اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 78

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 78

  

میں اپنے خیالوں میں گم تھا دل نے چاہا کہ ذرا سوجاؤں او ہوسکتا ہے کہ خواب میں اپنے ناگ دوست قنطور سے ملاقات ہوجائے۔ میں نے آنکھیں بند کرلیں اور اپنے آپ کو نیند کی لہروں کے حوالے کردیا۔ مجھے نیند کی دنیا میں گئے تھوڑی دیر ہوئی ہوگی کہ اپنی چھاتی پر مجھے کسی کے ہاتھ کا زور دار دھکا سالگا۔ میری آنکھ کھل گئی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ میری سر پر ایک سیاہ پوش انسانی ہیولا کھڑا ہے جس نے اپنا منہ سرکالے کپڑے میں ڈھانپ رکھا ہے اور مجھ پر خنجر کا ایک وار کر چکا ہے اور دوسرا وار کرنے ہی والا ہے۔ میں نے اس کا ہاتھ نہ روکا ۔ دوسری بار بھی خنجر میرے سینے میں دھنس گیا۔ باہر آیا تو اس کے ساتھ خون کا ایک قطرہ بھی نہیں لگا تھا۔ 

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 77 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

میں سمجھ گیا کہ یہ فدائی ہے جو مجھے قتل کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اس نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی مگر میری گرفت چٹان سے زیادہ مضبوط تھی۔ وہ اس بات سے پہلے ہی ششدرہ تھا کہ دو بار پوری قوت سے ایک تیز دھار خنجر گھونپنے کے بعد بھی میرے سینے سے خون کا ایک قطرہ بھی نہیں نکلا اور ابھی تک زندہ ہوں۔ میں اٹھ کر بیٹھ گیا اور فدائی کو ایک جھٹکا دیا۔ خنجر اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر پڑ ااور وہ ایک جھٹکے سے میرے پلنگ پر اوندھے منہ گرا۔ میں نے اسے گریبان سے پکڑ کر سیدھا کیا اور اس کے منہ پر سے کپرا ہٹا دیا۔ یہ دیکھ کر مجھے کوئی حیرانی نہ ہوئی کہ وہ میرا ایک بڑا وفادار ملازم ہی تھا۔ کیونکہ مجھے علم تھا کہ حسن بن صباح کے فدائی نوکروں، تاجروں اور دکانداروں کے بھیس میں اپنا کام کرتے تھے۔ 

وہ تھر تھر کانپ رہا تھا۔ وہ مجھے کوئی مافوق الفطرت ہستی سمجھنے لگا تھا۔ کیونکہ اس کا خونی خنجر مجھے ہلکا سا زخم بھی نہیں دے سکا تھا جبکہ اس کے حساب سے میرا سینہ چاک ہوجانا چاہیے تھا۔ میں نے خنجر اٹھا کر اسے دیتے ہوئے کہا۔ 

’’ اپنے آقا کے پاس یہ خنجر لے جاؤ اور اسے کہو کہ شیخ المصری کہتا ہے کہ اگر تم اپنے فدائین کی ساری فوج بھی لے کر آجاؤ تو مجھے ہلاک نہ کر سکو گے۔ ‘‘ 

فدائی خنجر وہیں پھینک کر خوف زدہ ہوکر بھاگ گیا۔ 

یہ وہ وقت تھا جب قصر بغداد میں سازشیں سر اٹھا رہی تھیں۔ مسلمان دو فرقوں میں بٹ گئے تھے اور دونوں فرقے ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرا تھے۔ وزیراعظم علقمی ایک خاص فرقے کا حامی تھا۔ چنانچہ اس نے اپنے بھائی کے ذریعے ہلاکو خان کو پیغام بھیج کر بغداد پر حملہ کرنے کی دعوت دی۔ علقمی اور نصیر الدین طوسی کو یہ رنج بھی تھا کہ خلیفہ نے دنیائے اسلام کے تمام مسلمانوں کو حسن بن صباح کے فتنے کو ختم کرنے کی تلقین کی تھی۔ ہلاکو خان کی نظریں ویسے بھی بغداد پر لگی ہوئی تھیں اور سلطنت عباسیہ کی اس آخری کمزور اور بے وقعت نشانی کو ہمیشہ کے لئے ختم کر کے شاہی محل میں لوٹ مار کرنا چاہتا تھا۔ ہلاکو خان اس حقیقت سے بھی باخبر تھا کہ مسلم رعایا دھڑوں میں بٹ گئی ہیں اور ان میں زبردست نفاق پڑ چکا ہے جس نے اس کی یلغار کے لئے بڑا سازگار ماحول پیدا کر دیا تھا۔ 

