نارنگ منڈی کے حل طلب مسائل

نارنگ منڈی کے حل طلب مسائل
نارنگ منڈی کے حل طلب مسائل

  

ضلع شیخوپورہ کی تحصیل مریدکے جو کہ پہلے تحصیل فیروز والا تھی اس کا معروف قصبہ نارنگ منڈی کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔ یہ علاقہ سپر باسمتی چاول کوالٹی کے اعتبار سے دنیا میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا۔ نارنگ کی شرقی سرحد بھارت کے ساتھ ملتی ہے اور شمال میں ضلع نارووال ، ضلع گوجرانوالہ او ر جنوب میں ضلع لاہور کے ساتھ ملتی ہیں ۔ بی آر بی ، ایم آر لنک اور دریائے راوی کے وسط میں نارنگ اور ملحقہ دیہات ہر قسم کی فصلوں ، سبزیوں ، پھلوں کی پیداوار سے لبریز ہیں اور پاکستان اربوں روپے چاول ، سبزیوں ، پھلوں سے زرمبادلہ کی صورت میں حاصل کرتا ہے یہاں کے لوگ محنتی ، جفاکش اور مُلک کی آزادی و خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لئے اپنے تن من دھن تک قربان کر دینے کے جذبے سے سرشار رہتے ہیں۔اب نارنگ او ر ملحقہ دیہاتوں میں عوامی مسائل کی طرف آتے ہیں جو حکومت کی توجہ اور حل کے لئے منتظر ہیں۔

1۔تعلیمی مسائل :۔

نارنگ سمیت سینکڑوں دیہاتوں ، مشمولہ جات کے طلبا و طالبات تعلیم حاصل کرنے کے لئے پہلے نارنگ آتے ہیں اور پھر بذریعہ ٹرین اور بائی روڈاعلیٰ تعلیم کے لئے لاہور جاتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ خواتین کے لئے ڈگری کالج کی بلڈنگ دوسال قبل تعمیر ہو گئی تھی، لیکن ابھی تک کلاسز کا آغاز نہیں ہو سکا ،جس سے بچیاں طویل سفر طے کر کے لاہور جاتی ہیں ۔ اِسی طرح ووکیشنل سکول کی خواتین کے لئے سابقہ حکومت میں منظور ی ہو گئی تھی وہ قائم نہیں ہو سکا۔ گورنمنٹ بوائز ہائی سکول رفیق آباد اور گورنمنٹ بوائز ہائی سکول نارنگ شہر میں نئے بلاکس کی تعمیر کی اشد ضرورت ہے ۔ حکومت گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین میں نئی کلاسزکا اجرا اور ووکیشنل سکول کے قیام فی الفور کرے ۔ تمام طلبا و طالبات کے سکولوں میں واٹر کولر کی تنصیبات اور چار دیواری بھی مکمل کی جائے۔

2۔ایل ٹی سی B-30بس روٹ شروع کرے:

ریلوے اسٹیشن لاہور سے نارنگ منڈی ریلوے اسٹیشن تک براستہ کالا خطائی روڈ کے لئے 10یل ٹی سی بسیں B-30کی منظوری ہوئی، لیکن اس روٹ پر بس نہیں چلائی جا رہی ہے، جو کہ اہلیان نارنگ و کالا خطائی روڈ کے باسیوں سے سنگین مذاق کے مترادف ہے۔اراکین اسمبلی عوام کی پریشانی پر کوئی دھیان نہیں دے رہے، جبکہ سماجی حلقے، سرکاری، پرائیوٹ ملازمین طلبہ و طالبات کوفٹ میں مبتلا ہیں۔لہٰذا ایل ٹی سی کے چیئر مین سے مطالبہ کرتا ہوں کہB-30روٹ پر فی الفور دونوں اطراف سے بس شروع کی جائے۔

3۔پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ بس سروس کا اجرا کرے۔

یہ خوش آئند امر ہے کہ پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے مرید کے ،شرقپورسے پنجاب یونیورسٹی اولڈ و نیو کیمپس تک طلباو طالبات کی سہولت کے لئے پک اینڈ ڈراپ ٹرانسپورٹ سروس مہیا کی ہے۔نارنگ منڈی سے بھی پنجاب یونیورسٹی اور اس کے الحاق شدہ کالجز ز میں کثیر تعدادمیں پنجاب یونیورسٹی میں طلبا و طالبات پڑھتے ہیں۔ اس حوالے سے وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی سے عوامی وتعلیمی مفار میں مطالبہ کر تے ہیں کہ و ہ پنجاب یونیورسٹی سے نارنگ منڈی براستہ کالا خطائی روڈ پر طلبا و طالبات کے لئے بس سروس شروع کروا کر مشکور فرمائیں۔

