بلدیاتی انتخابات کی سرگرمیاں اور منافقت کا فتویٰ!

بلدیاتی انتخابات کی سرگرمیاں اور منافقت کا فتویٰ!
بلدیاتی انتخابات کی سرگرمیاں اور منافقت کا فتویٰ!

  

معاشرے کی نفسیاتی کیفیت کچھ ایسی ہو گئی ہے کہ لوگ اب چھوٹی چھوٹی خوشیوں کی تلاش میں رہتے اور مواقع پیدا کرنے کی کوشش کر تے ہیں۔ لاقانونیت اور مہنگائی نے لوگوں کے حواس پر بہت اثر کیا ہے۔ لاہور جیسے شہر میں ڈاکوں اور راہزنی کی وارداتیں روز بروز بڑھتی چلی جا رہی ہیں اور ہماری پولیس اپنے روائتی انداز سے آگے نہیں بڑھ پا رہی۔ انسپکٹر جنرل پولیس اور لاہور پولیس کے سربراہ جو چاہیں کہتے اور دعوے کرتے رہیں، حقیقت اپنی جگہ ہے کہ ڈاکوں اور راہزنی کی وارداتوں میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور ملزم گرفتار نہیں ہو پا رہے۔ ہم مصطفی ٹاﺅن کی مثال دیں، تو غور فرما لیجئے گا دو تین ہفتوں سے اس بستی میں ایک موٹر سائیکل پر سوار دو ملزم مسلسل ایک ہی نوعیت کی وارداتیں کر رہے ہیں وہ خصوصی طور پر کار چلانے والی خواتین کو نشانہ بناتے اور بارونق علاقے میں دن دیہاڑے ان سے زیور، پرس اور موبائل چھین لیتے ہیں۔ ان حضرات نے ایک دن میں دو وارداتیں بھی کیں۔ اب تو لوگوں کو اُن کا حلیہ بھی ازبر ہو گیا ہے متعلقہ پولیس کو بھی بتا دیا گیا اور یہ شبہ بھی ظاہر کیا گیا کہ ان لٹیروں کا تعلق قریبی علاقے ہی سے ہے، لیکن پولیس ٹس سے مس نہیں ہوئی اور اب تک کوئی ملزم کیا گرفتار ہوتا، ایسی کوئی کوشش ہی نہیں کی گئی، اس سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سب ملی بھگت ہے ورنہ اب تک یہ موٹر سائیکل والے گرفتار ہو چکے ہوتے، مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔

انہی وارداتوں کا ذکر خیر تھا، تو بات بلدیاتی انتخابات کی طرف چلی گئی، جو7دسمبر کو ہونے والے ہیں اور اب پنجاب حکومت نے عدالت عالیہ کے حکم کے مطابق متعلقہ قانون میں ترمیم کر دی ہے اور انتخابات غیر سیاسی کی بجائے سیاسی بنیادوں پر کرانے کا حکم دے دیا ہے۔ اس ترمیم اور عدلیہ کے احکام سے پہلے بھی انتخابات میں رنگ سیاسی ہی تھا۔ اگر پہلا عمل ہوتا تو اجتماعی منافقت کا مظاہرہ ہوتا۔ تمام سیاسی جماعتیں اپنے اپنے امیدوار چُن رہی ہیں۔ ان سب کو گروپ کی شکل دے کر کوئی سیاسی سلوگن دیا جانا تھا، جس کے ذریعے ان کی جماعتی شناخت ہو جاتی، لیکن اب یہ ضرورت نہیں رہی۔ حکومت نے عدالتی حکم کے سامنے سر تسلیم خم کیا اور اب امیدوار نہ صرف جماعتی ٹکٹ حاصل کریں گے، بلکہ وہ پارٹی پرچم بھی لہرا سکیں گے۔

بلدیاتی سیاست بنیادی طور پر محلہ سیاست ہے اور یہ کافی دنوں سے تھڑوں پر زیر بحث، بلکہ زینت بن چکی ہوئی ہے۔ اب اس میں مزید تیزی آ گئی ہے اور کھل کر جماعتی حیثیت کا اظہار کیا جا رہا ہے، بلکہ اب تو جوڑ توڑ میں بھی تیزی آ گئی ہے۔ حاجی مقبول احمد مسلم لیگ(ن) کے زبردست حامی ہیں۔ وہ جذباتی بھی ہو جاتے ہیں۔ گزشتہ روز دوستوں نے ان کے حق میں لابنگ بھی شروع کر دی۔ مصطفی ٹاﺅن، اعظم گارڈن اور کرامت کالونی جیسے علاقوں سے بھی کئی امیدوار میدان میں ہیں۔ انوار الحق چودھری بھی امیدوار ہیں، تو خود حاجی مقبول احمد کی خواہش بھی ہے۔ دونوں حضرات پارٹی کی اجازت کے منتظر ہیں اور اِسی صورت میں الیکشن میں حصہ لیں گے جب اُن کی جماعتیں ان کو اجازت اور ٹکٹ دیں گی۔ حاجی مقبول احمد اور انوارالحق بالترتیب مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف سے تعلق رکھتے ہیں۔

