علامہ اقبالؒ اور مولانا محمد علی جوہرؒ (3)

علامہ اقبالؒ اور مولانا محمد علی جوہرؒ (3)

 22نومبر 1927ءکو مولانا محمد علی جوہر نے سر محمد شفےع اور علامہ اقبال کو چےلنج کےا کہ وہ سائمن کمےشن کے بائےکاٹ کے اےشو پر مسلمانوں کے کسی بڑے مجمع مےں ان سے مناظرہ کر لےں۔ اس پر خواجہ حسن نظامی نے مولانا محمد علی جوہر کو للکارا کہ وہ اسی موضوع پر ان کے مقابلے مےں دہلی کے کسی جلسے مےں تقرےر کر لےں۔ ابو سلمان شاہجہان پوری رقم طراز ہےں©:”اقبال کے نزدےک قومی اور ملی مسائل اپنے فےصلوں کے لےے غور و فکر اور تدبرو تعقل کے طالب ہوتے ہےں۔ محمد علی نے انہےں ہجوم و اقدام او رجوش و جذبات سے طے کرنا چاہا “۔ان کے پرجوش جذبات اور ہنگامہ پرور مزاج کے پیش نظر کسی نے کہا تھا:

The big guns at Simla respect Mr.Gandhi, laugh at Hasrat Mohani but fear Mohammad Ali

(شملہ کے اعلٰی حکام مسٹر گاندھی کا احترام کرتے ہیں، حسرت موہانی پر ہنستے ہیں ،لیکن محمد علی سے خوف کھاتے ہیں)۔

 جنوری 1928ءمےں محمد علی جوہر لاہو رآئے تاکہ سائمن کمےشن کے بائےکاٹ کے اےشو پر علامہ اقبال کی رائے بدل سکےں۔ لےکن انہےں ناکامی ہوئی کےونکہ اقبال نے بائےکاٹ کی حماےت کے کے لیے یہ شرط لگادی کہ ہندو قائدین مسلمانوں کے مطالبات تسلیم کرلیں۔ سائمن کمیشن سے اقبال اور ان کے رفقا کے تعاون کا مقصد مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ چونکہ ہندو مسلمانوں سے حقیقی مفاہمت کے لیے تیار نہیں اور ہندوو¿ں کی بھاری اکثریت کی وجہ سے کمیشن ان کے مفادات کو نظرانداز نہیں کرسکتا، اس لیے بائیکاٹ سے صرف مسلمانوں کا نقصان ہوگا۔

اپریل 1929ءمیں کمیشن نے اپنا کام ختم کرلیا اور اپنی رپورٹ 1930ءکے وسط میں پیش کردی۔ لیکن اس پر سنجیدگی سے کبھی غور ہی نہ ہوسکاکیونکہ آئینی اصلاحات کا سیلاب اتنی تیزی سے آرہا تھا کہ یہ رپورٹ اس میں بہہ گئی۔

علامہ اقبال جداگانہ انتخاب کے اصول کو ہندوستان میں مسلمانوں کے قومی تشخص کے لیے لازمی سمجھتے تھے اور کسی صورت میں بھی اس سے دست بردار ہونے کے لئے تیار نہ تھے۔جیسا کہ جاوید اقبال اور محمد احمد خاں نے کہا ہے ، یہی نقطہ ان کے تمام سیاسی فکر کا محور تھا۔ اس کے لیے وہ کانگریس سے لڑتے، محمد علی جناح سے جھگڑتے اورمحمد علی جوہر سے الجھتے رہے مگر اس اصول پر مستقل مزاجی سے قائم رہے۔

پنجاب کے مسلم رہنما (علامہ اقبال، میاں فضلِ حسین، وغیرہ)جداگانہ طرزِ انتخاب کو مسلمانوں کے سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے لازمی سمجھتے تھے۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ محدود رائے دہندگی کی سکیم میں جو اُس وقت رائج تھی پنجاب میں مسلمان ووٹروں کی تعداد صرف 40فیصد ہے۔اس لیے مخلوط انتخاب کی صورت میں ساری سیٹیں ہندوو¿ں کے قبضے میں چلی جائیں گی۔اس بات کی بہت کم امید تھی کہ حکومت برطانیہ محدود رائے دہندگی کی جگہ بالغ رائے دہندگی کا اصول منظور کرلے۔لیکن اگر یہ ہو بھی جائے تو اس بات کا سخت اندیشہ تھا کہ ہندوو¿ں کی اقتصادی برتری انتخابات پر اثر انداز ہوگی۔ چونکہ آبادی میں مسلمانوں کو غیر مسلموں پر بہت کم فوقیت حاصل ہے، اس لیے ہندو ایسے مسلم امیدواروں کو انتخابات میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے جو خالصتاًمسلم مفادات کا تحفظ کرسکیں۔ چنانچہ مخلوط انتخاب کی صورت میں پنجاب اور بنگال کے مسلم اکثریتی صوبوں میں بھی ہندوو¿ں کی حکومتیں آجائیں گی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ان دلائل میں بہت وزن تھا۔ مزید برآں، مسلم اقلیتی صوبوں میں ہندو اکثریت اتنی زیادہ تھی کہ اکثریتی فرقے کے نمائندوں کے انتخاب میں مسلم ووٹروں کی آواز مو¿ثر نہیں ہوسکتی تھی۔

