مولانا فضل الرحمن کی شائستگی،برجستگی اور سنجیدگی کو پسند کیا جاتا ہے

مولانا فضل الرحمن کی شائستگی،برجستگی اور سنجیدگی کو پسند کیا جاتا ہے
مولانا فضل الرحمن کی شائستگی،برجستگی اور سنجیدگی کو پسند کیا جاتا ہے

  

وہ ایک مذہبی رہنما کے طور پر پہچانے جاتے ہیں، ان کی مسکراہٹ بہت دلکش اور آنکھوں میں عجیب کشش ہے، اپنی زبان پر مضبوط گرفت رکھتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ مجلسی آدمی بھی ہیں اور نجی محفلوں میں لطائف بھی سنتے سناتے ہوں گے، موسیقی سے تو یقینا دلچسپی نہیں رکھتے ہوں گے، البتہ مزاحیہ شاعری میں ان کی دلچسپی یقینا ہو گی سوشل میڈیا پر ملک کے معروف مزاحیہ شاعر سید سلیمان گیلانی انہیں اپنے شعر سناتے نظر آئے تو مَیں نے دیکھا کہ سب سے اونچے قہقہے مولانا لگا رہے ہیں اور گیلانی صاحب کو داد بھی دے رہے ہیں۔ایک دوسرا کلپ جو سوشل میڈیا پر لاکھوں لوگوں نے دلچسپی سے دیکھا، وہ کسی اجتماع میں مولانا فضل الرحمن کا سنایا ہوا لطیفہ ہے، جس میں وہ بتا رہے تھے کہ ایک خاتون جسے کسی نے بتایا کہ اگر بیوی شوہر کو نام سے بلائے تو طلاق واقع ہو جاتی ہے، سو اس نے اپنی تسلی کے لئے ایک مولانا سے مسئلہ پوچھا تو مولانا نے بھی بتایا کہ اگر بیوی شوہر کا نام لے تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔مولانا نے بتایا کہ ایک دن اتفاق سے اس کا شوہر جس کا نام رحمت اللہ تھا، عین اُس وقت گھر میں داخل ہوا،جب بیوی نماز پڑھ رہی تھی۔ بس بیوی نے جونہی شوہر کی موجودگی کو محسوس کیا تو اسے خیال آیا کہ اگر اس نے سلام پھیرتے ہوے رحمت اللہ کہا تو طلاق ہو جائے گی، سو اس نے سلام پھیرتے وقت بجائے السلام علیکم ورحمتہ اللہ کہنے کے السلام علیکم…… نکے دا ابا……کہہ کر نماز کا اختتام کیا۔

مولانا یہ لطیفہ دراصل الیکشن چرانے کے ذمہ داران کے حوالے سے سنا رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ ذمہ داران کہتے ہیں کہ الیکشن چرانے کے حوالے سے اشاروں میں بات کیجیے، مگر ہمارا نام نہ لو……پاکستان میں جتنے بھی الیکشن ہوئے ہیں،ہمیشہ ایک نام لیا جاتا ہے کہ الیکشن میں اسٹیبلشمنٹ نے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ بات سب تسلیم کرتے ہیں کہ ہمارے ہاں انتخابات میں دھاندلی ہوتی ہے۔عمران خان خود بھی ایک عرصے تک باقاعدہ نام لے کر مداخلت کا الزام لگاتے رہے ہیں، آج بھی سوشل میڈیا پر ان کے بعض بیانات دیکھے اور سنے جا سکتے ہیں اور ممکن ہے کہ آئندہ کسی وقت عمران خان ایک بار پھر اپنے سابقہ بیانات کو دہراتے نظر آئیں،جو بیانات وہ ماضی میں دے چکے ہیں یا اب اپوزیشن دے رہی ہے اور نواز شریف پہلی بار شخصیات کا نام لے کر مداخلت کا الزام لگا رہے ہیں، ان کے اس بیانیہ کو عوامی سطح پر قبول بھی کیا جارہا ہے اور پاکستان بھر میں ان کے بیانیہ کے حوالے سے بحث ومباحثہ جاری ہے اور کہا جارہا ہے کہ پہلی بار پنجاب سے تعلق رکھنے والے کسی سیاست دان نے  آواز بلند کی ہے،