چنانچہ ہلاکو خان فوج لے کر برق رفتاری سے بغداد کی طرف بڑھا۔ ہلاکو خان نے بغداد کا محاصرہ کرلیا۔ شہر سے باہر تمام بلند مقامات سے تاتاری نے بغداد پر منجنیقوں سے آگ اور پتھر برسانے شروع کردیئے۔ شہر میں جگہ جگہ آگ بھڑک اٹھی ۔ غدار علقمی نے خلیفہ کو مشورہ دیا کہ ہتھیار ڈال دینے میں ہی مصلحت ہے۔ اس کے مشورے سے خلیفہ اپنے اہل وعیال ، امراء ، علماء ، قاضی اور اکابرین کو ساتھ لے کر ہلاکو خان کے دربار میں جا حاضر ہوا۔علقمی نے خلیفہ کو یقین دلایا تھا کہ ہلاکو خان اسے بدستور مسند طاقت پر برقرار رکھے گا۔

ہلاکو خان نے بظاہر خلیفہ اور اس کے ہمراہیوں کی عزت اور احترام کیا۔ خلیفہ کو علقمی کی باتوں پر اعتبار آگیا۔ ہلاکو خان کے ایماء پر خلیفہ نے ایک اور غلطی کی کہ شہر میں مناد کرا دی کہ تمام فوجی ہتھیار رکھ کر شہر سے باہر میدان میں آجائیں تاکہ ان کی گنتی کر کے ان کی عام معافی کا اعلان کر دیا جائے۔ تمام فوجی ہتھیار جمع کروا کر شہر سے باہر آگئے۔ ان سب کو گرفتار کرلیا گیا اور ہلاکو خان نے شہر میں قتل عام اور لوٹ مار کا حکم صادر کردیا۔ تاتاری بغداد شہر پر ٹوٹ پڑے۔ انہوں نے خون کی ندیاں بہا دیں۔ انہوں نے بوڑھیوں ، بچوں ، عورتوں ، جونواں سب کو تہ تیغ کر دیا۔ حسین عورتوں کو الگ کر کے اغواء کرلیا۔ بغداد تاتاری فوجوں کے گھوڑوں کے سموں تلے روندا گیا۔ ہلاکو خان کے حکم پر خلیفہ اور اس کے اہل و عیال کو بوروں میں بند کر کے ڈنڈوں سے پیٹا گیا۔ یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ شاہی محلات کو لوٹ کر آگ لگا دی گئی۔ لاکھوں نایاب کتابوں کو جلا ڈالا گیا یا دریائے دجلہ میں پھینک دیا گیا۔ چھ ہفتوں تک یہ قتل و غارت گری جاری رہی۔ 16 لاکھ افراد قتل کر دیئے گئے۔ ایسی الم انگیز تباہی میں نے اس سے پہلے تاریخ میں نہیں دیکھی تھی۔ تاتاری لشکر نے دریائے دجلہ پار کر کے خراسان اور نیشاپور کا رخ کیا تو میں سمجھ گیا کہ اب سلطان کے خوشامدی درباریوں اور امراء کے ساتھ اہل شہر پر بھی قیامت ٹوٹنے والی ہے۔ میں اکیلا کس کس کو بچا سکتا تھا۔ میں نے اپنے تمام خادموں اور کنیزوں اور غلاموں کو آزاد کر دیا اور انہیں ہدایت کی کہ وہ راتوں رات اپنی جانیں بچا کر فرار ہوجائیں۔ میں خود شہر سے نکل جانا چاہتا تھا کہ مظلوم انسانوں کو تاتاریوں کے ہاتھوں قتل ہوتا نہ دیکھ سکوں۔ میں نے دوچار ہیرے اور اپنے ناگ دوست قنطور کا مہرہ اپنے ساتھ لیا اور اپنی حویلی کو خیرباد کہہ کر شہر سے باہر ایک بزرگ کے آستانے پر آگیا۔ یہ بزرگ صاحب کشف و کرامات تھے اور اپنا بیشتر وقت عبادت و ریاضت میں بسر کرتے تھے۔ ہلاکو خان کے لشکر نے خراسان پہنچتے ہی ہر طرف قتل عام شروع کردیا۔ کچھ تاتاری سپاہی اس بزرگ کو شہید کرنے جب ٹیلے کی طرف چڑھنے لگے تو بزرگ نے آنکھیں کھول کر اپنے ایک مرید سے پوچھا۔ ’’ یہ سپاہی کیا کرنے آرہے ہیں؟‘‘ 

