کیا ججز کو اور سٹنٹس پڑتے ہیں اور وکلا کو اور؟ججز کوایک دن سٹنٹ پڑتے ہیں اور وہ اگلے دن عدالت میں ہوتے ہیں،جسٹس گلزاراحمد کے کیس میں ریمارکس

کیا ججز کو اور سٹنٹس پڑتے ہیں اور وکلا کو اور؟ججز کوایک دن سٹنٹ پڑتے ہیں اور ...
کیا ججز کو اور سٹنٹس پڑتے ہیں اور وکلا کو اور؟ججز کوایک دن سٹنٹ پڑتے ہیں اور وہ اگلے دن عدالت میں ہوتے ہیں،جسٹس گلزاراحمد کے کیس میں ریمارکس

  



اسلام آباد(ڈیل پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں ملازمت سے متعلق کیس میں جسٹس گلزاراحمد نے ایم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ججز کو اور سٹنٹس پڑتے ہیں اور وکلا کو اور؟ججز کوایک دن سٹنٹ پڑتے ہیں اور وہ اگلے دن عدالت میں ہوتے ہیں،سابق چیف جسٹس نے سٹنٹس ڈلوا کر ایک دن آرام کیا اگلے روز عدالت میں موجود تھے،وکیل کو سٹنٹس پڑ جائیں تو 3 ،3 ہفتے کا التوا لیتے رہتے ہیں ،آپ کے کیس کو کل کیلئے مقرر کردیتے ہیں وکیل کو کہیں کل پیش ہو جائیں ۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں ملازمت سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،التوا کیلئے محمد آفتاب عالم کے جونیئر وکیل عدالت میں پیش ہوئے،جسٹس گلزاراحمد نے وکیل محمد آفتاب عالم رانا کی التوا کی درخواست پر اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے وکیل نے التوا لیا تھا کہ ان کو اسٹنٹس ڈلے ہیں اور وہ ہسپتال داخل ہیں،پچھلی اور آج کی پیشی میں کئی ہفتے گزر گئے آج بھی بیماری پر التوا مانگ رہے ہیں،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ الطاف رانا صاحب گھر پر ہیں ان کو کچھ دنوں بعد مزید سٹنٹس ڈلنے ہیں،

جسٹس گلزاراحمد نے استفسار کیا کہ کیا ججز کو اور سٹنٹس پڑتے ہیں اور وکلا کو اور؟جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ججز کوایک دن سٹنٹ پڑتے ہیں اور وہ اگلے دن عدالت میں ہوتے ہیں ،سابق چیف جسٹس نے سٹنٹس ڈلوا کر ایک دن آرام کیا اگلے روز عدالت میں موجود تھے۔جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ وکیل کو سٹنٹس پڑ جائیں تو 3 ،3 ہفتے کا التوا لیتے رہتے ہیں ،آپ کے کیس کو کل کیلئے مقرر کردیتے ہیں وکیل کو کہیں کل پیش ہو جائیں ۔جونیئر وکیل نے کہا کہ اگر عدالت کا حکم ہے تو میڈیکل سرٹیفکیٹ جمع کرا دیتے ہیں،عدالت نے التوا کی درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد