ریٹائرڈ ملازم کی ڈائری کا ایک ورق

ریٹائرڈ ملازم کی ڈائری کا ایک ورق
ریٹائرڈ ملازم کی ڈائری کا ایک ورق

  

آج صبح پانچ بجے آنکھ کھلی تو دم گھٹ رہا تھا۔سانس لینا کافی مشکل تھا۔پھر کھانسی کا ایسا دورہ پڑا کہ انتڑیاں پیٹ سے باہر آتی محسوس ہوئیں۔کروں تو آخر کیا کروں؟ یہ بھی کوئی زندگی ہے، اس سے تو موت اچھی۔گلے سے آواز نہیں نکل رہی تھی اور مَیں کسی کو بلانے سے بھی قاصر تھا۔خدا کا شکر ہے کہ کھانسی کی آواز اور گلے سے بار بار بلغم نکالنے سے میری بہو کی آنکھ کھل گئی۔وہ بیچاری دوڑی دوڑی میرے پاس آئی۔جرمنی کا بنا ہوا ان ہیلر میرے ہاتھ میں تھمانے کی کوشش کرنے لگی۔ہاتھ کدھر کام کررہے تھے۔مَیں تو قریب المرگ تھا۔اس بیچاری نے ان ہیلر اپنے ہاتھ میں لیا اور میرا منہ کھلوا کر مجھے ان ہیلر کے پن دینے لگی۔دو تین منٹ بعد مجھے سکون محسوس ہوا۔مَیں نے غور سے اپنی بہو کو دیکھا۔مسکرایا اور اشارے سے اس کا شکریہ ادا کیا۔میری بہو روزانہ مجھے وٹامنز کا انجکشن لگاتی ہے۔

یہ انجکشن بھی فرانس یا شائد سویڈن کا بنا ہوا ہے۔آج بھی اس نے مجھے انجکشن لگایا تو مَیں دس منٹ میں چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا۔اللہ کا شکر ادا کیا۔وضو کرنے کے بعد مَیں نے نماز ادا کی اور مسلمانوں کے غلبے اور کفار کی شکست کی خصوصی دعا مانگی۔میرے جسم میں طاقت محسوس ہورہی تھی۔مَیں نے سیر کرنے کا پروگرام بنایا اور گھر سے باہر نکل گیا۔مجھے اچانک خیال آیا کہ ہمارے پڑوسیوں کے گھر میں کئی دنوں سے کچھ مشکوک افراد نظر آنے لگے تھے۔مَیں نے پڑوسیوں کی گھنٹی بجائی اور گھر کے سربراہ سے مشکوک افراد کو نکالنے کا مطالبہ کیا۔گھر کے سربراہ کی دیدہ دلیری دیکھیں۔کہنے لگا کہ یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے۔آپ ہمارے گھر کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتے۔مجھے غصہ آ گیا اور مَیں نے اسے کہا کہ بے شرم انسان اگر ان مشکوک افراد نے میرے گھر ڈاکہ ڈال لیا تو پھر کس کی ذمہ داری ہوگی۔