ایک مرید نے کہا۔ ’’ یا حضرت یہ ہمیں قتل کرنے آرہے ہیں۔‘‘ بزرگ نے سپاہیوں پر ایک جلالی نظر ڈالی۔ تمام سپاہیوں کی گردنیں کٹ کر نیچے گر پڑیں۔ اس کے بعد سپاہیوں کو ایک اور ٹولی آئی۔ اس کے ساتھ بھی یہی حشر ہوا۔ ایک سپاہی نے ہلاکو خان کو جا کر خبر دی تو وہ فوراً گھوڑے پر سوار ہر کر وہاں آگیا۔ ہلاکو خان نے بزرگ کو دیکھ کر تلوار نیام سے باہر کھینچ لی اور ٹیلے کی سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ 

ہلاکو خان کو اپنی طرف آتا دیکھ کر بزرگ اٹھ کھڑے ہوئے اور خود ہی سیڑھیاں اتر کر ہلاکو خان کی طرف چلے۔ مریدوں نے پوچھا کہ یا حضرت آپ کہاں تشریف لے جا رہے ہیں۔ بزرگ نے تبسم کیا اور فرمایا۔ 

’’ ہم ملک الموت کو ہلاکو خان کی معیت میں دیکھ رہے ہیں۔ اب ہم پر واجب ہے کہ ہم خود بھی شہید ہو کر اللہ تعالیٰ کے اس قہر کی شہادت دیں۔‘‘

اور میری آنکھوں کے سامنے ہلاکو خان نے ایک ہی وار سے بزرگ کو شہید کر دیا۔ ہلاکو خان کے سپاہی ٹیلے والی خانقاہ کے درویشوں پر ٹوٹ پڑے۔ کوئی درویش زندہ نہ بچ سکا۔ ٹیلے کی دوسری جانب اک نہر بہتی تھی۔ میں نے اس نہر میں چھلانک لگادی۔ میں اپنی طاقت کے مظاہرے سے بچنا چاہتا تھا۔ میرا خیال تھا کہ سپاہی مجھے جانے دیں گے مگر ایک بدقسمت تاتاری سپاہی کی اجل آچکی تھی۔ وہ گھوڑے پر بیٹھ کر اسے دوڑاتا ہوا ٹیلے کا چکر کاٹ کر نہر میں آگیا۔ وہ تلوار لہرا رہا تھا۔ میں نہر کے دوسرے کنارے پر پہنچ چکا تھا۔ وہ بھی میرے سر میں آگیا۔ اس نے تلوار کا بھرپور وار کیا۔ تلوار میرے کندھے سے ٹکرائی اور میرے جسم میں سے ہوتی ہوئی دوسری طرف پسلیوں کے نیچے سے نکل گئی۔ تلوار کے نکلتے ہی میرے جسم کا گوشت آپس میں مل گیا۔ تاتاری سپاہی حیران رہ گیا کہ جب تلوار میرے جسم میں سے گزر گئی ہے تو میں کٹ کر گرا کیوں نہیں؟

لیکن میں نے اسے زیادہ دیر حیران رہنے کا موقع نہ دیا۔ جوں ہی وہ دوسرا وار کرنے کے لئے میری طرف بڑھا۔ میں نے اس کی تلوار پکڑلی اور زور سے کھینچا۔ وہ گھوڑے پر سے نیچے گر پڑا۔ اب میرے لئے سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں تھا کہ اسی تلوار سے تاتاری سپاہی کا کام تمام کردوں۔ میں سپاہی کے گھوڑے پر اچھل کر سوار ہوگیا اور نہر کے ساتھ ساتھ تھوڑا دوڑانے لگا۔ آگے جا کر میں نے نہر کو چھوڑ دیا اور گھوڑا بائیں جانب بنجر میدان میں ڈال دیا۔ اس وقت دن کی روشنی ماند پڑنے لگی تھی۔ میں گھوڑا دوڑائے چلا جا رہا تھا۔ میری کوئی منزل نہیں تھی۔ بس اسی آفت زدہ شہر سے جتنی دور نکل سکوں نکل جانا چاہتا تھا۔ چلتے چلتے میں شہر سے کئی کوس دور نکل آیا تھا۔ دور اونچی پہاڑیوں پر مجھے حسن بن صباح کے قلعہ الموت کے کنگورے غروب ہوتے ہوئے سورج کی روشنی میں دھندلے ہوتے نظرآرہے تھے۔ میں ان پہاڑیوں کے دامن سے ہو کر بخارا کی طرف کوچ کرنا چاہتا تھا۔ ان پہاڑیوں کے قریب پہنچتے پہنچتے رات کا اندھیرا چاروں طرف پھیل گیا۔ مجھے محسوس ہوا کہ میرے گھوڑے کو پیاس لگی ہے۔ اس کی چال میں نقاہت آگئی تھی اور وہ بار بار گردن نیچے جھکادیتا تھا۔ 

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید :

کتابیں -اہرام مصرسے فرار -