مراد ابابکی کے نام؟

مراد ابابکی کے نام؟
مراد ابابکی کے نام؟

  

ہم طالب علم جنرل ایوب خان کے خلاف تحریک چلارہے تھے اور دلچسپ واقعات بھی ہورہے تھے بلوچستان میں پہلی بار ایک منظم تحریک چل رہی تھی ہزاروں لوگ اس میں شریک تھے دیکھتے ہی دیکھتے اس جدوجہد میں شریک کئی مخلص دوست ہم سے بچھڑ گئے کئی طالب علم رہنماءاور کئی مخلص ورکر آج ہم میں موجود نہیں ہیں ان کی بھولی بسری یادیں رہ گئی ہیں ان دوستوں سے ایک طویل سیاسی سفر تھا اب یہ سب خواب سا لگتا ہے جب یہ تحریک شروع ہوگئی تو موسم سرما تھا برف باری اور یخ بستہ ہواﺅں میں ہمارا سفر جاری تھا اب سوچتا ہوں کہ وہ کیا جنون تھا کہ کبھی سردی کا احساس ہی نہیں ہوا طلباءتحریک کا گڑھ اسلامی جمعیت طلبہ کا دفتر تھا یہ دفتر لیاقت بازار ، لیاقت مارکیٹ کے مقابل واقع تھا۔ ہم لوگ اب تک اینڈرسن روڈ کے نام سے یاد کرتے ہیں جناح روڈ کا نام بروس روڈ تھا اب یہ نام رفتہ رفتہ گم ہوتے جارہے ہیں۔ زرغون روڈ کا نام لٹن روڈ تھا اور ٹھنڈی سڑک کے نام سے اس کی شہرت عام تھی پھر اس کے کئی نام بدلتے گئے اس کا نام شاہ ایران کے نام پر رکھا گیا انقلاب آیا تو اس کا نام امام خمینی کے نام پر رکھا گیا بالآخر گھومتے گھومتے اب اس کا نام زرغون روڈ رکھ دیا گیا۔

ایوب خان کے خلاف بڑی یاد گار اور تاریخی جدوجہد تھی اور مسلسل تھی اس میں وہ دوست جو اس تحریک کے روح رواں تھے اب ان میں سے کئی دوست ہم سے بچھڑ گئے ہیں زندگی کا سفر رواں دواں ہے زندگی کا سفر ریل کے سفر کی طرح ہے جس کا اسٹیشن آجاتا ہے تو اس کا سفر ختم ہوجاتا ہے تو وہ ٹرین سے اتر جاتا ہے بس زندگی بھی ایک ٹرین کی مانند رواں دواں ہے اور اس میں سے مسافر اترتے چلے جارہے ہیں ہمارے بہت ہی عزیز ساتھی اور جدوجہد کے ہر اول دستے کے رہبر ہم سے بچھڑ گئے ہیں بس اب ان کی یادیں رہ گئی ہیں ہم سے دور چلے جانے والوں میں خیر جان بلوچ، سعید اقبال، ضیاءالدین ضیائی، عبدالماجد فوز، عبدالصمد خلجی مرحوم نمایاں طالب علم لیڈر تھے کئی نام یاد نہیں ہیں کئی چہرے ہیں جو خیالوں میں موجود ہیں کچھ نام یاد رہ گئے ہیں مجھے اچھی طرح یاد ہے جب جلوس میں شامل ہونے کے لئے گھر سے نکلنا تو بے شمار لوگ اور طالب علم مجھ سے ملتے تھے اور کہتے تھے کہ اس مسئلہ پر اپنی تقریر میں ضرور بولنا تحریک کے دوران دو نوجوان ایسے بھی تھے کہ انہیں آج تک بھلا نہیں سکا ایک نوجوان اپنے والد کے ساتھ داشت میں کام کرتا تھا اور گدھے پر داشت کا سامان لاتا تھا بہت ہی غریب نوجوان تھا وہ ہمیشہ ہمارے جلوس میں شامل ہوتا تھا اور اس کا والد اس سے بہت ناراض ہوتا تھا کہ داشت کا کام چھوڑ کر طالب علموں کے جلوسوں میں کیوں شامل ہوتا ہے وہ اپنے گدھے کو ایک خاص جگہ پر باندھ کر ہمارے جلوسوں میں شامل ہوتا تھا اور بڑے پر جوش نعرے لگاتا تھا تقریروں کے بعد ہم سے بڑی محبت سے ملتا تھا اور ہم دوست بھی اس سے اتنی ہی محبت سے ملتے تھے اس کا لباس ایک مزدور کا لباس ہوتا تھا ،لیکن ہم نے کبھی اسے حقارت سے نہیں دیکھا ،بلکہ محبت و احترام سے دیکھتے تھے اور اس سے گھل مل جاتے تھے وہ بہت خوش ہوتا تھا اور کبھی کبھی ہم سے ہنس کر کہتا تھا کہ آج میرے باپ نے مجھے بہت مارا ہے کہ داشت کا کام چھوڑ کر جلوسوں میں کیوں جاتے ہو، لیکن باپ کی مار اسے طالب علموں کے جلوسوں سے نہیں روک سکی اس نوجوان کا نام اب ذہن سے نکل گیا ہے بس اس کا چہرہ اب بھی نگاہوں میں گھوم رہا ہے اب جب یہ کالم لکھ رہا ہوں تو وہ میرے سامنے کل کی طرح آج بھی موجود جلوس میں نظر آرہا ہے نہ جانے اب وہ کہاں ہے اس دنیا میں ہے بھی یا نہیں اگر ہماری دنیا سے چلا گیا ہے تو اس کے لئے دست بہ دعا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنے جوار رحمت میں جگہ عطاءفرمائے۔

