خطرے کی گھنٹی

خطرے کی گھنٹی

راعی رعایاکی اطاعت کے بغیر قائم نہیں رہ سکتے اور رعایا بغیر عدل و خوشحالی فرمانرواوں کی فرمانبرداری نہیں کیا کرتی ۔امورِمملکت اور معاملاتِ جہانگیری میں عوامی مسائل میں کمی ہی حکومت کو استحکام اور نظام کو دوام بخشا کیے ۔آہستہ لیکن استقلال سے ایک نعرہ ہولے ہولے حکومت کے گرد جال بننے چلا ہے اور مرکز کے مرغے اپنی مستی میں مگن ہیں ۔”گو نواز گو“ کی لَے اونچے سُروں میں اٹھنے لگی ہے ،کپتان کے معاونین و ناصرین موقع بے موقع ،جاو بے جا ہر جگہ یہ نعرہ لگانے چلے ہیں ۔قطع نظر کہ اس نعرے کے اثرات اور مضمرات آنے والے وقتوں میں کیا ہوں گے ؟ طیش نہیں تحمل ،جوش نہیں ہوش سے حکام کو سوچنا چاہیے کہ آخر ایسا کیوں ہے ؟ٹھنڈے دل و دماغ سے صورتحال کا تحلیل و تجزیہ کیے بغیر مسئلہ کی درست تفہیم نہیں ہو سکتی۔

مانے لیتے ہیں کسی حکومت کی کارکردگی و کارگزاری جانچنے یا پرکھنے کے لیے اٹھارہ ماہ کفایت نہیں کرتے لیکن کوئی مانے نہ مانے یہ عرصہ کافی نہ سہی کم بھی نہیں ۔ڈالر نیچے ضرور آیا مگرغریب او رمتوسط طبقہ کی آمدن اوپرنہیں گئی،لوڈشیڈنگ کم ضرور ہوئی مگر اس کا عفریت ویسے ہی پھنکار رہا ہے ،گردشی قرضہ ایک بار تو چکایا جا چکا مگر اب پھر باقی اور برقرار ہے ،بجلی چوری کی صورتحال میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی ،محاصل کی بڑھوتری توخیال کی باتیں ہیں وصولی بھی خواب ہوئی۔تعلیم و صحت کے شعبے میں کوئی بہار آئی نہ مہنگائی و بے روزگاری کی خزاں بدلی۔گزشتہ حکمرانوں نے بھی بلدیاتی انتخابات کروانے سے گریز اور فرار کی راہ اختیار کی اور موجود ہ حکمرانوں کی روش اور رویہ بھی ان سے جدا نہیں ۔ملک کے اندرونی مسائل حل کرنے میں پیشرفت تو ضرور ہوئی مگر اس کے ثمرات تو عوام کو کیا ملتے اثرات تک نظر نہیں آتے۔دراصل حکومت اپنی بقا کی جنگ لڑنے میں ہی الجھ کر رہ گئی ہے اورظاہر و باہر ہے کہ بقا کی یدھ لڑنے والے ارتقاکے مرحلے میں داخل نہیں ہوتے اِلاَّیہ کہ وہ بقا کے مدار سے نکل کر ارتقا کے محورمیں جا داخل ہو ں۔

”گو نواز گو“کے نعرے نے اور کچھ کیا ہو یا نہیں البتہ دو کام ضرور کیے :ایک تو حکومت کے گرد خوف و خدشات کا جالا بُن دیا اور دوسراترقیاتی و ارتقائی منزل کی جانب اٹھتے ہوئے قدم روک لیے ۔یہ حکمرانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ ملک و قوم کی فوز وفلاح کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے ،جو بج رہی ہے اور بے ساز بھی ہے۔اگر کپتان کی احتجاجی سیاست،جلسے وجلوس اور دھرنے و دشنام پیہم جاری رہے تو طے سمجھئے کہ حکومت کوئی معرکہ نہ مار پائے گی۔نپولین بونا پارٹ ایسے جری جرنیل کو بھی اگر ہاتھ پاو¿ں باندھ کر میدانِ جنگ میں دھکیل دیا جائے تو وہ کیا خاک جنگ جیتے گا ؟

