نمونیے کے علاج میں غفلت جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے

نمونیے کے علاج میں غفلت جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے
نمونیے کے علاج میں غفلت جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے

  

پاکستان سمیت دنیا بھر میں 12نومبر کو نمونیہ سے بچاؤ اور آگاہی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔نمونیہ پھیپھڑوں کے شدید انفیکشن کے باعث ہونے والی بیماری ہے جو دُنیا بھر میں پائی جاتی ہے۔اس بیماری کے علاج کے لئے عام طور پر اینٹی مائکرو بائلز استعمال کروائی جاتی ہیں، جن کا ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق باقاعدگی سے استعمال مریض کو صحت یاب ہونے میں مدد دیتا ہے۔

ایسے لوگ جن کے جسم کا مدافعتی نظام کمزور ہو، تمباکو نوشی کے عادی افراد، شوگراور استھما کے مریض، دو سال سے کم عمر کے بچے اور 65سال سے زائد عمر کے افراد زیادہ آسانی سے نمونیہ کا شکار ہو سکتے ہیں۔

سگریٹ نوش افراد کے سلئیری فنکشن دھویں کی وجہ سے کمزور پڑ جاتا ہے اس لئے تمباکو نوش افراد کے نمونیہ کا شکار ہونے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں ۔

نمونیہ کی ظاہری علامات میں بخار کے ساتھ ساتھ چھاتی میں درد کا اُٹھنا ، کھانسی کے ساتھ بلغم آنا، اور سانس کا چڑھنا شامل ہیں ۔اگرچہ نمونیہ کسی بھی موسم میں ہو سکتا ہے، لیکن سردی کے موسم میں خاص طور پر بچے اور بوڑھے افراد اس کا شکار ہو سکتے ہیں ۔

اگر نمونیہ کا بروقت اور مناسب علاج نہ کروایا جائے تو یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے، لیکن علاج شروع کروانے سے قبل اس بات کا تعین کرنا بہت ضروری ہے کہ آیا مریض کو واقعی نمونیہ ہے یا نہیں۔

اس تشخیصی عمل کے لئے زیادہ تر کیسز میں مریض کی چھاتی کا ایکسرے کروایا جاتا ہے، جس سے ڈاکٹر پھیپھڑوں میں ہونے والے انفیکشن کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ خون اور بلغم کا کلچر ٹیسٹ بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔

مختلف مریضوں میں نمونیہ کی نشونما کی وجوہات مختلف بھی ہوسکتی ہیں ۔ ایسے میں ہر مریض کی مخصوص علامات اور وجوہات کا تعین کر نے کے بعد ڈاکٹرز اس کے لئے مرض کی شدت اور نوعیت کے حساب سے علاج تجویز کرتا ہے۔

نمونیہ کے علاج میں عام طور پر 7سے دس 10دن کے دورانیے پر مشتمل اینٹی بائیوٹکس دواؤں کا کورس کروایا جاتا۔اس کورس میں ہر مریض کے لئے اس کی علامات کے مطابق دوا تجویز کی جاتی ہے۔

بعض مریضوں کو علاج کے دوران ہسپتال میں داخل بھی کیاجاسکتا ہے اور اگر مرض کی شدت زیادہ ہو تو مریض کو انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں بھی رکھا جا سکتا ہے،کیونکہ ہسپتال کے ماحول میں انہیں مزید کسی انفیکشن کا شکار ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔

شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سنٹر میں تمام مریضوں بلخصوص کینسر کے مریضوں کے لئے نمونیہ کئیر کا خصو صی ا نتظام موجود ہے۔ علاج کے ساتھ ساتھ یہاں مریضوں اور ان کے لواحقین کو اس مرض سے بچاؤ کو احتیاطی تدابیر جیسا کہ تمباکو نوشی کا ترک کرنا اور صحت مند رہنے کے بنیادی اصولوں کے بارے میں آگاہی بھی دی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ یہاں پر نمونیہ اور انفلیونزا سے بچاؤ کی ویکسی نیشنز بھی کروائی جاتی ہیں ۔ نمونیہ کی تمام اقسام کے علاج کے لئے PVC13 نامی ویکسین بہت موئثر ثابت ہوتی ہے۔

یاد رکھیں کسی بھی مرض کے علاج کے لئے معالج سے تعاون اور علاج کی باقاعدگی بہت اہمیت رکھتی ہے۔ نمونیے جیسے مرض کے علاج میں کسی بھی کی قسم کی غفلت یا کوتاہی نقصان کا باعث ہو سکتی اگر آپ بروقت اور باقاعدگی سے علاج کرو لیں تو یہ مرض خطرناک ثابت نہیں ہو سکے گا ۔

مزید :

رائے -کالم -