بڑھتی ہوئی نفسیاتی بیماریاں اور ایل جی یوکانفرنس

بڑھتی ہوئی نفسیاتی بیماریاں اور ایل جی یوکانفرنس
 بڑھتی ہوئی نفسیاتی بیماریاں اور ایل جی یوکانفرنس

  



پوری دنیا میں مختلف انداز کی نفسیاتی بیماریاں پیدا ہوتی رہتی ہیں جو کسی بھی معاشرے میں اندرونی و بیرونی حالات کی وجہ سے جنم لیتی ہیں۔ آج کل یورپ کیا، امریکہ کیا ہر جگہ دہشت گردی کے واقعات رونما ہورہے ہیں، جس سے ان کے ہاں نفسیاتی مسائل میں اضافہ ہورہا ہے اور بہت سارے لوگ ڈپریشن اور پریشانی کے شکار ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں سیاسی ماحول نے بھی نفسیاتی مسائل بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

لوگ بجلی، پانی، ٹماٹر اور پیاز جیسے مسائل میں اُلجھے ہوئے ہیں،اوپر سے عذاب یہ کہ شام کے بعد گھر پہنچ کر سکھ کا سانس لینے کی کوشش میں ٹی وی لگاتے ہیں، مگر افسوس کے سیاسی ٹاک شوز، گالیوں کی سیاست، جلسوں کا پورا پورا دکھایا جانا اورحد یہ ہے کہ الطاف پر پابندی لگی تو سب نے فاروق ستار اور اس جیسے سیاستدانوں کا دامن تھام لیا۔

صحت کے برے حالات، بڑھتی ہوئی آبادی،تعلیمی اداروں میں منشیات جیسے مسائل نے نفسیاتی مسائل میں مزید اضافہ کردیا ہے ۔ تمام حالات کا نفسیاتی اعتبار سے جائزہ لینا بہت ضروری ہے جس کے لئے لاہور گیریژن یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات نے وائس چانسلر جنرل عبید بن ذکریا کی ولولہ انگیز قیادت میں ملک بھر کے نفسیات دانوں کی کانفرنس کی شکل میں 12سے 13دسمبر کو اکٹھا کرنے کا پروگرام تشکیل دیا ہے۔

شعبہ نفسیات لاہور گیریژن یونیورسٹی اس وقت متحرک ترین ادارہ ہے اور اس کی افادیت دیکھتے ہوئے پاکستان کے تمام صوبوں بشمول گلگت بلتستان اور بھارت سے بھی مقالہ جات موصول ہو چکے ہیں جن کی تعداد 150 سے زائد ہے۔ و ائس چانسلر جنرل عبید کا کہنا ہے کہ کانفرنس کی خصوصی سفارشات مرتب کرکے حکومتی اداروں کو پیش کی جائیں گی تاکہ اپنی قوم کے نفسیاتی مسائل میں کمی لائی جا سکے۔

شعبہ نفسیات کے سربراہ ڈاکٹر گلزار احمد اور ان کی ٹیم اس اہم کانفرنس کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور توقع کی جارہی ہے کہ یہ کانفرنس معاشرہ کی درستگی کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کرے گی۔ کانفرنس کے علاوہ وائس چانسلر صاحب نے ہر موضوع پر تحقیقاتی مقالہ جات لکھوانے کی اساتذہ اور طلباء و طالبات کو خصوصی ہدایت کی ہے، جبکہ شعبہ نفسیات یونیورسٹی کی سطح پر طلباء کی گائیڈنس کونسلنگ کے لئے خصوصی سینٹر بھی قائم کررہی ہے، جس سے منشیات کے استعمال میں کمی واقع ہوگی۔ ملک میں بہتری لانے کے لئے ایسے اداروں کا ہونا بہت ضروری ہے اور ان کی افادیت سے انکار ممکن نہیں۔

کامیابی کے لئے سب کا مل کر چلنا بہت ضروری ہے جنرل صاحب نے اس اصول کو خلوصِ نیت سے اپنا رکھا ہے۔

مزید : کالم