ورکنگ باﺅنڈری پر جھڑپیں

ورکنگ باﺅنڈری پر جھڑپیں
ورکنگ باﺅنڈری پر جھڑپیں

  

چند روز سے پاکستان اور بھارت کے درمیان ورکنگ باﺅنڈری پر جھڑپیں جاری ہیں۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر پہل کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۔ خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ پہل کس نے کی۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو کوئی بے وقوف ہی یہ سوچ سکتا ہے کہ جب ہمارے اندرونی حالات اتنے الجھے ہوئے ہوں تو ہم، روائتی ہی سہی، جنگ کا خطرہ مول لے سکتے ہیں.... تو پھر کیا یہ پہل بھارت نے کی؟.... اس سوال کا جواب دینے کے لئے ہمیں چند زمینی حقائق پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

اول: یہ کہ بھارت کو معلوم ہے کہ پاکستان اس وقت اندرونی طور پربہت کمزور ہو چکا ہے۔

دوم: یہ کہ اس کو یہ بھی معلوم ہے کہ پاک فوج کا ایک حصہ شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف برسر ِ پیکار ہے۔

سوم: یہ کہ افغانستان سے اگلے تین ماہ کے اندر امریکی (اور ناٹو/ ایساف) فورسز چلی جائیں گی۔ حکومت پاکستان نے اگرچہ اس معاہدے کی تائید کی ہے جو حال ہی میں امریکہ اور افغانستان کے درمیان طے پایا ہے، لیکن افغانستان کے پشتونوں نے اس کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ2015ءکا سورج جب طلوع ہو گا تو پاکستان کے مغربی ہمسائے میں امن و امان کا مسئلہ ضرور کھڑا ہو گا۔ ایسے میں پاکستان کو مغرب کی طرف دیکھنا پڑے گا، مشرق کی طرف نہیں۔

چہارم: یہ کہ امریکہ اور بھارت ایک عرصے سے باہمی محبت کی پینگیں بڑھا رہے ہیں۔پاکستان اندھا نہیں کہ ایسے میں خواہ مخواہ اپنی مشرقی سرحد پر بھی چھیڑ چھاڑ کرے اور آ بیل مجھے مار کی کہاوت تازہ کرے۔

چنانچہ منطق اور دلیل یہی کہے گی کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی میں پاکستان کی طرف سے نہیں، بھارت کی طرف سے پہل کی گئی ہو گی۔

بھارت میں آج سے چار روز بعد15اکتوبر کو اس کے دو بڑے اور اہم صوبوں میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ بی جے پی ان دونوں صوبوں میں اپنی جیت کے لئے سر توڑ کوشش میں ہے اور وزیراعظم بھارت دن رات مہاراشٹر اور ہریانہ میں شہر شہر اور قریہ قریہ جا کر انتخابی مہم کے سلسلے میں تقریریں کر رہے ہیں۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ بھارت جان بوجھ کر اپنی سرحد پر امن وا مان کی صورت حال پیدا کر رہا ہے تاکہ پبلک کو یہ باور کرا سکے کہ پاکستان کے ساتھ جنگ کا خطرہ ہے اور اس کو ”مُنہ توڑ جواب“ دینے کے لئے کانگریس سرکار نہیں، بلکہ بی جے پی سرکار بہتر چوائس ہو گی۔ ایک دلیل یہ بھی دی جا رہی ہے کہ مودی صاحب کے نزدیک ان سرحدی جھڑپوں کی کوئی حقیقت نہیں۔ وہ اتنے ”مہان نیتا“ ہیں کہ ان خونریز معرکوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے انتخابی دوروں پر نکلے ہوئے ہیں۔

قارئین کی توجہ اس طرف بھی ہونی چاہئے کہ حال ہی میں اقوام متحدہ میں ہمارے وزیراعظم نے کشمیر کو دونوں ممالک کے درمیان ایک حل طلب مسئلہ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ دو ممالک کا باہمی مسئلہ نہیں، ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے اور اس کی سنگینی کا ادراک گلوبل برادری کو اس لئے بھی کرنا چاہئے کہ پاکستان اور بھارت دونوں جوہری اور میزائلی قوتیں ہیں۔