4۔ناقص سیوریج سسٹم

نارنگ میں سیوریج سسٹم کی ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے مین گز ر گاہیں ، گلیاں ، گندے پانی سے بھری رہتی ہیں۔ سوہل مائنر کینال جو کہ مہتہ سوجا سے نکلتی ہے وہ نارنگ شہر کے وسط سے گزرتی ہے اس کی صورت حال یہ ہے کہ سوریج سسٹم نہ ہونے سے لوگوں نے گندہ پانی اس نہر میں ڈال دیاہے، جس سے یہ نہر کم اور جوہڑ زیادہ لگتی ہے ۔ تمام تر خوبصورتی ہی ختم ہو گئی ہے ۔ بارشوں میں پانی کی نکاسی کا کوئی انتظام نہیں بارش کا پانی سڑکوں ، گلیوں اور بازاروں میں کھڑا رہتاہے، جس کے نکلنے کا کوئی انتظام ہی نہیں ہے ۔ اِسی طرح پینے کے پانی کے جو پائپ بچھائے گئے ہیں وہ نالیوں کے ساتھ ساتھ گزر رہے ہیں اور گندا پانی ان پائپوں کے اوپر سے گزرتاہے جس سے لازم بات ہے کہ یہ گندہ پانی پینے کے صاف پانی میں شامل ہو رہاہے، جس سے نارنگ میں ہیپاٹائٹس پھیل رہاہے ۔ کوڑے کے ڈھیر جگہ جگہ ہیں سالڈویسٹ کا کوئی انتظام نہیں ہے ۔ نارنگ ریلوے اسٹیشن کے ارگرد خالی جگہ جہاں پارک ہونا چاہئے تھا فلٹھ ڈپو بناہواہے ۔

5۔پارکس و پلے گراؤنڈز کا فقدان

نارنگ میں عوام الناس کے لئے کوئی کمیونٹی سنٹر نہیں ہے ۔ ہر حکومت نے محض دعوے کئے ہیں، لیکن عوام پارک اور صحت مند تفریح کی سہولت کے لئے عرصہ دراز سے محروم ہیں اور نوجوانوں کی غیر نصابی سرگرمیوں کے لئے کھیلنے کے لئے کوئی کھیل کا میدان نہیں ہے ، لہٰذا پنجاب حکومت نارنگ میں سٹیڈیم اور جمنیزیم تعمیر کے،

6۔صحت عامہ کی سہولتوں کی ناپیدگی

نارنگ منڈی میں 1980 ء میں جو بنیادی ہیلتھ یونٹ قائم کیا گیاتھا اس کے بعد سے آج تک تیس سال کا عرصہ گزرگیاہے اس کی نئی بلڈنگ ، نئے ڈیپارٹمنٹس کی کوئی تعمیر نہیں کی گئی ہے ۔ صحت عامہ کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ایکسرے ، الٹراساؤنڈ، ہیپاٹائٹس کے ٹیسٹ اور بیماری کی تشخیص کے لئے کوئی موثر انتظام نہیں۔ مرد و خواتین ڈاکٹرز ، پیرامیڈیکل سٹاف کی شدید کمی ہے ۔ انتہائی نگہداشت کے لئے کوئی ایمر جنسی وارڈ نہیں ۔ تمام کے تمام مریضوں کو لاہور ہی لے جایا جاتاہے ۔ لہٰذا نارنگ میں بڑے ہسپتال کی تمام تر سہولتوں کے ساتھ تعمیر ناگزیر ہے ۔ اسی طرح مہتہ سوجا ،بریار جنڈیالہ کلیساں، لدھیکے گاؤں کے بنیادی مراکز صحت میں کاغذات میں ڈاکٹرز کی تعیناتی تو موجود ہے عملاً کوئی ڈاکٹر نہیں ہوتا۔ ادویات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ البتہ نارنگ اور ملحقہ علاقوں میں عطائی ڈاکٹروں کی ڈرگ انسپکٹروں کی پشت پناہی سے خوب بھر مار ہے جس سے سینکڑوں لوگ موت کی آغوش میں جاچکے ہیں حکومت اور محکمہ صحت کے ذمہ داران خاموش ہیں۔