بے شرم کہنے لگا کہ ان افراد کو گھر سے نکالنا میرے بس میں نہیں۔مَیں نے اس بے شرم انسان کو بتایا کہ پولیس کے ایک بہت بڑے افسر سروس میں میرے جونیئر رہے تھے۔ان سے کہہ کر مَیں تمہیں اور ان مشکوک افراد کو پولیس مقابلے میں مروا دوں گا۔یہ بات سن کر اس نے نظریں جھکا لیں اور میری منت سماجت کرنے لگا،لیکن مَیں اسے کب چھوڑنے والا ہوں، کیونکہ اگر آپ چور ڈاکو کو چھوڑیں گے تو وہ آپ کو نہیں چھوڑے گا۔تقریباً دس منٹ بعد مَیں گھر سے قریب والے پارک میں جا پہنچا۔پارک میں کیا دیکھتا ہوں کہ لوگ امریکی دہشت گردی پر تبادلہءخیال کررہے ہیں۔مَیں نے بھی کھڑے ہو کر بولنا شروع کردیا اور امریکی جرائم سے عوام کو آگاہ کیا۔میری بات چیت ایک تقریر میں بدل گئی اور چند ہی لمحوں میں بہت سے نوجوان اور چند خواتین میرے اردگرد جمع ہوگئے۔نوجوانوں نے امریکہ مردہ باد کے نعرے لگانے شروع کردیئے، جبکہ خواتین نے صرف مسکرانے پر اکتفا کیا۔خواتین کی مسکراہٹ نے میرے جوش و جذبے میں مزید اضافہ کیا اور مَیں پندرہ منٹ تک امریکہ کے خلاف مسلسل بولتا رہا۔معلوم نہیں یہ ایمانی جذبہ تھا یا ادویات کا اثر کہ مَیں آدھا گھنٹہ پہلے بسترے اٹھنے کے قابل نہیں تھا اور اس وقت مَیں مسلسل امریکہ کے خلاف تقریر کرتا جا رہا تھا۔گھر پہنچا، ہاتھ منہ دھویا ابھی ناشتہ ہی کیا تھا کہ کینیڈا سے بڑی بیٹی کا فون آ گیا۔کہنے لگی کہ ابا جی احسن کی پیدائش کی تاریخ تبدیل کرانی ہے۔

احسن میرا بہت پیارا نواسہ ہے۔مَیں نے فوراً ہی ڈار صاحب کو فون کیا اور تقریباً دو گھنٹے بعد پیدائش کا نیا سرٹیفکیٹ میرے گھر پہنچ گیا۔مَیں نے بیٹی کو بتایا تو بہت خوش ہوئی۔کہنے لگی کہ احسن کی تاریخ پیدائش تبدیل ہونے سے اسے ماہانہ پانچ سوڈالر وظیفہ ملے گا۔مَیں نے کیلکولیٹر نکالا اور پانچ سو کینیڈین ڈالر کو پاکستانی روپوں میں تبدیل کرنے لگا۔مَیں نے حساب کرکے جب بیٹی کو بتایا تو اس نے بہت خوشی کا اظہار کیا۔ہم کافی دیر تک خوش گپیوں میں مصروف رہے۔مَیں نے ٹیلی فون بند کرنا چاہا تو بیٹی نے کہا کہ ابا جی ٹیلی فون بند نہ کریں،کال فری ہے۔میری بیٹی اکثر مجھے کینیڈا سے فری کال کرتی ہے۔دراصل اس کا میاں بہت ہوشیار ہے۔اس نے کینیڈا سے فری کال کرنے کے کئی طریقے دریافت کئے ہیں۔تھوڑی دیر بعد ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا۔ظہر کی نماز میں مسجد میں ادا کرتا ہوں۔مجھے بہت خوشی ہوئی، جب امام صاحب نے کفار کی تباہی اور بربادی کی دعا مانگی۔