بدقسمتی کہیے،اسے حکومتی کوتاہ نظری کا نام دیجئیے یا حکام کی نااہلی کہ یہ لوگ لوڈشیڈنگ،دہشت گردی کے خلاف جنگ اور بلدیاتی الیکشن کے انعقاد میںہنوز کوئی قابلِ ذکر کردار ادا نہ کر سکے ۔بجلی کی پیداوارکے منصوبوں کا آغاز تو ہو چکا مگر رسد اور طلب میںخلیج پاٹی نہ جا سکی ۔یہ الگ بات اور علیحدہ موضوع ہے کہ طلب ورسد میں توازن قائم کرنا یہ جتنا کہنا سہل ہے کرنا اتنا ہی مشکل ۔لیکن آخرحکومت کس چڑیا کا نام ہے کہ اقتدار و اختیارہوتے ہوئے اور اٹھارہ ماہ بیت جانے کے بعد بھی مسائل کے حل کے لیے رفتار چیونٹی کی سی ہے ۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بنیادی و جوہری کردار دفاعی اداروں کا ہے ،اس میں حکمران ضمنی اور ثانوی حیثیت رکھتے ہیں ۔یہاں بھی اڑچن یہ آن پڑی کہ ضمنی و ثانوی کردار بھی حکام کما حقہُ ادا کر نہ سکے۔

رہی بات بلدیاتی الیکشن کی تو یہ آمریت ہی کے دور میں ہوتے ہیں ،جمہوری جمشید جاہوں کی تو ان سے جاں جائے ہے کہ ہائے اقتدار و اختیار تقسیم ہو جائے گا ۔قومی و صوبائی اسمبلی کے معزز ممبران ارتکازِ اختیار پر یقین رکھا کیے کہ اگر بلدیاتی ادارے وجود میں آ گئے اور کونسلر منتخب ہو گئے تو انہیں کون پوچھے گا ۔شریف برادران اگر ”گو نواز گو“کا نعرہ سننا نہیں چاہتے اور یقینا یہ نعرہ ان کے کانوں میں کوئی رس نہیں گھولتا تو اس کا نسخہ کیمیا اس کے سوا کچھ بھی نہیں کہ ملک بھر میں بلدیاتی الیکشن کروانے کا اعلان کر دیا جائے ،لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لیے فوری اور پائیدار اقدامات کیے جائیں (سر فہرست اقدام بجلی کا سستا ہوناہے ) اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عز مِ صمیم ہی کافی نہیں عملی ثبوت بھی دینا ہو گا۔بصورتِ دیگرنعرے کے خطرے کی گھنٹی بجتی اور بجائی جاتی رہے گی ۔

ہرگز ہر گز کوئی کلام نہیں کہ حکومت دھرنے کے بحران سے بخیر و خوبی نکل آئی ہے لیکن ہر گز ہر گز کوئی مبالغہ نہیں کہ نعرے کے خطرے کی گھنٹی ابھی تک بجا کیے ۔ہر آواز کو مخالف کا پروپیگنڈا قرار دے کر فراموش کرنا، ہر رائے کو بد نیتی پر محمول گرداننا اور ہر نقد کی نفی کرنا ذی شعور اشخاص کا شیوا نہیں ہوتا۔حکمران جب بحران کے بھنور سے سرخرو اور سرفراز ہو کر نکلتے ہیں تو ان کا قد فلک کو چھونے لگتا ہے لیکن قباحت یہ ہے کہ آسمان کا بوسہ لینے کی خواہش میں پاو¿ں زمین سے اکھڑ جاتے ہیں ۔پاو¿ں اکھڑتے ہیں تو دھرتی بھی آنکھیں پھیرا کیے اور آسمان تو خیر شروع ہی سے کج رفتار مشہور ٹھہرا۔ ٭

مزید : کالم