آج کا کالم خاک نشینوں کے حوالے سے ہے جو کسی بھی تحریک میں ان کی زندگی کا سفر ختم ہوجاتا ہے۔ میں اس خراسانی نوجوان کو 46 سال گزرنے کے بعد بھی بھلا نہیں سکا ہوں۔ اس طرح ایک اور خاک نشین ہمارے ہر جلوس میں شامل ہوتا تھا وہ اپنی پرانی سائیکل پر ردی وغیرہ بیچتا تھا اور روٹی خریدتا تھا لوگ اس مزدور کو بچی کچی سوکھی روٹی بیچتے تھے وہ خریدتا تھا اور اس کی زندگی اس طرح بسر ہورہی تھی وہ نوجوان بھی ہمارے ہر جلوس میں اپنی سائیکل کے ساتھ شریک ہوتا تھا اس کی سائیکل کے ساتھ پرانے ٹین اور بوتل موجود ہوتے تھے اور اس کے ساتھ جلوس میں ہمارے ساتھ چلتا تھا بعض دفعہ ہم اس کو اپنے ساتھ چائے بھی پلاتے تھے وہ بہت خوش ہوتا اور جب بھی ملتا تھا تو بڑے پر جوش انداز سے ملتا تھا وہ میری تقریر کو بہت پسند کرتا تھا اور متاثر تھا جب ہمارا جلسہ ختم ہوتا بڑی محبت اور پر جوش طریقہ سے ملتا اور تقریر کی تعریف کرتا تھا پھر ہمارا طالب علمی کا دور ختم ہوگیا ایک طویل عرصہ کے بعد اس سے ملاقات ہوئی تو وہ جماعت اسلامی کا رکن بن گیا تھا اور مجھ سے اکثر کہتا تھا کہ شادیزئی صاحب آپ بھی جماعت میں شامل ہوجائیں اور میرے طالب علمی کے دور کو یاد کرتا تھا اور تقریروں کا حوالہ دیتا تھا پھر جب اس کی جماعت میں شامل ہوگیا تو وہ بہت خوش ہوگیا اورجب کبھی تقریر کرتا تو وہ بہت خوش ہوتا تھا اور بڑی محبت سے ملتا تھا وہ ان پڑھ تھا، لیکن اس کی سوچ سیاسی تھی مجھ سے بھی بعض سیاسی معاملات میں گفتگو کرتا تھا اس کی امیدیں جماعت اسلامی سے بہت زیادہ تھیں بلوچستان میں جماعت اسلامی کی کمزوری سے بہت پریشان رہتا تھا اس کی خواہش تھی کہ بلوچستان میں جماعت اسلامی اسمبلی میں کوئی نشست حاصل کرے اس کا اضطراب ایک مخلص انسان کا تھا جب بھی اس کو کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تو وہ مجھ سے ملتا تھا اور بیان کرتا تھا اس کو پھر بڑی تسلی ہوتی تھی پھر وہ مطمئن اور بہت خوش ہوتا تھا ایران کے انقلاب سے ہمارا یہ خاک نشین بڑا متاثر تھا ہر مظلوم اور خاک نشین ایران کے اسلامی انقلاب سے متاثر رہا ہے وہ بھی بڑے بڑے محلات کو زمین بوس ہوتے دیکھنا چاہتا ہے وہ انقلاب کی مختلف تقریبات میں شریک ہوتا تھا۔