7۔ویٹرنری ہسپتال کی ابتر صورت حال

نارنگ میں ایک ہی ویٹرنری ہسپتال ہے جس کی حالت زار دیکھ کر دل خون کے آنسو روتاہے ۔ اس ہسپتال میں جانوروں کے لئے ادویات تو دور کی بات ملازمین کے لئے بیٹھنے کے لئے کرسی تک نہیں ۔ بوسیدہ عمارت ہو چکی ہے محکمہ لائیو سٹاک ڈیری ڈویلپمنٹ کو اس ہسپتال کی حالت زار کے بارے کافی دفعہ عوام کہہ چکے ہیں، لیکن محکمہ اور حکومت اس ہسپتال کی بہتری انفراسٹرکچر کے لئے فنڈز نہیں دے رہی، جس سے کسان پرائیوٹ طور پر اپنے جانوروں کا علاج معالجہ مہنگے داموں کرانے پر مجبور ہیں۔

8۔نادرا سنٹر کے لئے موثر عمارت کا نہ ہونا

نارنگ میں سیاسی سماجی عوام کی اجتماعی کوششوں سے نادرا رجسٹریشن سنٹر کا قیام تو عمل میں لایا گیا ہے، لیکن اس کے لئے کوئی مستقل جگہ نہیں ہے۔ نارنگ ٹاؤن کمیٹی کے دفتر میں عارضی طور پر ایک کمرہ مختص کیاہے، جس سے مرد و خواتین اکٹھے موجود ہوتے ہیں اس کے لئے ضروری ہے کہ نئی بلڈنگ بنائی جائے اور مردو وخواتین الگ الگ طو رپر اپنے شناختی کارڈز کے لئے پراسس مکمل کرائیں اور دوسرا یہ کہ ب فارم کی سہولت نہ ہے، جس کے لئے لوگوں کو مریدکے شیخوپورہ جانا پڑتاہے جو کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔لہٰذا نے فارم کی سہولت کا سسٹم نافذ کیا جائے۔

9۔نارنگ ،کالا خطائی کے مقام پرپولیس

پٹرولنگ پوسٹیں بنائی جائیں

نارنگ میں ایک ہی تھانہ ہے اور علاقہ کا حدود اربع بہت وسیع ہے ۔ ایک پولیس چوکی مہتہ سوجا ، دوسری گندووال میں ہے ۔ کالاخطائی روڈ پر پولیس چوکی اور اسی طرح کرنو گاؤں جو کہ میں نارووال روڈ پر واقع ہے پولیس چوکی بننی چاہئے ۔ اِسی طرح سرقہ بالجبر گاڑیوں کو چھیننے اور مسافروں کو لوٹنے کی وارداتیں زیادہ ہیں نارنگ سے نارووال تک اور نارنگ سے کالاخطائی روڈ براستہ لاہور تک سڑک زیر تعمیر ہے ۔ چٹا پل نارنگ کے مقام پر پولیس پٹرولنگ پوسٹ قائم کی جائے خصوصاً مہتہ سوجا جو بالکل جنگل سنسان مقام ہے ۔ مغرب کے بعد لاہور سے آنے والی ٹرینوں سے اترنے والے مسافروں کو لوٹنے کی وارداتیں ہوتی ہیں ۔ پٹرولنگ پولیس کے نظام سے عوام کے جان و مال اور عزت کو تحفظ حاصل ہوسکتاہے۔

10۔ٹیکنکل کالج کے قیام کی ضرورت

قومی ترقی کے لئے فنی تعلیم کا حصول ناگزیر ہے لہذا صوبائی حکومت مردوخواتین کے لئے الگ الگ ٹیکنکل کالج ،ووکیشنل کالج تعمیر کرئے۔

11۔عطائی ڈاکٹروں ونیم حکیموں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے۔

نارنگ منڈی عطائیوں کی جنت ہے ہر گلی محلے حتی کے ہر دیہات میں عطائی ڈاکٹرز اور نیم حکیموں کا راج ہے ۔ہر سال سینکڑوں افراد ان عطائیوں کی ندولت زندگی ہار جاتے ہیں ۔میڈیا پر اس حوالے سے رپورٹس بھی شائع ہوتی ہیں،لیکن حکومت ،حکومتی ادارے محکمہ صحت ٹس سے مس نہیں ہوئے۔میڈیکل سٹورز پر بھی عطائیت جاری ہے ڈرگ انسپکٹر غفلت کا مظاہر کرتے ہیں۔عوام پوچھتے ہیں کہ مٹ جائے کی جب مخلوق تب انصاف کروگے۔پورے علاقہ میں عطائیت کے خلاف آپریشن نا گزیر ہو چکا ہے عوام بھی تعاون کریں اور ان عطائیوں کے شعور اجاگر کریں۔

مزید :

کالم -