یہ صبح کی سیراور پارک کی بیٹھک کے مشترکہ دوست ہیں، اس لئے بات کا رُخ قدرتی طور پر اِدھر مڑ گیا ، زور دار بحث ہوئی جس کا اختتام ہنستے کھیلتے یہ ہوا کہ دونوں حضرات ایک ہی علاقے کے مکین ہوتے ہوئے ایک دوسرے کا مقابلہ نہیں کریں گے پھر یہ انکشاف خوش کن تھا کہ دونوں کے حلقے ہی الگ الگ ہو گئے ہیں اور یوں بھی وہ ایک ہی نشست کے لئے امیدوار نہیں ہیں۔ اس صورت حال کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے کھابا گروپ کے پروپیگنڈہ سیکرٹری قسم کے طارق بٹ نے پیشکش کی کہ وہ سب کو لسی، قلچہ کا ناشتہ پیش کرتے ہیں۔ حاجی مقبول احمد نے گرہ لگائی، یہاں پائے بھی ہوتے ہیں۔ ایک غیر جانبدار سی شخصیت نے اسے مناسب نہ جانا اور کہا کہ اگر طارق بٹ خلوص سے پیشکش کرتے ہیں، تو وہیں تک محدود رہا جائے، جس کی اجازت ان کی جیب دیتی ہے، جوش آیا تو حاجی مقبول احمد نے مدینہ شریف سے لائی گئی کھجوروں اور آب زم زم کے ساتھ ناشتے کی اپنی طرف سے پیشکش کر دی۔ فیصلہ ہاں والے کے حق میں ہوا اور جرگہ، پنچائت یا یہ محفل جلد ہی ان کی رہائش گاہ پر منتقل ہو گئی۔ مسلم لیگ(ن) والے حاجی مقبول احمد نے کھجوریں اور آب زم زم پیش کرنے کے بعد کالی مرچ والے چنے اور پائے لانے کے لئے ”بھٹو چنے“ والے کی دکان پر بھیج دیا، بُرا نہ منایئے یوں بھی تو مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کا مُک مُکا ہی چل رہا ہے یہ تو سودا خریدنے والی بات تھی اس سے بھٹو کی حمایت نہیں نکلتی۔

قارئین! آپ کے لئے یہ چھوٹی سی حکایت، یا واردات صرف اس لئے لکھی کہ بلدیات کا بھوت باہر ہے۔ یہ محفل تھوڑی ہی دیر بعد انتخابی محفل بن گئی اور صدیق چودھری نے رانا حنیف کی تائید کی کہ حا جی مقبول کو مسلم لیگ(ن) کا ٹکٹ ملنا چاہئے اور وہ چیئرمین کا الیکشن لڑیں۔ ان کی تو یہ پیشکش بھی تھی کہ یہ پوری مجلس مسلم لیگ(ن) کی قیادت کے پاس جانے کو بھی تیار ہے۔ حاجی مقبول نے یہ پیشکش خوشی سے قبول کی اور اعلان کیا کہ پارٹی ٹکٹ دے گی، تو الیکشن لڑیں گے ایسی ہی کچھ کیفیت انوار الحق چودھری کی بھی ہے وہ تحریک انصاف کے ٹکٹ کی آس میں ہیں، جبکہ زاہد خان خود تو بولے نہیں، لیکن اُن کے بارے میں پہلے سے یہ اطلاع موجود ہے کہ وہ امیدوار ہیں۔

یہ عوامی دلچسپی کا اظہار ہے اور جیسا ہم نے پہلے کالم میں گزارش کی اُن سرگرمیوں نے حکومت کے کئی عیب پس پشت ڈال دیئے اور اب انتخاب انتخاب کا کھیل شروع ہو گیا اور کھابے بھی پھر سے سٹارٹ لے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں حاجی خواجہ طارق کے ایک بامعنی تبصرے پر بات ختم کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، منافقت تو خود الیکشن کمیشن کروائے گا کہ چیئرمین کے انتخاب کے لئے اخراجات کی حد ایک لاکھ روپے مقرر کی ہے۔ یہ تو ایک نہیں، دو دعوتوں میں خرچ ہو جائیں گے۔      ٭

مزید : کالم