اس سے پہلے چھوٹے صوبوں سے اس طرح کا بیانیہ سنائی دیتا تھا، مگر جواباً غدار قرار دے کر ان آوازوں کو محدود کر دیا جاتا تھا اور ملکی سطح پر کوئی آواز ابھرنے سے پہلے ہی دب جایا کرتی تھی۔ خود بے نظیر بھٹو شہید بھی دوسرے الفاظ میں یہی بیانیہ ایک عرصے تک سامنے لاتی رہیں،جو اب نواز شریف کھلے لفظوں میں بیان کر رہے ہیں، جس پر بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ایک انٹرویو میں دلچسپ انداز میں سوال اٹھایا ہے۔انہوں نے کہا کہ گوجرانوالہ میں نواز شریف کی تقریر سن کر وہ حیران ہوگئے اور دیگر قائدین بھی ششدر رہ گئے، یعنی کسی کے وہم وگمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والا کوئی سیاست دان یوں کھلے الفاظ میں بھی بات کر سکتا ہے۔ 

بلاول بھٹو زرداری کے اس انٹرویو کو حکومتی سطح پر سراہا بھی گیا ہے اور امید باندھی گئی ہے کہ پی ڈی ایم اتحاد ٹوٹنے والا ہے، پیپلز پارٹی نواز شریف کے بیانیہ سے متفق نہیں ہے، مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے اسی انٹرویو میں یہ بھی کہا ہے کہ انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ نے مداخلت کی ہے اور موجودہ وزیر اعظم سلیکٹڈ ہے  جسے عوام پر مسلط کیا گیا ہے۔اب اگر دیکھا جائے تو بلاول بھٹو زرداری نے نواز شریف کے بیانیہ کو مکمل طور پر پر رد نہیں کیا،بلکہ وہ  بقول مولانا فضل الرحمن …… یہ کہہ رہے ہیں نکے کے، ابا کا نام نہ لیا جائے اور اسٹیبلشمنٹ کا نام لیا جاتا رہے گا۔ میرے خیال میں بلاول بھٹو زرداری کا یہ بیانیہ ان کی جماعت کا بیانیہ ہے جو ظاہر ہے بطور جماعت ان کا حق ہے کہ وہ کسی کو نکے کا ابا کہیں یا اسٹیبلشمنٹ…… یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ پی ڈی ایم مختلف سیاسی جماعتوں کا اتحاد ہے جو اپنے اپنے نعروں اور استعاروں کے ساتھ ایک جگہ اکٹھے ہوئے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نواز شریف کے کارکن نہیں ہیں جو ان کے بیانیہ کو آگے لے کر چلیں نواز شریف ایک بڑی جماعت کے لیڈر ہیں، انہوں نے اپنے بیانیہ کے ساتھ اپنے کارکنوں کو ساتھ لے کر چلنا ہے اور ظاہر ہے کہ وہ اپنے بیانیہ کے ساتھ ہی اپنی جماعت کو متحرک رکھنا چاہتے ہیں،مگر ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پیپلز پارٹی سندھ میں اقتدار میں ہے اور کوئی بھی سیاسی جماعت ہاتھ سے اقتدار کو آسانی کے ساتھ نہیں جانے دیتی،سو اس حوالے سے بھی اپوزیشن کو چاہئے کہ وہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے پیچھے کھڑی ہو جائے اور حکومت کی جانب سے کسی سازش کو کامیاب نہ ہونے دے،ساتھ ہی اپوزیشن خاص طور پر مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو بھی چاہئے کہ وہ بلاول بھٹو زرداری کے بیان کو ان کی جماعت کے بیانیہ کے طور پر قبول کر لے۔

مزید :

رائے -کالم -