میڈیا کی رعنائیاں ،سچائیاں اور اصل سچ ۔۔۔

میڈیا کی رعنائیاں ،سچائیاں اور اصل سچ ۔۔۔
 میڈیا کی رعنائیاں ،سچائیاں اور اصل سچ ۔۔۔

  

گلوبل پِنڈ(محمدنوازطاہر)کوئی سوسائٹی میڈیا کی اہمیت سے انکار نہیں کرسکتی ۔یہی وجہ ہے کہ غاصب اور ان کا ساتھ دینے والے پہلا حملہ بھی میڈیا پرہی کرتے ہیں ۔ اس میں کچھ مفتوح ، باغی اور کچھ لوگ درباری بن کر نظام ِسلطنت میں اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں ۔ پاکستانی میڈیا کے ان تینوں کرداروں کا جائزہ لیں تو یہ تینوں بڑا درخشاں ماضی رکھتے ہیں ۔اب تک کی تاریخ بتاتی ہے کہ جمہور یت میڈیا کو راس نہیں آتی ۔ جیسے ابھی تک جمہوریت عوام کو بھی راس نہیں آئی ۔ جمہوریت کا پودہ لگتا ہے ، کونپلیں پھوٹتے ہی کچھ جمہوریت پسند اسکی’ آبیاری ‘کیلئے تیزاب ڈالنا شروع کردیتے ہیں ۔ماہرین ِ ’باغبانی ‘ بھی اسی تیزاب کے حق میں دلائل دیتے ہیں اور اس گلاب کا حشر مئی جون میں ملتان ،تھر،سیستان ،بلوچستان ، چولستان کے ریگستانوں میں اگائے جانے والے گلاب جیسا ہوتا ہے ۔ یہ تینوںخصوصیات کا حامل میڈیا (مراد صحافی جن میں کارکن اور مالک کہلانے والے سب شامل ہیں )جس پر سب لوگ ’سچ‘ بولتے ہیں صرف اور صرف سچ ۔۔۔ کوئی بھی ’جھوٹ ‘نہیں بولتا ،ہر کوئی اپنا اپنا سچ بیان کرتا ہے ، یہ سچ صرف ’ وکی پیڈیا ‘ دُکھی پیڈیا‘ ڈنڈا پیڈیا اور ڈالر پیڈیا‘ کی کاپی پیسٹ انفارمیشن ہے ۔اس پاک سر زمین پر اللہ کا یہ بھی فضل ہے کہ یہاں تحمل ، برداشت کا جنازہ نکال دیا گیا جو درحقیقت جمہوریت اور سچ کی ارتھی ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہاں کسی کی بات پر غیرجانبدارانہ بحث نہیں ہوتی اور سچ و جھوٹ کا تعین نہیں ہو پاتا ، بس جو کوئی اپنی بات جتنے زور سے کہہ گیا وہ جیت گیا ۔یہاں ضرورت تو نہیں لیکن’ احتیاطاً‘ چیلنج ضروری ہے کہ اگر آمروں کا ساتھ سچ کی اذان دینے والے اپنی آلودہ لباس پر’ ماسٹرپینٹس‘ سے روغن وروشن نظر آنے والے انکار کرنا چاہیں تو انہیں یہاں کھلی دعوت ہے۔وہ سچ کیوں نہیں بولتے ، ان کی گھٹی میں اگر نہیں بھی تھا، درباری عیاری کے نوالوں کی شکل میں وہ گھٹی بن گیا اور نسل درنسل جینز کی صورت میں منتقل ہوگیا ہے ۔یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ جو جمہوریت کے دعویدار تھے، اب ان میں سے بھی کئی تحفظِ جمہوریت فنڈز سے داغدار ہیں ۔ خواتین بیچاری تو میک اپ کے نام سے ویسے ہی بدنام ہیں ۔

ابھی بھی حقیقی جمہوریت پسند ، ایماندار اور صحافتی صالحین کی تعداد سب سے زیادہ ہے لیکن جیلوں کے ان مشقتیوں جیسی جن کے عید شب برات پر ملاقات آتی ہے ۔

میڈیا کی ترقی مقامی وقت کی رفتار سے تھوڑی سی تیز رہی ،پھر اچانک آندھی کی شکل اختیار کر گئی اور تنکوں کے ساتھ وہ’ سروُٹ‘ (جنگل کا خود رو سرکنڈا) بھی اڑا لے گئی جہاں سے اسے ابتدائی جھونکا ملا تھا۔ قوم کو بڑے بڑے دانشور ملے ، تجزیہ کاروں کی آرا ءنے روز ملک کی قسمت بدلی ،ہر لمحے جنگ چھیڑی اور امن بحال کیا لیکن ان کے ساتھ ایک بدقسمتی رہی کہ وقت نے ان کا ساتھ نہیں دیا ۔یہ بھی ثابت قدم رہے ۔ اپنی اپنی ریڑھی پر سودا سجاتے اور آوازے لگاتے رہے ۔سب کی طرح مجھے بھی’ اپنا سچ‘ اور اپنے ’حقائق‘ بیان کرنے کا حق حاصل ہے جسے استعمال کرتے ہوئے میں اس موقف کو دہرا رہا ہوں کہ ہمارے ہاں اکثریت تو غیر صحافی اور ریڑھی بان ہی قوم کو سکرین اور پوسٹر پر نظر آتے ہیں ،ورنہ یہ ’ ناخواندہ ‘قوم مختلف آراءسے اپنا نتیجہ اخذکر کے ملک کی تقدیر خود نہ بدل لیتی ۔

میڈیا کے ساتھ اب سوشل میڈیا کی افادیت بھی بڑھ چکی ہے ۔کچھ عرصے سے تو میڈیا اور سوشل میڈیا میں بحث بھی ایک طرح سے جنگ کی صورت اختیار کر گئی ہے ۔فریقین ایک دوسرے کی انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن پر سوال اٹھا رہے ہیں ۔ میڈیا ہمیشہ جنگی حربہ رہا ہے ، اب بھی اس سے یہی کام لیا جا رہا ہے ۔پیادہ کے ساتھ ساتھ پانی اور ہوا میں لڑنے والے سپاہی بھی چاہیے ہوتے ہیں ۔ اب خلائی تسخیر کا زمانہ ہے تو تو ہونٹو ں کا مقابلہ دو انگلیاں کیوں نہیں کر سکتیں ؟جو کام سچ بولنے والے دو ہونٹوں نے کرنا ہے ،وہ دو انگلیاں بھی کرسکتی ہیں ،جس طرح زبان سے بیک وقت ایک لفظ ادا ، قلم سے ایک ہی حرف لکھا جاسکتا ہے ،اسی طرح ایک وقت میں ایک لیٹرٹائپ بھی ہوتاہے۔فرق کسی میں کوئی نہیں ۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب ’سچ‘ بولنے اور حصہ بٹانے والے زیادہ ہو گئے ہیں ۔اب تو وہی بچے گا جو اصل سچ بولے گا، ورنہ مفادات نے تو”سچ “بولنے اور لکھنے والوں کو بیچ چوراہے کھڑا کردیا اور اکثر ململ کے لباس میں ہیں ۔قوم بھی تبھی بچے گی جب شیخ صاحب کی طرح سٹاک مارکیٹ اور مقامی ہٹی کا نفع سامنے رکھ کر اپنی ترجیحات کا تعین کرے گی ، اور وہی سودا خریدے گی جو بدتر موسمی خرابی میں بُو چھوڑنے میں وقت لے گا ۔

مزید :

بلاگ -