مَیں شرمندہ ہوں۔۔۔!

مَیں شرمندہ ہوں۔۔۔!
 مَیں شرمندہ ہوں۔۔۔!

  


یہاں بندہ کس کس چیز کو روئے ہر طرف تباہی و بربادی، سیاسی دھر نے، ٹارگٹ کلنگ،فر قہ وا ریت، کرپشن، نا انصافی ،لوڈشیڈنگ،قتل وغارت،عوامی دولت پر حکمرانی،بددیا نت حکمران اور کر وڑوں کی تعدادمیں بے حس آلِ آدم نظر آتے ہیں۔ یہ ایک ایسے پاکستان کی کہانی ہے جہاں انسان کی کوئی حیثیت نہیں ہے روزانہ لوگ مرتے جا رہے ہیں اب قد رت بھی اپنے جوش پر آئی ہو ئی ہے!

بارشوں اور سیلابوں سے تباہ کاریوں کا سلسلہ اپنے عروج پر ہے۔ انسانی اموات اور مو یشو ں کی ہلا کتیں ہو رہی ہیں۔ہزا روں لوگ سیلاب کی تباہ کا ریوں سے گھر سے بے گھر ہورہے ہیں کھڑی فصلوں کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے اور یہ سلسلہ ابھی کئی روز تک جاری رہتا دکھائی دے رہا ہے، جبکہ ان آوارگانِ سیاست کا رویہ تبد یل ہو نے کو نہیں آرہا ، کاش ان کے سینوں میں دل اور دل میں انسانیت کی رمق بھی ہو تی ۔

تخت و تاج کو معراجِ حیات اور حا صل ِ کا ئنا ت سمجھنے والے ان شکم پر ستوں کو ہر بار اندازہ ہی نہیں ہو پا تا قبل از وقت کچھ کر نے کے لئے خیال ہی نہیں آتا۔ اگر فیصلہ سا زوں کو تاج و تخت کے علاوہ سر زمین کے مقدر سے بھی دلچسپی ہے تو غو ر کر یں کہ پا نی کی یہ رحمت جو ہمارے کھیتوں کو سیراب کر تی ہے، جس سے ہز ا روں میگا واٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے، جس سے بڑے آبی دخا ئر کی صو رت میں قلتِ آب پر قا بو پا یا جا سکتا ہے ہمارے لئے چند سا ل کے بعد یہ بہت بڑی زحمت کیوں بن جا تی ہے کہ جس کے بعد ہماری معیشت کی ٹو ٹی ہو ئی ہڈ یو ں کو جو ڑنے کے لئے بہت محنت در کا ر ہو تی ہے۔

بھارت میں28 ریاستیں ہیں اس ملک میں سوا ارب کے لگ بھگ لو گو ں کا سمندر ٹھا ٹھیں ما رتا ہے اور اس وقت وہاں کم و بیش 4600 کے قر یب آبی ذخائرمو جود ہیں اس کی پن بجلی کی پیدا وار 40 ہزار میگاواٹ کے قر یب جا پہنچی ہے۔اِن سب باتوں کو مد نظر رکھنے کے بعد اگرہم اپنے گر یبا نو ں میں جھا نکنے کی زحمت کر یں تو ہمیں محسوس ہو تا ہے کہ کہیں خدا وندِ کر یم ہم سب سے ناراض تو نہیں؟

بین الا قوامی برادری میں ہمارا حال کمیوں کی طرح ہے ہم بحیثیت قوم بد دیانت ہو چکے ہیں ہماری قومی غیرت کی نیلامی اورعزت نفس اب ختم ہو نے کے قر یب ہے کبھی انسا نوں کے ہا تھوں انسان ما رے جا رہے ہیں کبھی قد رت انہیں آ زما ئش میں مبتلا کر رہی ہے، کہیں سول نا فر مانی کی طر ف قد م بڑ ھا ئے جا رے ہیں،تو کہیں دین اور سیا ست کے نام پر غر بت کی سیل لگی ہے غرض یو ں معلوم ہو تا ہے کہ ہماری اجتماعی قسمت میں پریشانیاں اور غم لکھے جا چکے ہیں۔ ایسے میں ہم صر ف سربسجود ہوئے ملک و قوم کے حا لات کی بہتری کے لئے دُعا کر سکتے ہیں۔’’اے ہمارے ربّ ہمیں اپنے اعمال ٹھیک کر نے کی ہدا یت دے‘‘۔آمین! *

مزید : کالم