آئی ایم ملالہ ، دال میں کالا

آئی ایم ملالہ ، دال میں کالا
آئی ایم ملالہ ، دال میں کالا

  

لندن (بیورورپورٹ)اے پی ایل برطانیہ اور راچڈل لائ سوسائٹی کے صدر بیرسٹر امجد ملک نے کہا ہے کہ ملالہ یوسف زئی کی کتاب میں گستاخ رسول سلمان رشدی کے حوالے ‘ اسلام کی آزادی رائے پر طعنہ زنی ‘ اور پاکستانی عورتوں پر بے جا اعتراضات قابلِ اعتراض ہیں اور ‘ دال میں ضرور کچھ کالا ہے۔’پاکستان‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ مکمل صحتیابی سے پہلے ہی اتنی جلدی کتاب کیسے لکھ ڈالی ؟ یہ لمحہ فکریہ ہے۔ اگر کتاب ملالہ نے سوات کی زیر تعلیم لڑکیوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے لکھی ہوتی تو انگریزی کے بجائے اردو یاپشتو میں ہوتی تاکہ سکینڈری سطح کی لڑکیاں استفادہ کرتیں۔ 18سالہ لڑکی کی کتاب کا سکرپٹ کسی اور نے لکھا اور شہرت کوئی اور حاصل کر رہا ہے۔ درحقیقت اسکا مقصد مغربی مداحوں کے دل جیتنا ہے،انہوں نے کہا کہ ملالہ یوسف زئی کو علاج معالجے کے لیے برطانیہ بھیجنا پاکستانی حکومت کی سب سے بڑی غلطی تھی اور اب اسے والد سمیت واپس نہ بلانا بھی سب سے بڑی غلطی ثابت ہو گی کیونکہ اب ملالہ پاکستانی زبان نہیں بلکہ مغربیت کا پرچار کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ اگر یہی صورتحال قائم رہی تو اسلام کیخلاف پرچار کرنے پر برطانیہ سے سر کا خطاب پانے والے سلمان رشدی کے راستے پر گامزن ہو جائیگی،مسلمانوں سے نفرت کے اظہار کیلئے ملالہ انکی آئیڈل شخصیت بن گئی ہے جس پر اب غیر اسلامی طاقتیں انویسٹمنٹ کر رہی ہیں اور وہ جواب میں انہیں ڈبل منافع دیگی۔ ملالہ کا والد برمنگھم میں پاکستانی قونصلیٹ میں تھرڈ سیکرٹری تعینات ہے جس نے بیٹی کے نام پر چیئرٹی بھی قائم کر رکھی ہے،ر ملالہ چیئرٹی فنڈ کیلئے مغرب میں ایک برانڈ نیم بن گیا ہے۔سوچنے کی بات ہے کہ اس نے کون سا ایسا کارنامہ سر انجام دیا ہے کہ دنیا کی بڑی عالمی طاقتوں کے سربراہان اس سے ملنا اپنے لیے اعزاز کی بات سمجھیں ،اگر ملالہ کو تعلیم کے فروغ اور خواتین کا اتنا ہی خیال ہے تو وہ پاکستان میں آ کر اپنا مشن جاری رکھے نہ کہ مغرب کے ہاتھوں پاکستان کے مفادات اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتی رہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس