ڈاکٹروں کا اغوااور حکومتی ذمہ داریاں

ڈاکٹروں کا اغوااور حکومتی ذمہ داریاں
ڈاکٹروں کا اغوااور حکومتی ذمہ داریاں

  

پاکستان بھر میں اغوابرائے تاوان ایک صنعت کا درجہ حاصل کر چکا ہے اور بلوچستان اس کی لپیٹ میں ہے۔ جن کو اغوا کیا جاتا ہے، اُنہیں افغانستان کے راستے فاٹا کے علاقے میں بیچ دیا جاتا ہے، ایک اغواشدہ کئی ہاتھوں میں بکتا ہے ، اس کی بولی لگتی ہے اور آخری گروہ اس کی سب سے زیادہ بولی لگاتا ہے اور وہ ایک خطیر رقم حاصل کر لیتا ہے۔ اغوابرائے تاوان میں سب سے تشویشناک پہلو ڈاکٹروں کا اغواہے۔ ایک ڈاکٹر، جو سینکڑوں مریضوں کو شفایاب کرتا ہے، اسے اغواکرنا بہت بڑی زیادتی ہے۔ اگر ڈاکٹر صاحبان یوں اغوا ہوتے رہے تو بلوچستان کے عوام قابل ڈاکٹروں سے محروم ہو جائیں گے۔ بلوچستان کے ممتاز معالج عبدالمناف ترین سمیت 26 ڈاکٹر اغوا ہو چکے ہیں۔ بدقسمتی سے ان اغواءشدہ ڈاکٹروں میں سے کئی معزز ڈاکٹروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے، بعض ڈاکٹر جو اغوا ہوئے تھے ،انہیں بھاری رقم کے عوض رہائی ملی، ان میں بعض انتہائی قابل اور ہمدرد ڈاکٹر شامل ہیں۔

ڈاکٹر، جو قتل ہوئے ہیں، ان میں بعض کو فرقہ واریت کی بنیاد پر بھی قتل کیا گیا ہے۔ڈاکٹروں نے اپنی قیمتی جائیدادیں اونے پونے داموں فروخت کر دیں اور وہاں سے دوسرے صوبوں میں جا بسے۔ جو قابل ڈاکٹر صوبے کو خیر باد کہہ چکے ہیں، ان کی تعداد 84ہے، اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو بلوچستان اپنے قابل ڈاکٹروں سے محروم ہوجائے گا جو اس صوبے کی بڑی بدقسمتی ہو گی، جو قابل ڈاکٹر صوبے سے ہجرت کر گئے ہیں، ان میں سرجن، فزیشن، آنکھوں کے ماہرین بھی شامل ہیں، جن ڈاکٹروں نے صوبے کو خیرباد کہہ دیا ہے، ان کے آباﺅ اجداد کی قبریں اسی سرزمین پر ہیں، وہ دکھی دل اور گہرے زخموں کے ساتھ رخصت ہوئے ہوں گے اور انہیں ہر لمحہ اپنے عزیز و اقارب، دوست احباب یاد آتے ہوں گے۔

کوئٹہ سے جانے والے ڈاکٹروں میں ڈاکٹر غلام حیدر خالد ، ڈاکٹر نادر خان ، ڈاکٹر اسرار حسین، ڈاکٹر ارشد محمود، ڈاکٹر نور اللہ مگسی، ڈاکٹر اسماعیل ہزارہ، ڈاکٹر اقبال چودھری ، ڈاکٹر اعظم مینگل، ڈاکٹر حمید اللہ، ڈاکٹر جاوید سردار، ڈاکٹر امین اللہ مینگل، ڈاکٹر ظفر اللہ ، ڈاکٹر امیر محمد پانیزئی ، ڈاکٹر بزن بلوچ، ڈاکٹر غفور ناگی اور ڈاکٹر ثاقب بٹ بطورخاص قابل ذکر ہیں۔ ان میں بعض بچوں کے ڈاکٹر، ماہر امراض قلب جیسے ڈاکٹر بھی شامل ہیں۔ ان میں سے بعض ڈاکٹر وہ ہیں ،جن کا تعلق بلوچستان سے ہے، ان میں پشتون اور بلوچ ڈاکٹر شامل ہیں۔ انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ خطرے میں ہیں، اس سے قبل کہ انہیں اغواءکیا جاتا، انہوں نے کوئٹہ چھوڑ دیا۔ یہ نقشہ ایک مہذب معاشرے کا تو نہیں ہے، نہ لگتا ہے کہ ہم ایک پُرامن اور جدید ترقی یافتہ قوم ہیں۔ بلوچستان تو کبھی ایسا نہیں تھا، نجانے اب اس کو کس کی نظر لگ گئی ہے کہ ہر طبقہ زندگی ایک ان دیکھے خوف میں گھر گیا ہے اور خوف کے سائے پھیلتے چلے جارہے ہیں۔ ایک لحاظ سے بلوچستان اب قتل گاہ کا منظر پیش کررہا ہے، 18 ڈاکٹروں کا قتل ایک بہت بڑے المیے سے کم تو نہیں ہے۔