اس سلسلے میں بھارت ایک اور حرکت یہ بھی کر رہا ہے کہ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باﺅنڈری کی اصطلاحیں استعمال کرنے کی بجائے اپنے میڈیا پر یہ تاثر دے رہا ہے کہ یہ بین الاقوامی سرحد ہے جس پر جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ ان جھڑپوںکی خونریزی میں غلو ظاہر کرنے سے اس کا مطلب یہ ہے کہ بین الاقوامی میڈیا ان جھڑپوں کو زیادہ سے زیادہ ہائی لائٹ کرنے کے لئے اس تنازعہ کو یہ شکل دے کہ پاکستان، متنازعہ علاقے کی نہیں، بین الاقوامی سرحد کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔

8اکتوبر کو انڈیا کے ایک ٹی وی چینلپر جو خبریں نشر ہوئیں ان کا اندازِ بیان ملاحظہ کیجئے:

(1) گزشتہ رات بھارت کی دو خواتین ہلاک اور17مرد اس وقت زخمی ہو گئے جب پاکستانی فوج نے 60بھارتی چوکیوں اور تین درجن سے زائد دیہات پر مارٹروں سے گولہ باری کی اور 200کلو میٹر پر پھیلی ہوئی ”جموں و کشمیر کی بین الاقوامی سرحد“ کی خلاف ورزی کی۔

(2) اس کے جواب میں بھارت نے 73 پاکستانی پوسٹوں پر حملے کئے۔ وزیر دفاع نے پاکستان پر واضح کر دیا ہے کہ بھارتی ٹروپس ڈرنے والے نہیں، لڑنے والے ہیں۔

(3) ہمارے وزیراعظم ہریانہ اور مہاراشٹر میں انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔ انہوں نے اپنے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر کو کہہ دیا کہ پاکستان کے حملوں کا خاطر خواہ جواب دیا جائے۔

(4) بھارت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے واشگاف انداز میں پاکستان پر واضح کر دیا ہے کہ وہ”بین الاقوامی سرحد“ کی خلاف ورزی کرنے سے پہلے دوبارہ سوچ لے کہ وہ کیا کر رہا ہے۔

(5) دونوں ممالک کے سینئر ملٹری آفیسرز نے کل ہاٹ لائن پر پانچ منٹ تک بات چیت کی۔ اور اس میں فریقین ایک دوسرے پر پہل کرنے کا الزام لگاتے رہے۔

(6) پاکستان ان جھڑپوں کی آڑ میں اپنے سینکڑوں”تخریب کار“ بھارت میں داخل کرنا چاہتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ دونوں اطراف کی گولہ باری کے دوران جو دھواں دھار جنگی فضا پیدا ہو اس کی آڑ اور اوٹ میں ”پاکستانی گھس بیٹھئے“ سرحد عبور کر یں جموں اور کشمیر میں داخل ہو جائیں۔

بھارت کے وزیر دفاع آرون جیتلے بھی کل ہسپتال سے ڈسچارج ہو کر ”میدان“ میں آ کودے ہیں اور ایسے بیان دے رہے ہیں کہ جیسے واقعی کسی بڑی جنگ کا خطرہ سرحدوں پر منڈلا رہا ہے۔15اکتوبر کو جب ووٹنگ ہو گی تو دونوں صوبوں کے عوام اپنے مرکزی وزیروں (آرون جیتلے اور راج ناتھ سنگھ) اور اپنے ”شیر دل وزیراعظم“ کی بے پروائی اور دشمن سے مرعوب نہ ہونے کی ”اداﺅں“ سے مرعوب ہو کر ان کو ووٹ دیں گے۔

دونوں اطراف کا میڈیا ان جھڑپوں کو جس طرح ہائی لائٹ کر رہا ہے، قارئین کو اس کا نوٹس لیتے ہوئے یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ بھارت تو اپنے مقصد کی برآری کے لئے واویلا مچا رہا ہے لیکن پاکستان کیا کر رہا ہے؟.... کیا ہم نہیں جانتے کہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی قوتیں ہیں؟.... ان میں جنگ کے امکانات دور دور تک نظر نہیں آتے.... اور روایتی جنگ کیSOPs کا کس کو پتہ نہیں؟ .... آج کی ٹیکنالوجی زدہ فضا میں جب روائتی جنگ کا آغاز ہونے کو ہوتا ہے تو واقفانِ حال جانتے ہیں کہ فورسز کی موبلائزیشن چھپی نہیں رہ سکتی۔ انڈیا یا پاکستان کی اگر ایک بھی ٹینک یا آرٹلری یونٹ آگے پیچھے یا اِدھر اُدھر موو (Move) کرتی ہے تو اس کو پوشیدہ نہیں رکھا جا سکتا۔ کسی ناگہانی (Surprise) حملے یا سرجیکل سٹرائیک یا کولڈ سٹارٹ سٹرٹیجی کا تصور بھی باطل ہو چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ طرفین کو خوب معلوم ہے کہ جنگ ونگ کا کوئی خطرہ نہیں۔ نریندر مودی صاحب نے یہ بھی کہنا شروع کر دیا ہے کہ ”چند دنوں میں حالات نارمل ہو جائیں گے، پریشانی والی کوئی بات نہیں،پرجا کو دھیرج رکھنی چاہئے“۔

