’ہمیں مسجدوں کی ضرورت نہیں ہے‘ سلمان خان کے والد سلیم خان کا ایودھیا فیصلے پر انتہائی افسوسناک رد عمل آگیا

’ہمیں مسجدوں کی ضرورت نہیں ہے‘ سلمان خان کے والد سلیم خان کا ایودھیا فیصلے ...
’ہمیں مسجدوں کی ضرورت نہیں ہے‘ سلمان خان کے والد سلیم خان کا ایودھیا فیصلے پر انتہائی افسوسناک رد عمل آگیا

  



ممبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بالی ووڈ کے معروف سکرپٹ رائٹر اور فلم پروڈیوسر سلیم خان نے بابری مسجد کے فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کو مساجد سے زیادہ سکولوں کی ضرورت ہے، سپریم کورٹ نے مسجد کیلئے جو 5 ایکڑ جگہ دینے کا فیصلہ سنایا ہے اس پر مسجد کی بجائے سکول بنایا جانا چاہیے۔

9 نومبر کو بھارت کی سپریم کورٹ نے بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر ایودھیا میں شہید کی جانے والی بابری مسجد کی جگہ ہندو فریق کو دینے کا فیصلہ سنایا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کیلئے دی جائے اور مسلمانوں کو ایودھیا میں اس کے متبادل کے طور پر مسجد کیلئے5 ایکڑ جگہ نمایاں جگہ پر فراہم کی جائے۔

سلمان خان کے والد سکرپٹ رائٹر سلیم خان نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حضور علیہ الصلوٰة والسلام نے اسلام میں 2 باتوں ’پیار اور درگزر‘ کرنے کو اہم بتایا ہے۔ اب جبکہ بابری مسجد کا قضیہ تمام ہوچکا ہے تو مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس کو چھوڑ کر آگے برھیں اور اس طرح کے معاملات کو دوبارہ نہ اٹھائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ فیصلے کے بعد جس طرح امن و امان کو قائم رکھا گیا ہے وہ قابل تعریف ہے، ہمیں یہ بات مان لینی چاہیے کہ ایک پرانا تنازعہ ختم ہوگیا ہے ، میں اپنے دل کی گہرائیوں سے اس فیصلے کو قبول کرتا ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ایودھیا تنازعے پر مزید بات کرنے کے بجائے اپنے بنیادی مسائل کی طرف توجہ دیں ، میں یہ اس لیے کہہ رہا ہوں کیونکہ ہمیں ہسپتالوں اور سکولوں کی ضرورت ہے، یہ بہت ہی بہتر ہوگا اگر ہم متبادل 5 ایکڑ زمین پر مسجد کی جگہ کوئی کالج تعمیر کردیں، ہم نماز کہیں بھی پڑھ سکتے ہیں، ہم ٹرین ، ہوائی جہاز ، زمین یا جہاں چاہیں نماز ادا کرسکتے ہیں لیکن ہمیں تعلیم کی ضرورت ہے۔

سلیم خان کا کہنا تھا کہ اگر انڈیا میں بسنے والے 22 کروڑ مسلمان بہتر تعلیم حاصل کرلیں تو ان کے بہت سے مسائل خود بخود ہی ختم ہوجائیں گے۔ ہمیں اس وقت سب سے زیادہ امن اور بہتر مستقبل کی ضرورت ہے، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انڈیا میں بسنے والے مسلمانوں کو اچھی تعلیم میسر نہیں آئی اس لیے میں یہ بات دہرانا چاہوں گا کہ ہمیں ایودھیا کے معاملے سے آگے بڑھ کر ایک نئی شروعات کرنا ہوگی۔

مزید : تفریح