نماز کی ادائیگی کے بعد مَیں گھر پہنچا ہی تھا کہ امریکہ سے میرے چھوٹے بیٹے کا فون آ گیا۔اس کے پاس ابھی امریکہ کی شہریت نہیں ہے اور وہ کسی امریکی لڑکی سے شادی کرکے امریکہ کا شہری بنتا رہتا ہے۔ ٹیلی فون پر زیادہ باتیں اس کی شادی اور امریکہ میں نوکری کے بارے میں ہوئیں۔بتانے لگا کہ ایک امریکی لڑکی شادی کے لئے رضا مند ہوئی ہے، لیکن وہ مسلمان نہیں ہے۔مَیں نے اسے بتایا کہ اگر مسلمان نہ بھی ہو تو کوئی بات نہیں، وہ صاحب کتاب تو ہوگی۔اس پر بیٹے نے کہا کہ وہ لڑکی صاحب کتاب بھی نہیں تو مَیں نے بیٹے کو مشورہ دیا کہ ایسے مواقع بار بار نہیں آتے،اس لئے وہ اس لڑکی سے شادی ضرور کرلے۔مَیں نے بیٹے کو بتایا کہ اس لڑکی سے فوراً شادی کرلو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں بے شمار ہیں۔ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ شادی کے بعد اس کا ذہن تبدیل کردے اور وہ مسلمان ہو جائے۔اس کے بعد نماز عصر کا وقت ہو گیا۔نماز عصر مَیں گھر پر ہی ادا کرتا ہوں۔نماز عصر کے بعد میرے بڑے بیٹے کا فون آ گیا۔وہ ماشاءاللہ نیویارک میں مقیم ہے۔مَیں نے سب سے پہلے اس سے پوچھا کہ تم اپنی جاب تبدیل کررہے تھے تو پھر جاب کا کیا بنا؟

بیٹے نے بتایا کہ وہ ننی پوسٹ کے لئے انٹرویو دینے گیا تھا۔انٹرویو لینے والا شخص ایک متعصب اور مسلمانوں سے نفرت کرنے والا انسان تھا۔اس نے میرے بیٹے سے پوچھا کہ چند روز بیشتر امریکہ نے پاکستان میں ڈرون حملہ کرکے ایک شخص کو ہلاک کیا تھا۔اس نے میرے بیٹے سے پوچھا کہ اس شخص کے بارے میں میرے بیٹے کا کیا خیال تھا جو ڈرون حملے میں مارا گیا تھا؟انٹرویو سے چند گھنٹے پہلے ہی میرے بیٹے نے ایک ٹیلی ویژن چینل پر ایک ممتاز مذہبی اور سیاسی رہنما کا انٹرویو دیکھا تھا،جس میں اس مذہبی رہنما نے ڈرون حملے میں مارے جانے والے شخص کو شہید قرار دیا تھا۔انٹرویو کرنے والے کو بھی میرے بیٹے نے جواب دیا کہ مرنے والا شہید تھا۔

پہلے تو انٹرویو کرنے والے شخص کو شہید کی سمجھ ہی نہیں آئی۔بھلا کافر کو شہید کی فضیلت کا کیا علم ۔میرے بیٹے نے جب شہید کا انگریزی ترجمہ کیا تو وہ کافر غصے سے آگ بگولہ ہوگیا اور میرے بیٹے کو کمرے سے نکال دیا۔مَیں نے اپنے بیٹے کو تسلی دی اور بتایا کہ یہود و نصاریٰ مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے۔اس کے بعد مَیں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ مَیں نے پڑھا ہے کہ امریکی سائنسدانوں نے ہیپاٹائٹس سی کا علاج دریافت کرلیا ہے۔اب مریضوں کو ٹیکے لگانے نہیں پڑیں گے اور تین ماہ تک ایک گولی روزانہ کھانے سے ہیپاٹائٹس سی کا علاج ہو جائے گا۔مَیں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ وہ اپنی ماں کے لئے وہ دوائی حاصل کرکے ہمیں فوراً روانہ کرے، تاکہ اس کی ماں کا علاج ہو سکے۔اس پر میرے بیٹے نے بتایا کہ وہ دوائی تیاری کے آخری مراحل میں ہے اور جیسے ہی مارکیٹ میں دستیاب ہوئی، وہ دوائی اپنی ماں کے لئے روانہ کرے گا۔اب شام ہو گئی ہے۔مَیں آج کی ڈائری لکھنا بند کرتا ہوں۔اس کے بعد مَیں مغرب اور عشاءکی نماز ادا کروں گا اور اسلام کے خلاف کفار جو سازشیں کررہے ہیں، ان کے خاتمے کی دعا کروں گا۔  ٭

مزید : کالم