لیکن دوسری طرف پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا پر ہمارے جو مبصر بھارت کی طرف سے پہل کرنے اور اچانک سرحدوں کو خاک و خون میں نہلاتا دکھانے کامنظر کھینچتے ہیں، ان حضرات کو احتیاط کرنی چاہئے۔ شہری و دیہی آبادیوں اور فوج کا مورال بھی ایک چیز ہوتی ہے، اس کا خیال رکھنا چاہئے۔ ٹیلی ویژن سکرینوں پر سرحد پر واقع مکانوں کی دیواروں میں گڑھے اور چھتوں میں بڑے بڑے سوراخ بار بار دکھانے سے کیا مطلب لیا جا سکتا ہے؟.... جنگ کا حقیقی خطرہ اگر سر پر ہو تو کیا ہمارے رینجرز اور بھارت کی بارڈر سیکیورٹی فورسز اِکا دُکا گھر کو جزوی طور پر منہدم کرنے پر ہی اکتفا کریں گی؟ اپنے کسی نوبیاہتا جوڑے کو زخمی دکھا کر کیا پاکستان، بین الاقوامی برادری میں ترحم کا جذبہ پیدا کرنا چاہتا ہے؟.... سچی بات یہ بھی ہے کہ ان لوگوں کو کس نے کہا تھا کہ ورکنگ باﺅنڈری کے اس خطرناک علاقے میں بیٹھ کر شادیاں رچائیں اور گھر بسائیں۔ جن پہاڑوں میں لینڈ سلائیڈنگ ایک معمول ہو ان کے دامن میں جا کر آباد ہونا اور پھر اپنے گھروں کے مٹی کے تودوں میں دب جانے پر چیخ و پکار کرنا چہ معنی دارد؟

ہمارے ملٹری مبصروں کو یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ ان کی ریٹائرمنٹ سے لے کر اب تک جدید وپین ٹیکنالوجی کے پل کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے، بلکہ یہ پانی روز بروز ایک سیلابی کیفیت کا حامل ہوتا جاتا ہے۔ پاکستانی اور بھارتی افواج اس سروے لینس اور فضائی ریکی کی حدود سے کہیں آگے نکل چکی ہیں جو اِن مبصروں کے دور میں ”جدید ترین“ سمجھی جاتی تھیں اور جن کو بنیاد بنا کر یہ حضرات اپنے تجزیئے پیش کرتے اور پاکستان کی اُس سادہ لوح آبادی کو خوفزدہ کرتے رہتے ہیں جس کو دفاعی معاملات کی ابجد کی بھی خبر نہیں۔ ان کو تو فوج کا کوئی جرنیل یا کرنیل جو کچھ بتا ئے گا، یہ لوگ اُسی کو حرف ِ آخر سمجھ لیں گے۔ اس لئے ان سے گزارش ہے کہ وہ ورکنگ باﺅنڈری کی خلاف ورزی کے ”کھمب“ کا کوّا نہ بنائیں!

ہمارے وزیراعظم نے ان ایام میں وزیرستان کا دورہ کر کے انڈیا کو یہ جوابی تاثر دیا ہے کہ اگر مودی صاحب سرحدوں پر فائرنگ کو زیادہ اہم نہیں سمجھتے تو وہ بھی سیالکوٹ کی طرف زیادہ توجہ نہیں دیتے۔ یہ کام مقامی ملٹری کمانڈروں کا ہے۔ وہ ان خلاف ورزیوں سے بخوبی نمٹ رہے ہیں۔ پاکستان کا اصل فوکس اس دشمن پر ہے جو اب وزیرستان سے بھاگ رہا ہے۔ ٭

مزید : کالم