قوم جاگ رہی ہے!!

قوم جاگ رہی ہے!!
قوم جاگ رہی ہے!!

  

ضرب عضب کی شکل میں فوج ہماری بقاء کی جنگ لڑ رہی ہے۔دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھار پھینکنے کا یہ ایک نادر موقع ہے۔پوری قوم اس جنگ میں افواج پاکستان کے پیچھے کھڑی نظر آتی ہے۔اس کا عملی مظاہرہ چند دن قبل 8محرم کو اس وقت دیکھنے میں آیا، جب دہشت گردوں نے اپنے ناپاک عزائم کے حصول کے لئے واہگہ بارڈر پر خودکش حملے کئے، جس کے نتیجے میں اب تک 61 لوگ شہید اور 100سے زائد زخمی ہو گئے۔یہ حملہ دراصل کثیر المقاصد حملہ تھا،جس کا ایک مقصد جذبہ ء قومیت اور پاکستانیت نیز حب الوطنی کو کمزور کرنا تھا، لیکن دشمنوں کی اس گھناؤنی حرکت کا منہ توڑ جواب اگلے ہی دن پوری قوم نے دوبارہ اسی دھماکے والی جگہ پر جا کر اور پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا کر اس طرح دیا کہ ساری دنیا نے دیکھا کہ اب پاکستانی قوم جاگ گئی ہے۔وہ اپنے دشمنوں کے ناپاک اداروں کو بھانپ گئی ہے اور ملکی سلامتی اور امن کی خاطر اپنی فوج کی پشت پر ہے۔واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے کی تقریب کا دوبارہ آغاز دشمنوں کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ ہے۔

محرم اور واہگہ سانحہ کے دوران قومی کرکٹ ٹیم کا آسٹریلیا جیسی تجربہ کار کرکٹ ٹیم کو ٹیسٹ سیریز میں دھول چٹانا اس بات کا عکاس ہے کہ جب عقابی روح شاہینوں میں بیدار ہوتی ہے تو وہ اپنے مد مقابل کو آسانی سے زیر کر لیتے ہیں۔پوری قوم نے دیکھا کہ پوری ٹیم کیسے یک جان ہو کر کھیلی۔یونس خان، اظہر علی اور مصباح الحق نیز سرفراز احمد، احمد شہزاد، ذوالفقار بابر اور یاسر شاہ نے جس طرح جانفشانی، محنت اور عزم و ہمت سے کھیل پیش کیا، اس کا اظہار دنیا بھر کے کرکٹ پنڈتوں نے جی بھر کر اپنی داد سے دیا اور برملا کہا کہ پاکستانی ٹیم جب چاہے اپنے پسند کے نتائج حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔گل مکئی ملالہ یوسف زئی کی دلیری اور جرات کا لوہا پوری دنیا مان گئی ہے اور نوبل انعام کا حقدار ٹھہرا کر اس بات کو تسلیم کرلیا گیا ہے کہ یہ مٹی بڑی زرخیز ہے اور اس میں بڑے بڑے ہیرے اور جواہرات پائے جاتے ہیں۔بات صرف تراشنے اور جوہری کی نظر کی ہے۔

بحیثیت قوم جن مسائل اور چیلنجوں کا ہمیں سامنا ہے، ان مسائل اور چیلنجز کے بارے میں آگاہی اور شعور عوام میں بیدار ہو رہا ہے۔ پولیو، ڈینگی، ایبولا وائرس کے خلاف مل جل کر لڑنے اور انہیں ختم کرنے کے لئے پوری قوم میں احساس اجاگر ہو رہا ہے۔خاص طور پر پولیو کے بارے میں ہمیں یکجا اور یک زبان ہونے کی ضرورت ہے۔یہ بات بڑے شدید افسوس کی ہے کہ صرف پاکستان میں ابھی تک یہ بیماری ختم نہیں کی جا سکی اور اس کی وجہ سے پورے ملک کا نام بدنام ہو رہا ہے۔اگر مل کر کوشش کی جائے تو یہ مرض ختم کیا جا سکتا ہے۔ عوام کو اس سلسلے میں تعاون کرنے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر ان متاثرہ علاقوں کے والدین، زعماء ، علماء اور بڑوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مشن سمجھ کر پولیو کے قطرے اپنے بچوں کو پلا کر ہماری آئندہ نسلوں کو اپاہج ہونے سے بچائیں۔

تھر کے ریگستانوں میں بھوک پیاس سے مرتے بچے بطور انسان اور ہم وطن پاکستانی ہونے کے ناطے ہم سے سوال کررہے ہیں کہ ہم نے ان کے لئے کیا کیا ہے اور ان کا کیا قصور ہے؟ کیا وہ پاکستانی نہیں ہیں اور کیا ان کا اس سرزمین اور اس کے وسائل پر کوئی حق نہیں ہے۔تمام صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو اپنی طرز حکمرانی کو بدلنا ہوگا، کیونکہ اب قوم جاگ رہی ہے اور دیکھ رہی ہے کہ کون ڈلیور کررہا ہے اور کون وقت پاس کرکے اپنی جیبیں بھر رہا ہے۔ محرم کے دوران بھی بھائی چارے اور ہم آہنگی کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا، وہ لائق تحسین ہے۔یہ جذبہ اور طرزِ عمل سارا سال جاری رہنا چاہیے۔حکمرانوں کو اب سوچنا چاہیے کہ قوم اب صرف خالی نعروں، وعدوں اور باتوں سے بہل جانے والی نہیں ہے۔اب انہیں قوم کے لئے کچھ کرکے دکھانا ہوگا۔سیاسی جماعتوں کو یہ احساس ہو جانا چاہیے کہ عوامی خدمت میں ہی کامیابی ہے، ورنہ عوام جلد ان کو مسترد کر دیں گے۔

اگرچہ پٹرول اور تیل کی قیمتوں میں کمی سے وقتی طور پر عوام کو کچھ ریلیف ملا ہے، لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ مہنگائی سارا سال متوازن اور قابو میں رہنی چاہیے۔ پاکستانی عوام کا یہ حق ہے کہ وہ بھی اپنا معیارِ زندگی بہتر کریں، انہیں بھی صحت، تعلیم، ملازمت ، روٹی، کپڑا اور مکان کی سہولتیں میسر ہوں۔ عوام کے ٹیکس کا پیسہ عوام پر لگنا چاہیے اور اس کے فوائد عوام کو نظر آنے چاہئیں۔الغرض پاکستانی عوام میں احساس، شعور اور اپنے حق کے لئے جدوجہد کا جذبہ بیدار ہو چکا ہے۔دراصل یہی جذبہ کسی قوم کے آگے بڑھنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اس قوم کے لوگوں میں یہ احساس اجاگر ہو جائے کہ ان کو بھی جینے، آگے بڑھنے، ترقی کرنے اور سر اٹھا کر چلنے کا حق حاصل ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جس سے ہماری قوم آج گزر رہی ہے۔

مزید :

کالم -