اقبال کی ٹےلی فلمےں

اقبال کی ٹےلی فلمےں
اقبال کی ٹےلی فلمےں

  

تفرےح اور انفارمےشن کی دنےا مےں آج کل ڈاکومنٹری اور ٹےلی فلمےں بنانے کا شوق اور کاروبار عروج پر ہے ۔ اس مقصد کےلئے بڑے اور جدےد ترےن سہولتوں سے لےس پروڈکشن ہاو¿س کام کر رہے ہےں ۔ چھوٹے چھو ٹے موضوعات پر ٹےلی فلمےں بنانے کےلئے لاکھوں نہےں۔۔۔ کروڑوں روپے کے بجٹ کی ضرورت ہوتی ہے اور پھر ان ٹےلی فلموں کو دنےا کے بڑے بڑے اےوارڈز کےلئے نامزد کےا جاتا ہے۔

 ےہ اعزاز علامہ محمد اقبال کو جاتا ہے کہ اس دور مےں جب متحرک فلمےںابھی اپنی شروعات مےں تھےں ۔اےسی اےسی ٹےلی فلمےں بنائےں کہ آنے والی کئی صدیوں کو اس طرح کے شاہکار بنانے کےلئے تخلےقی ذہنوں کا انتظار کرنا پڑے گا۔ اقبال کی نظمےںگویا اےسی شاہکار ٹےلی فلمےں ہےں ‘ کہ نہ تو ان جےسا سکرپٹ لکھا جاسکتا ہے ،نہ فوٹو گرافی ہو سکتی ہے ‘ نہ ڈےزائنگ ہو سکتی ہے ‘ نہ لائٹنگ ہو سکتی ہے اور نہ ہی موضوع کو کوئی اپنی ڈائرکشن سے اس طرح فلما سکتا ہے جس طرح اقبال نے انہیں لفظوں سے روپ دیا ۔ےوں تو اقبال نے زےادہ تر نظمےں بچوں کےلئے لکھیں۔۔۔لےکن ان کا پےغام آفاقی ہے ۔رنگ و نسل اور جغرافےائی حدود سے بالاتر ہےں ۔”ہمدردی“ کے نام سے علامہ اقبال کی نظم کے آٹھ اشعار اور پچانوے لفظ ہےں۔ اپنے موضوع کے اعتبار سے ےہ نظم پوری انسانےت اور اس کے دنےا مےں آنے کے مقصد کی ترجمان ہے ۔بلبل اور جگنو کے واقعے مےں انسانوں کےلئے اےک اےسا سبق چھوڑا جو روح تک کو تروتازہ کر دےتا ہے ۔اس نظم کے آغاز مےں اقبال نے بلبل کی ظاہری اور باطنی کےفےت کو فلما ہی تو دےا ہے ۔

ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا

بلبل تھا کوئی اداس بےٹھا

اس نظم کے دوسرے اشعار مےں بلبل کی مشکلات اور جگنو کے مدد کرنے کے جذبے کو جس طرح اقبال نے روشن کےا ہے اور دوسروں کی مدد کرنا ‘ افضل ترےن فعل ہے کی بھرپور عکاسی ہوتی ہے ۔ خاص طور پر اقبال نے آخری شعر مےں تودرےا کو کوزے مےں بند کرناسچ کر دکھاےاہے

ہےںلوگ وہی جہاں مےں اچھے

آتے ہےں جو کام دوسروں کے

نظم ± اےک گائے اور بکری “ پڑھ لےں ۔ محسوس ہوگا کہ جیسے آپ نے اےک مکمل ڈاکومنٹری دےکھی ہے ۔اس نظم کے آغاز میں قدرتی ماحول کو حقےقی انداز مےں پےش کےا گےا ہے ۔

اک چراگاہ ہری بھری تھی کہےں

تھی سراپا بہار جس کی زمےں

نظم کے دو کردار گائے اور بکری منظرمےںایسے داخل ہو تے ہےں کہ ان کی گفتگو اور مکالمے مےں پوری متحرک تصوےر نظر آتی ہے ۔

پہلے جھک کر اسے سلام کےا

پھر سلےقے سے ےوں کلام کےا

 اس نظم مےں پھر گائے کے انسانوں کے حوالے سے شکوے اور بکری کی انسانوں کے ساتھ محبت کی دلےلےں۔آنکھوںاور کانوں دونوں کو اپنی طرف محو رکھتی ہے اور نظم کا اختتام ےوں کےا کہ اےک عظےم حقےقت کو انتہائی سادگی سے دل کی گہرائےوں مےں اتار دےا ۔

ےوں تو چھوٹی ہے ذات بکری کی

دل کو لگتی ہے بات بکری کی

اقبال کی اےک اور نظم : ± ± اےک پہاڑ اور گلہری “ اےسی ڈاکومنٹری ہے کہ جس کو جتنی مرتبہ دےکھےں اتنے ہی راز کھلتے جاتے ہےں۔ پہاڑ کا غرور کس طرح سر چڑھا ہوا ہے۔ 

جو بات مجھ مےں ہے تجھ کو وہ نصےب کہاں

بھلا پہاڑ کہاں جانور غرےب کہاں

درختوں پر برق رفتاری سے چھلانگےں لگانے والی گلہری کی عاجزی دےکھےں ۔۔تو اقبال کے اندر کا مضبوط انسان نظر آتا ہے ۔ےہی گلہری اپنی ناتواں طاقت سے اےسے دلائل دےتی ہے کہ پہاڑ شرمندہ ہو جاتا ہے اورنظم کے پردہ سکرےن پر ےہ شعر نقش چھوڑ دےتا ہے ۔

نہےںہے چےز ‘ نکمی کوئی زمانے مےں

کوئی برا نہےں قدرت کے کارخانے مےں

خوشامد کتنی بڑی لعنت ہے ‘ اور کتنا بڑا جال جو انسان کو اپنے اندر جکڑ لےتا ہے ۔اےک مکڑے کی کہانی جو مکھی کو کھانا چاہتا ہے۔تمام کوششےں ناکام ہو جاتی ہےں تو مکھی کی خوشامد کرتا ہے اور مکھی خوشامد مےں اپنا آپ بھول جاتی ہے اور مکڑا اسے شکار کر لےتا ہے ۔کےا زبردست ڈاکو منٹری ہے جو ہر دور کے انسانوں کےلئے مشعل راہ ہے ۔خوشامدیوں کےلئے ۔۔۔اےک مکڑا اور مکھی کے نام سے اقبال کی ےہ نظم اےک نشان عبرت ہے ۔بانگ درا کی پہلی نظم ہمالہ کو پڑھ کر دےکھےں ‘ کسی بے جان پہاڑ کا احساس نہےں ہوتا ‘ بلکہ لگتا ہے کہ حقےقت مےں کسی جاندار سے مخاطب ہےں ۔ خاص طور پر ےہ شعر اپنے اندر بھرپور مکالمہ کی نشاندہی کرتا ہے ۔

اے ہمالہ ! داستان اس وقت کی کوئی سنا

مسکن آبائے انساں جب بنا دامن ترا

نظم ± ماں کی دعا ‘ ممتا کی محبت اور دائمی حقےقتوں کے راز افشا کرتی ہے ۔عالم ارواح میں بچوں کے چلنے کا منظر ‘ ان کے لباس ان کے احساسات ‘جس خوبصورتی سے پےش کئے گئے ہےں ‘ گمان ہوتا ہے کہ ےہ پوری فلم ہے جسے اقبال نے اپنی نظر کی ڈائرےکشن سے فلماےا ہے ۔

 خاص طور پر بچے کا ماں سے ےہ مکالمہ درد کی کےفےت پےدا کرتا ہے ۔

رلاتی ہے ‘ تجھ کو جدائی مےری 

نہےں اس مےں کچھ بھی بھلائی مےری

نظم ”عقل و دل“ میں دل اور دماغ کی بحث کو اس خوبصورتی سے سمےٹا ہے کہ دونوں کی فطری اور مادی صلاحےتوں کاٹکراو¿ نظر آتا ہے۔ عقل دل سے کہتی ہے کہ

بوند اک خون کی ہے تو لےکن !

غےر ت لعل بے بہا ہوں مےں

اور دل کا جواب کمال ہے ۔

کس بلندی پہ ہے مقام مرا

 عرش رب جلےل کا ہوں مےں !

پرندے کی فرےاد ، شمع و پروا نہ، ماں کا خواب، بچے کی دعا ۔۔صدائے درد ۔۔ موج درےا ۔۔ ۔ چاند ۔۔۔ صبح کا ستارا ۔۔۔جگنو ۔۔ ترانہ ہندی ۔۔کس کس نظم کا ذکر کرےں بعض نظموں مےں اےک اےک شعر اور اےک اےک مصرعہ اےسا ہے کہ اس مےں پوری فلم کا پےغام ہے ‘ اقبال نے کےا کےانہےں تخلےق کےا؟ان نظموں مےں زندگی گزارنے کے اےسے اصول بےان کئے ہےں جو زمان و مکان کے محتاج نہےں ۔مرد قلندر کے ذہن پر اترنے والے ےہ لفظ کاغذوں پر اس طرح متحرک تصوےر بنے ‘ کہ آج کے بڑے سے بڑے پروڈکشن آفس بھی لاکھوں روپے خرچ کرکے اےسے شاہکار بنانے سے قاصر ہےں ۔ان نظموں کو پڑھےں تو لگتا ہے کہ جےسے سب کچھ دےکھ رہے ہےں ۔منظر بھی واضح ہےں۔۔۔کردار بھی اپنا کمال دکھا رہے ہےں ۔اےک اےک مکالمہ حقےقی جذبات سے بھرا ہوا ہے ا ور اےسا کےوں نہ ہو۔۔۔ ےہ اقبال کی ٹےلی فلمےں ہےں ۔ےہ اقبال کی بنائی ہوئی ڈاکومنٹریز ہےں ۔ہاں ےہ بات صحےح ہے کہ ان فلموں کو دےکھنے کےلئے صرف بصارت کی نہےں ۔۔۔ بصےرت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ کےونکہ خود اقبال نے کہا ہے کہ :

ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی

ہو دےکھنا تو دےدہ دل وا کرے کوئی

مزید : کالم