پنجاب کے مسلم رہنمابجا طور پر یہ سمجھتے تھے کہ اگر مخلوط طرزِ انتخاب کو مسلمانوں اور کانگریس کے متفقہ مطالبے کے طور پر پیش کیا گیا تو حکومت برطانیہ اسے تسلیم کرلے گی جس سے مسلم اکثریتی صوبوں پنجاب اور بنگال کی حکومتیں بھی ہندوو¿ں کے ہاتھوں میں چلی جائیں گی۔چنانچہ انہوں نے یہ ثابت کرنے کے لیے پورا زور لگادیا کہ مسلمان مخلوط طرزِحکومت کے سخت خلاف ہیں اور حقیقت بھی یہی تھی۔ مارچ1927ءمیں خود محمد علی جناح نے تسلیم کیا کہ اگرچہ وہ ذاتی طور پر مخلوط انتخاب کے حق میں ہیں لیکن مسلمانوں کی بھاری اکثریت دیانتداری کے ساتھ جداگانہ انتخاب چاہتی ہے۔ اصل مقصدبہر حال یہ ہے کہ اقلیتوں کو یہ احساس ہو جائے کہ وہ محفوظ ہیں۔

یکم مئی 1927ءکو برکت علی محمڈن ہال لاہور میں سر محمد شفیع کی صدارت میں پنجاب مسلم لیگ کے زیرِ اہتمام مسلمانوں کا ایک جلسہ عام ہوا جس میں جداگانہ انتخاب برقرار رکھنے کے لیے علامہ اقبال کی پیش کردہ مندرجہ ذیل قرارداد منظور ہوئی:

”پنجاب صوبائی مسلم لیگ اپنے اس عقیدے کا اعادہ کرتی ہے کہ ملک کی موجودہ سیاسی حالت میں صرف جداگانہ حلقہ ہائے انتخاب ہی کے ذریعہ سے مرکزی مجلسِ قانون ساز اور صوبائی کونسلیں باشندگانِ ہند کی حقیقی نمائندہ مجالس بن سکتی ہیں۔حلقہ ہائے انتخاب کی علیحدگی ہی سے باشندوں کے جائز حقوق و فوائد محفوظ رہ سکتے ہیں اور اسی صورت میں فرقہ و ارانہ کشمکش دور ہوسکتی ہے....اس لیے لیگ کی یہ قطعی رائے ہے کہ جب تک اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کا مو¿ثر انتظام نہ ہو، اس وقت تک مسلمان جداگانہ انتخاب کو دستور ہند کے ایک اساسی جزو کی حیثیت سے قائم رکھنے پر مصر ہیں“۔

ہندوستان میں مخلوط انتخاب رائج کروانے اور رام راج قائم کرنے کی کانگریسی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے ،29دسمبر1928ءسے یکم جنوری1929ءتک دہلی میں آل پارٹیز مسلم کانفرنس کے بھرپور اجلاس ہوئے۔ آغا خاں نے صدارت کی۔ خطبہ صدارت کے بعد سر محمد شفیع نے ایک قرارداد پیش کی جس میں تجاویزِ دہلی والے تمام مطالبات کے علاوہ اس بات پر زور دیا گیا کہ مسلمان کسی شرط پر اور کسی صورت میں بھی جداگانہ انتخاب سے دست بردار نہیں ہوں گے۔مزید برآں ہندوستان کا آئین وفاقی ہوجس میں فاضل اختیارات صوبوں کو دیے جائیں اور مرکزی یا کسی صوبائی اسمبلی میں اگر کسی فرقے کے 75فیصد ارکان کسی بل کی مخالفت کریں تو وہ بل قانون نہ بن سکے۔ سر محمد شفیع نے یہ قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا:

