آزادی مارچ، اسلام آباد میں میٹرو بس سروس کی بندش کی وجہ سے روزانہ کتنا نقصان ہورہا ہے؟ جان کر آپ کو بھی دکھ ہوگا

آزادی مارچ، اسلام آباد میں میٹرو بس سروس کی بندش کی وجہ سے روزانہ کتنا نقصان ...
آزادی مارچ، اسلام آباد میں میٹرو بس سروس کی بندش کی وجہ سے روزانہ کتنا نقصان ہورہا ہے؟ جان کر آپ کو بھی دکھ ہوگا

  



اسلام آباد (ویب ڈیسک) اسلام آباد کے ایچ 9 اور کشمیر ہائی وے پر آزادی مارچ کے دھرنے کی وجہ سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان چلنے والی میٹرو بس سروس کو تاحال 3کروڑ 85 لاکھ روپے کا خسارہ ہوگیا۔

ڈان نیوز کے مطابق  پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی (پی ایم ٹی اے) راولپنڈی مینجر آپریشن شمیلہ محسن نے بتایا کہ مقامی انتظامیہ کی ہدایت پر بس سروس کا آغاز کریں گے۔انہوں نے بتایا کہ تمام بسیں 12 دن سے اسلام آباد انتظامیہ کی تحویل میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بس سروس معطل ہونے پر روزانہ 35 لاکھ روپےکا نقصان ہورہا ہے، اگر دھرنا جاری رہا تو خسارے میں مزید اضافہ ہوگا۔ادھر گزشتہ روز دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ اس حکومت کی نااہلی کا یہ عالم ہے کہ ہم نے ہمیشہ 9 نومبر کو یوم اقبال منایا ہے، اس حکومت نے پہلی مرتبہ اقبال کے حوالے سے یہ دن محسوس ہی نہیں ہونے دیا اور پہلی مرتبہ اقبال کا دن گرونانک کے نام ہوگیا۔

آزادی مارز کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ بھارت نے اس کے بدلے میں آپ کو کیا تحفہ دیا کہ بابری مسجد ہندوؤں کے حوالے کردی، جس کے لیے مسلمانوں نے مقدمہ لڑا، قربانیاں دیں، جمنا کو اپنے خون سے سرخ کردیا لیکن آج اُسی دن ہمارا حکمران کہتا ہے کہ آج جب ہم گرونانک کا دن منا رہے تھے تو اس دن تو آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ 'لوگ سمجھ رہے تھے کہ یہ ایسی حکومت ہے جس کی پشت پر بڑی بڑی طاقتیں ہیں، اس کے خلاف بات کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، ہم نے وہ دبدے توڑ دیے، ہم نے ان کا غرور خاک میں ملا دیا، آج ان کی قوم میں دو ٹکے کی حیثیت نہیں رہی، اس ذلت و رسوائی کے ساتھ کرسی پر بیٹھے رہو، مکھیاں مارتے رہو لیکن قوم آپ کو حکمران کے طور پر نہیں دیکھتی۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'انہوں نے ملک کو مذاق بنا دیا ہے، آج ہمارا اسٹیٹ بینک خسارے میں جارہا ہے اور ملکی تاریخ میں پہلی بار چینی مہنگی ہوگئی اور منظور نظر حکومت کی ایک سینئر نااہل شخصیت کی مِلز میں 40 فیصد چینی ذخیرہ کی گئی اور پھر انہیں اپنے ذاتی مفادات کے لیے مہنگے داموں بیچا۔'

مزید : علاقائی /اسلام آباد