پولیس نے سڑک بند کر کے شہریوں کی زندگی عذاب بنا

پولیس نے سڑک بند کر کے شہریوں کی زندگی عذاب بنا

دیمریدکے(نامہ نگار)نیشنل ہائی وے اینڈ موٹر وے پولیس نے شہری حدود میں سڑک عبور کرنے کے تمام راستے بند کرکے شہریوں کی زندگی عذاب بنا دی۔ برائے نام سروس روڈ پر تجاوزات اور رکشہ ڈرائیوروں کے قبضہ سے شہریوںکے لئے مشرق سے مغرب کی طرف جانے کے لیے پانچ کلو میٹرسے زائد کا سفر طے کرنا ضروری بن گیا۔ جنازوں کی تدفین اور خواتین ، بچوں سمیت معذور افراد کے لیے جی ٹی روڈ کا دوسرا حصہ نو گو ایریا بن کر رہ گیا۔ تفصیل کے مطابق نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے نام نہاد انجینئروں کے ناکام ڈیزائن کے مطابق بیرون شہر پانچ سے چھ کلو میٹر کے فاصلے پر یو ٹرن رکھے گئے ہیں جس سے شہر کے ایک حصے سے دوسرے میں جانا عذاب بن کر رہ گیا ہے۔ پیدل افراد کے لیے بنائے جانے والے انڈر پاس اندھیرے اور بدبو کے باعث نا قابل استعمال ہو چکے ہیں جبکہ معمولی بارش سے کئی ہفتے تک پانی میں ڈوبے رہنا معمول ہے۔ برائے نام سروس روڈ پر تجاوزات اور رکشہ مافیہ کا قبضہ ہو چکا ہے جس وجہ سے کسی بھی گاڑی اور موٹر سائیکل کا گزرنا بھی نا ممکن ہو چکا ہے۔ نیشنل ہائی وے اینڈ موٹر وے پولیس نے سڑک کے درمیان چھوٹے چھوٹے راستے بھی بھاری بھر پتھر رکھ کر بند کر دیئے ہیں جس سے نہ صرف خواتین، بچوں اور معذور افراد کا دوسری طرف جانا نا ممکن ہو گیا بلکہ مردوں کی تدفین کے سلسلہ میں قبرستان تک رسائی بھی مشکل ہو کر رہ گئی ہے۔سکولوں کے اوقات کے دوران موٹر سائیکلو ں اور گاڑیوں پر سوار افراد اپنے بچوں سمیت کئی منٹ تک جی ٹی روڈ کراس کرنے کے لیے کھڑے رہتے ہیں جس پر حادثات کا شدید خطرہ رہتا ہے۔ شہریوں نے وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار رانا تنویر حسین کی وساطت سے وزیر اعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ مریدکے اور کامونکے میں اندرون شہر کم فاصلے پر یو ٹرن بحال کرکے شہریوں کو مصائب سے نجات دلائی جائے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4