”اس کانفرنس میں ہر خیال اور ہر نقطہ نظر کے لوگ شریک ہیں۔ خلافت کمیٹی کی روح علی برادران ہیں۔ جمیعت العلمائے ہند کے صدر مفتی کفایت اللہ ہیں۔ تحریکِ ترکِ موالات کے مولانا شفیع داو¿دی ہیں۔ہندوستان کی مرکزی اسمبلی اور صوبائی کونسلوں کے ایک سو سے زیادہ ارکان موجود ہیں۔ پھر ان سب سے بالا، وہ یکتائے زمانہ شخصیت ہے جو اس وقت کرسی صدارت پر رونق افروز ہے اور جو دنیائے اسلام میں بے نظیر ہے۔ یہ نظّارہ دیکھنے کے بعد بھی اگر کوئی شخص اس کانفرنس کو مسلمانانِ ہند کی نمائندہ آواز قرار دینے سے انکار کرتا ہے تو یقینا وہ دروغ گو ہے۔ جو فیصلے ہم آج کررہے ہیںان کے ساتھ پوری مسلم قوم کی ہم نوائی کا وزن شامل ہے....اگر برطانوی حکومت نے ہمارے ان مطالبات کومنظور کرنے سے انکار کردیا اور ہماری مرضی کے خلاف ہندوستان پر کوئی آئین مسلط کرنے کی کوشش کی تو ہم اسے قبول نہیں کریں گے“۔

علامہ اقبال نے قرارداد کی حمایت میں تقریر کرتے ہوئے کہا:”اگر مسلمانوں کو ہندوستان میں بحیثیت مسلمان زندہ رہنا ہے تو ان کو جلد از جلد اپنی اصلاح و ترقی کے لیے سعی و کوشش کرنی چاہئے اور ایک علیحدہ سیاسی پروگرام بنانا چاہیے۔ہندوستان کے بعض حصے ایسے ہیں جن میںمسلمانوں کی اکثریت ہے اور بعض حصے ایسے ہیں جن میں وہ قلیل تعداد میں ہیں۔ان حالات میں ہمیں علیحدہ طور پر ایک سیاسی پروگرام بنانے کی ضرورت ہے۔ آج ہر قوم اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے سعی و کوشش کر رہی ہے۔پھر کیا وجہ ہے کہ مسلمان اپنے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے سعی و کوشش نہ کریں۔آج اس کانفرنس میں جو ریزولیوشن پیش ہوا ہے وہ نہایت صحیح ہے اور اس کی صحت کے لیے میرے پاس ایک مذہبی دلیل ہے اور وہ یہ کہ ہمارے آقائے نامدار حضورسرور دو عالمﷺنے ارشاد فرمایا ہے کہ میری امت کا اجماع کبھی گمراہی پر نہ ہوگا“۔

سر محمد شفیع کی قرارداد جس کی تائید علامہ اقبال نے کی متفقہ طور پر منظور ہوئی۔  کانگریس سے مایوس ہونے کے بعد،مولانا محمد علی جوہر بھی اس کانفرنس میں شریک ہوئے۔اس کانفرنس نے کانگریس کی سیاست کو کامیاب نہ ہونے دیا۔

مولانا محمد علی جو ہرکو اقبال کے سیاسی فکرو عمل سے اختلاف رہالیکن انہوں نے اقبال کی شاعری کی عظمت کے سامنے ہمیشہ سرِ تسلیم خم کیا۔چنانچہ اپنے اخبار ”کامریڈ“ کے ایک مضمون میں رقم طراز ہیں:اقبال کی شاعری کی جب میں نے ایک جھلک ہی دیکھی تھی،اس سے سالہا سال پہلے دوسروں کو اقبال کے نابغہ¿ عصرہونے کا احساس ہو چلا تھا۔لیکن اتنا دعویٰ تو میں بھی کر سکتا ہوںکہ اس کے افسوں کے زیر اثر آنے کے بعد میں تلافی مافات میں دل و جان کے ساتھ لگ گیا۔ ۔۔۔ اقبال بیسویں صدی کے ہندوستان میں بیداری¿ اسلام کا شاعر ہے۔ اسلامی ہند کسی اور انسان کا اس حد تک رہینِ منت نہیں جس قدر وہ لاہور کے اس منکسر مزاج، شرمیلے اورعُزلت گزیں بیرسٹر کا مرہونِ احسان ہے۔