 اب ہمارا یہ مخلص خاک نشین بوڑھا ہوگیا تھا مختلف بیماریوں نے اسے گھیر لیا تھا اس کی نگاہوں میں انقلاب تھا اس کے ذہن میں تازگی تھی مایوسی نہیں تھی بڑا پر امید رہتا تھا اورجب بھی جہاں ملتا تو بڑی محبت اور خلوص سے ملتا تھا اورپھر مجھ سے سیاسی حالات کے حوالے سے تجزیہ کا کہتا تھا اور پوچھتا تھا کہ حالات کس طرف جارہے ہیں۔ کیسے کیسے خوبصورت خواب تھے جن کو وہ اپنی آنکھوں میں سجاکے رکھتا تھا حیرت کی بات ہے کہ اس کو کبھی مایوس نہیں دیکھا اب بھی وہ ہر جلوس اور جلسہ میں اپنی پیرانہ سالی کے باوجود بڑے ذوق سے شریک ہوتا تھا مجھے ایک روحانی خوشی اور مسرت ہوتی ہے جب میرا قلم کسی گمنام مخلص خاک نشین کے لئے متحرک ہوتا ہے آج اپنے بہت ہی مخلص دوست اور مہربان آشنا چاچا مراد ابابکی کے لئے کالم لکھ رہا ہوں تو مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ وہ میرے کسی جلسہ میں شامل ہے اور میری تقریر سن رہا ہے کاش سیاسی جماعتیں کبھی اپنے کسی خاک نشین گمنام ورکرز کے لئے بھی کوئی تعزیتی ریفرنس رکھ لیں تو تاریخ کا کتنا اہم موڑ ہوتا اور کیا خوبصورت لمحہ ہوتا اورکتنا دلچسپ ہوتا کہ ایک خاک نشین کے اعزاز میں صاحبان علم و دانش اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں آج اپنے اس گمنام خاک نشین دوست چاچا مراد ابابکی کے لئے یہ کالم اس کے نام کرتا ہوں جو میرے دور کے طالب علموں کی تحریک کا ایک گمنام سپاہی تھا اس مخلص گمنام خاک نشین سپاہی کو میرا سلام ہو اور دعا ہے کہ اللہ رب العالمین اسے اپنے جوار رحمت میں جگہ عطاءفرمائے اس کی کوتاہیوں اور لغزشوں سے درگزر فرمائے (آمین) ہماری تاریخی جدوجہد کا ایک سپاہی ہم سے رخصت ہوگیا ہے اس کے عزیز و اقارب اور لواحقین کے غم میں برابر کا شریک ہوں۔

مزید : کالم