جی پی ایس کے باوجود پاکستان کو اس کا فوری فائدہ نہےں ہو گا ،ماہرےن

جی پی ایس کے باوجود پاکستان کو اس کا فوری فائدہ نہےں ہو گا ،ماہرےن

کراچی (اے پی اے ) یورپی یونین کی طرف سے پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کو ڈیوٹی فری رسائی فراہم کئے جانے کے باوجود پاکستان کو اس کا فوری فائدہ نہےں ہو گا کےونکہ گذشتہ برسوں کے دوران توانائی کی بڑھتی قلت، شرح سود میں اضافے اور امن و امان کی خراب صورتِ حال نے صنعتوں کی پےداواری صلاحےتوں کو بری طرح متاثر کےا ہے اور صنعتوں کا بڑا حصہ غےر فعال بھی ہے ۔تفصےلات کے مطابق یورپی یونین کی بین الاقوامی کمیٹی برائے تجارت نے جی ایس پی پلس ( تجارتی رعایت) سے ملک کے مینوفیکچررز اور برآمدات کرنے والی صنعتیں، جیسے ٹیکسٹائل اور گارمنٹس، یورپی مارکیٹ تک رسائی سے بنگلہ دیش اور بھارت کے ان روایتی حریفوں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوسکیں گے لےکن اس وقت یورپی یونین کے لیے پاکستانی ٹیکسائل اور گارمنٹس مصنوعات کی برآمدات، بلاک کے لیے کل برآمدی حجم ساڑھے نو ارب ڈالر کا لگ بھگ نصف ہے، جس میں یہ اہلیت موجود ہے کہ اگلے چند برسوں کے دوران اسے دگنا کیا جاسکے لیکن گذشتہ برسوں کے دوران متعدد وجوہات، جیسے توانائی کی بڑھتی قلت، شرح سود میں اضافے اور امن و امان کی خراب صورتِ حال وغیرہ کے باعث، سرمایہ کاروں نے صنعتوں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے اس شعبے میں خاطر خواہ سرمایہ کاری نہیں کی۔ ماہرےن کے مطابق ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کی ان صنعتوں کا بڑا پیداواری حصہ پنجاب میں موجود ہے لیکن وہاں بھی گیس کی کمیابی اور بجلی کی قلت کے سبب وہ بڑی حد تک غیر فعال ہوچکے۔لیکن ایسے وقت میں کہ جب یورپی یورپی یونین کی طرف سے دی گئی سہولتوں کا اطلاق شروع ہوگا، تب تک ان صنعتوں کا ایک اور بڑا فعال حصہ اس لیے بھی بند ہوچکا ہوگا۔

کےونکہ حکومت نے گھریلو صارفین کو فراہمی جاری رکھنے کے لیے، صنعتوں کو اگلے تین ماہ کے لیے گیس نہ دینے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ماہرےن کا کہنا ہے کہ حکو مت کو چاہیے کہ وہ ایسی پالیسی تیار کرے جس سے اس تجارتی رعایت سے بھرپورہ فائدہ اٹھایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت چاہتی ہے کہ یورپی یونین کی طرف سے ملنے والی تجارتی رعایتوں سے بھرپور فائدہ حاصل ہو تو پھر صنعتوں کو بنا تعطل گیس اور بجلی کی فراہمی یقینی بنائے تاکہ یہ اپنی بھرپور پیداواری صلاحیت کے ساتھ کام کرسکیں۔ساتھ ہی نئے منصوبوں کے لیے صنعت کاروں کو کم شرح سود پر قرضے دیے جائیں، فیبرک اور ایسا تمام خام مال جو ملکی سطح پر تیار یا دستیاب نہیں، کی درآمد پر پابندیاں ہٹائے اور طرےقہ کار کو آسان بنائے تاکہ یورپی یونین کی تجارتی سہولتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے پیداواری اضافے کی حوصلہ افزائی ہوسکے۔

مزید : کامرس