دونوں مسلم رہنماﺅں کے درمیان دوستانہ تعلقات اور بے تکلفی تھی۔ چنانچہ 1915ءمیں ”کا مریڈ“ کے مقدمے کے سلسلے میں محمد علی جب بھی لاہور آتے تو علامہ اقبال کے مہمان ہو تے ۔ اقبال کی مثنویات ” اسرارِ خودی “ اور ”رموزِبے خودی “ شائع ہو ئیں تو ان کی ایک ایک کاپی محمد علی جو ہر کو بھی بھیجی گئی ۔ ” اسرار خودی “ سے وہ اس قدر متاثر ہو ئے کہ مولانا عبدالماجد دریا بادی کو ایک خط میں لکھا: ” لکھنے بیٹھا تھا خط مگر لکھ گیا اقبال کی مثنوی شریف (اس خط میں انہوں نے اقبال کے مثنوی کے 40سے زائد اشعار نقل کر دئے تھے) ....بحیثیت ادب اس کا پا یہ میری نثرسے اتنا ہی اونچا ہے جتنا زمین سے آسمان کا“۔اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں: ”(”اسرار خودی “ پڑھ کر ) ہم نے محسوس کیا کہ مر مر کی مورتوں میں بھی زندگی کا سیل آتش دوڑنے لگا ہے “ ۔ پھر تحریر کرتے ہیں: ” میری خوشی کی کو ئی انتہا نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ یہ فلسفی شاعر اپنے انوکھے انداز میں اسلام کے ان ہی بنیادی حقائق کو پیش کر تا ہے جن کا خود میںنے  بہ تمام مشکل ادراک کیا تھا“۔

میا ں فیروز الدین احمد سے روایت ہے کہ ایک دفعہ مولانا محمد علی لاہور آئے اور اقبال سے ملنے گئے ۔ اقبال پلنگ پر بیٹھے تھے اور محمد علی سامنے کر سی پر ۔ اقبال کسی کام سے اٹھنے لگے تو پاﺅں نیچے لٹکا کر جو تا تلاش کیا جو پلنگ کے بہت نیچے چلا گیا تھا ۔ محمد علی دیکھ رہے تھے ۔ انہوں نے اٹھ کر جو تا اپنے ہا تھ سے نکال کر سامنے رکھ دیا اور کہا:” اقبال ، فخر کر کہ محمد علی تیرا جو تا سیدھا کر تا ہے“۔اقبال کمال کے حاضر جواب تھے۔ ہنس کر کہا : ” محمد علی ، سچ بات تو یہ ہے کہ تم میرا جو تا سیدھا کر نے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے“۔اس پر خوب قہقہہ بلند ہوا۔

عبداللطیف اعظمی لکھتے ہیں: علامہ اقبال کی شاعری سے مولانا محمد علی اس قدر متاثر تھے کہ جامعہ ملیہ کے طلباءکو پڑھا تے تو قدم قدم پر اقبال کے اشعار پڑھتے اور لطف لے لے کر سناتے ۔

4جنوری 1931ءکو وہ شخص کہ جس کا دل نپولین کا ، زبان برک کی اور قلم میکالے کا تھا، لندن ہی میں انتقال کر گیاجہاں وہ پہلی گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے گئے ہوئے تھے۔ مفتی اعظم فلسطین کے کہنے پر انہیں بیت المقدس میں دفنایا گیا۔ اس موقع پر اقبال نے کہا:   

اے خوشا مشت غبارِ او کہ ازجذبِ حرم

از کنارِ اندلس و از ساحلِ بربر گزشت

خاکِ قدس او را بہ آغوشِ تمنا در گرفت

سوئے گردوں رفت زاں راہے کہ پیغمبر گزشت

 (ترجمہ: مبارک ہے وہ مشت غبارجو حرم کی کشش سے اندلس کے کنارے اور بربر کے ساحل سے گزرگئی ۔ بیت المقدس کی سرزمین نے اسے اپنی آغوش تمنا میں لے لیا اور وہ اس راستے سے آسمانوںکی طرف چلاگیا جس راستے سے پیغمبر گزرے تھے)۔

محمد سرور جامعی لکھتے ہیںکہ علامہ اقبال کے1921-1920ءکے کلام میں ترک و عرب کی داستان اور اسلامیوں کا سوزوساز بڑا نمایاں ہے۔خاص طور سے ان کی مشہور نظم ”خضرِ راہ“، اس دورمیں مسلمانوں کے قلب و دماغ کی جو کیفیت تھی، اس کی پرجوش ترجمانی کرتی ہے۔بر صغیر کے اسلامی ذہن میں اس کیفیت کو پیدا کرنے میں بے شک اس زمانے کے اور رہنماو¿ں کا بھی حصہ ہے لیکن اس کاروانِ حریت کے قائد مولانا محمد علی تھے۔

محمد علی جوہر ایک جذباتی آدمی تھے جن کے عزم و ہمت نے جذباتیت کے سائے میں ہندوستان کی آزادی کے لیے جد وجہد کی ۔ لیکن اقبال معاملات کو پورے غور وفکر کے بعد طے کرتے تھے اور سیاسی معاملات میںفیصلے کر تے وقت ہندو قوم کی سوچ اور رویے کو نظر انداز نہ کرتے۔(ختم شد)  ٭

مزید : کالم