دیا ہے کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ہم سب اُس کی صحت یابی اور روشن مستقبل کے لیے دعاگو ہیں لیکن وہ صرف اِس لیے مظلوم نہیں کہ اِس معصوم بچی پر قاتلانہ حملہ ہوا، بلکہ وہ اِس لیے بھی مظلوم ہے کہ اِس بچی کو کون کون اور کس کس طرح اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ گولی کے نشانے پر لگنے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اِس بچی کو دُنیا بھر کے لیے معجزانہ طور پر بچالیا اور یہ بھی اِس کا کرم ہے کہ پاکستان کو جس آگ میں دھکیلنے اور پاکستان اور افغان قوم کے ایک بڑے حصے کو تصادم، منافرت، بدلے اور نہ ختم ہونے والی جنگ کی آگ میں دھکیلنے اور امریکی انتخابات میں اِس خونیں کھیل کو ایک شعبدے کے طور پر استعمال کرنے کا جو شیطانی منصوبہ بنایا گیا تھا وہ خاک میں مل گیا۔(جاری ہے)

مزید :

کالم -