 جو قابل اور معزز ڈاکٹر قتل ہوئے ہیں ،ان میں بعض ڈاکٹر ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے ہیں۔ ڈاکٹر صلاح الدین بلوچ، ڈاکٹر ہزار خان بلوچ، ڈاکٹر داﺅد عزیز بلوچ، ڈاکٹر ممتاز حیدر، ڈاکٹر نور اللہ مگسی، ڈاکٹر عابد اقبال ، ڈاکٹر باقر شاہ زیدی، ڈاکٹر بشیر مگسی، ڈاکٹر نعیم احمد، ڈاکٹر سلمان حفیظ ،ڈاکٹر اسلم مرزا، ڈاکٹر صمد اچکزئی، ڈاکٹر قمر حسین، ڈاکٹر مکھی چند، ڈاکٹر عبدالحمید بنگلزئی، ڈاکٹر شمیم بلوچ ڈاکٹر لعل بخش اور ڈاکٹر احمد رضا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اغوا ہونے والے 26ڈاکٹروں میں سب صاحب حیثیت ڈاکٹر تھے، ان سب نے بھاری رقومات ادا کیں اور جب گھر لوٹے تو زبان پر حرف شکایت نہیں تھا اور نہ ان کے نام، جو انہیں اغواءکرکے لے گئے تھے، ایک انجانے خوف نے انہیں گھیر رکھا تھا۔جو بھی ڈاکٹر اغوا ہوا ہے، اس نے 2 کروڑ سے زیادہ رقم ادا کی ہے۔

اب ممتاز معالج ڈاکٹر عبدالمناف ترین اغواءکنندگان کی گرفت میں ہیں اور بھاری رقم کا مطالبہ کیا گیا ہے، وہ بھی بھاری رقم کے عوض گھر پہنچ جائیں گے دُعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی امان میں رکھے اور خیریت سے گھر لوٹ آئیں۔ اہل خانہ اور عزیز و اقارب انتہائی کرب میں زندگی گزار رہے ہوں گے، بیوی بچے ان کی راہ تک رہے ہوں گے، ایک قیامت اُن پر گزر رہی ہو گی، ایک ایک لمحہ طویل ہوتا چلا جا رہا ہو گا کہ انتظار کی گھڑیاں ویسے ہی طویل لگتی ہیں، لیکن ایسی گھڑیاں جن میں زندگی اور موت کا خدشہ موجود ہو، وہ ایک ذہنی عذاب سے کم نہیں ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالمناف ترین کی رہائی کے لئے ڈاکٹر صاحبان نے سول ہسپتال میں کیمپ قائم کیا ہوا ہے ،یہ سب ڈاکٹر قابل احترام ہیں، جو اپنے ساتھی کی رہائی کے لئے احتجاج کر رہے ہیں ۔ایک مہذب معاشرے میں ایسا ہی ہونا چاہئے، احتجاج زندگی کی علامت ہے، مجھے ان سب سے ہمدردی ہے اور خواہش ہے کہ ڈاکٹر عبدالمناف خیریت سے گھر لوٹ آئیں ....جو ڈاکٹر اغوا ہوئے اور بھاری رقومات ادا کر کے گھر لوٹ آئے ہیں، ان میں ڈاکٹر عبدالمناف ترین کے علاوہ ڈاکٹر محمد احمد، ڈاکٹر نصر اللہ غلزئی، ڈاکٹر ایاز احمد، ڈاکٹر انور ، ڈاکٹر مبشر احسان، ڈاکٹر سعید ،ڈاکٹر احمد خان، ڈاکٹر غلام رسول، ڈاکٹر دین محمد، ڈاکٹر ارباب غلام رسول ، ڈاکٹر ممتاز حیدر ، ڈاکٹر نور اللہ مگسی، ڈاکٹر محمد انور بلوچ ، ڈاکٹر امین مینگل، ڈاکٹر ثناءاللہ بلوچ، ڈاکٹر امین کھوسہ، ڈاکٹر موہن داس، ڈاکٹر راجیش ، ڈاکٹر عبداللہ جان بڑیچ، ڈاکٹر فضل محمد، ڈاکٹر محمد انور، ڈاکٹر اکبر مری، ڈاکٹر حبیب اللہ اورڈاکٹر آنند کمار شامل ہیں۔ انہوں نے کروڑوں روپے ادا کئے ہیں۔ بعض ڈاکٹروں نے اب اپنے ہمراہ مسلح گارڈز رکھ لئے ہیں۔

