پوری دنیا ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب میں مصروف، دوسری جانب دنیا کے مستقبل کیلئے اس سے بھی زیادہ خوفناک خبر آگئی

پوری دنیا ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب میں مصروف، دوسری جانب دنیا کے مستقبل کیلئے اس ...
پوری دنیا ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب میں مصروف، دوسری جانب دنیا کے مستقبل کیلئے اس سے بھی زیادہ خوفناک خبر آگئی

  

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) ماحولیاتی تبدیلیوں اور ان کی وجہ سے انسانی زندگی کے لئے بڑھتے ہوئے خطرات کا تذکرہ کئی دہائیوں سے جاری ہے لیکن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ شاید اب بہت دیر ہوچکی ہے اور خصوصاً ڈونلڈ ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کے بعد کھیل ہمارے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔

سائنسدانوں پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ کرہ ارض کا درجہ حرارت مجموعی طور پر سات ڈگری سیلسیس بڑھ گیا تو اس کی حالت سیارے زہرہ جیسی ہوجائے گی، جہاں 460 ڈگری سیلسیس کا درجہ جہنم کا نقشہ پیش کرتا ہے۔ انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج کی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اگر بنی نوع انسان نے اپنا طرز عمل معمول کے مطابق جاری رکھا تو 2100ءتک کرہ ارض کا درجہ حرارت 2.6 سے 4.8 ڈگری بڑھ چکا ہوگا۔ دوسری جانب معتبر سائنسی جریدے سائنس ایڈوانسز میں شائع ہونے والی تازہ ترین تحقیق میں کہا گیا ہے کہ یہ اندازے درست نہیں ہیں کیونکہ درحقیقت درجہ حرارت میں اضافہ 7.36ڈگری تک ہوسکتا ہے، جس کا مطلب یہ ہوگا کہ کرہ ارض پر کسی بھی طرح کے جانداروں کے لئے زندہ رہنا ممکن نہیں ہوگا۔

بابا وانگا جس نے 9/11 اور داعش کے بارے میں کئی سو سال پہلے ہی پیشنگوئی کردی تھی، اس کی ایک پیشنگوئی ایسی بھی ہے جسے جان کر نئے امریکی صدر ٹرمپ کے پیروں تلے واقعی زمین نکل جائے گی

امریکہ کی پین سٹیٹ یونیورسٹی کے سائنسدان پروفیسر مائیکل مین نے اخبار دی انڈیپینڈنٹ سے بات کرتے ہوئے اس معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا، ”ماحولیاتی تبدیلی کے متعلق شائع ہونے والی تازہ ترین تحقیق کے اعدادوشمار اور دعوے حقیقت پر مبنی نظر آتے ہیں۔“ انہوں نے اس بات پر اظہارتشویش کیا کہ امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ماحولیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے خطرات کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ وہ ماحولیاتی تبدیلی کے نظریے کو مانتے ہی نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا ”یہ تحقیق اس نظریے کو تقویت بخشتی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے ہمارے لئے گیم اوور ہوچکی ہے۔ گیم اوور سے میری مراد یہ ہے کہ اب ہم خطرے کی حد یعنی 2ڈگری سیلسیس سے کم درجہ حرارت قائم رکھنے کا ہدف حاصل نہیں کرسکتے۔ اگر ٹرمپ نے اپنے وعدے کے مطابق امریکہ کو پیرس ماحولیاتی معاہدے سے علیحدہ کرلیا تو ماحولیاتی درجہ حرارت کو خطرے کی حد سے کم رکھنے کی کوئی راہ مجھے نظر نہیں آرہی۔“

مزید :

بین الاقوامی -