بعض اوقات زیادہ دولت بھی پریشانی کا سبب بنتی ہے اور نہ ہو تو بھی انسان پریشان رہتا ہے ۔ ڈاکٹروں سے ایک گلہ ہے اور یہ عام لوگوں کا بھی ہے، ڈاکٹروں کے بارے میں جو احساسات عوام کے ہیں، انہیں ان تک پہنچانا میرا فرض ہے۔ وہ سرکاری ہسپتالوں میں اپنے فرائض سر انجام نہیں دیتے ، سب نہیں، بلکہ بعض ڈاکٹر صاحبان ایسا کرتے ہیں اور اپنے مریضوں کو اپنے کلینک میں بلاتے ہیں، اگر ڈاکٹر صاحبان سرکاری ہسپتالوں میں اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کریں، تو پھر گلہ نہیں ہو گا۔ اپنے پرائیویٹ کلینکس میں زیادہ وقت گزارتے ہیں، وہاں انہوں نے بائیکاٹ نہیں کیا ہوا اور بھاری فیس وصول کرتے ہیں۔ اکثر ٹیکس بھی نہیں دیتے، میری مراد پرائیویٹ پریکٹس سے ہے، جو آمدن ہوتی ہے وہ لاکھوں روپیہ ہوتی ہے، ان سے وہ بڑے بڑے عالیشان بنگلے اور ایک سے ایک قیمتی گاڑیاں خریدتے ہیں۔

بعض ڈاکٹروں نے گھروں میں سونے کی اینٹیں جمع کی ہوئی ہیں اور کروڑوں روپے سے عالیشان ہسپتال بنارکھے ہیں۔اگر ان کی آمدن کروڑوں میں نہ ہو تو کیسے کروڑوں کی بھاری رقومات ادا کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحبان اس آمدن میں سے غریبوں ، ناداروں، یتیموں، بیواﺅں کی مدد کرتے تو یقین سے کہتا ہوں کہ ان کو کوئی اغواءنہ کرتا، لیکن بعض ڈاکٹر تو زکوٰة تک نہیں دیتے، اپنے غریب رشتہ داروں کی مدد نہیں کرتے، غریب بچیوں کی شادی میں رقم نہیں دیتے، گن گن کر رقم جمع کرتے ہیں، پھر یہ سب دولت چند گھنٹوں میں اغواءکنندگان کے پاس پہنچ جاتی ہے۔ اگر اللہ کی راہ میں اس بھاری رقم کا دسواں حصہ بھی دیتے، تو اللہ ان کی حفاظت کرتا ۔مظلوم ان کے لئے دعائیں کرتے اور بعض غریبوں، دربدروں اور خاک نشینوں کا علاج مفت کرتے، تو ان سب کے ہاتھ اغواءکنندگان کے خلاف اور ان کے حق میں اٹھتے۔ امید ہے کہ ڈاکٹر صاحبان ان تلخ باتوں کا برا نہیں منائیں گے اور دُعا گو ہوں کہ ڈاکٹر مناف ترین خیریت سے اپنے اہل و عیال کے درمیان پہنچ جائیں، غم اور خوف کے سائے ختم ہوجائیں۔      ٭

مزید : کالم