جذباتیت

جذباتیت
 جذباتیت

  


جذباتیت نہیں جذبہ درکار ہوتا ہے۔ نری جذباتیت ہر گز سازگار نہیں۔ یہ موجودہ سیاست میں ایک ذرا سی توجہ د لائیگی مگر کوئی گہرا نقش نہیں چھوڑے گی۔ کیا بلاول بھی تاریخ میں کھیت رہے گا؟اگرچہ جواب میسر ہے اور سامنے کھڑا مسکرا رہا ہے، مگر پھر بھی سوال ہے کہ ستائے جارہا ہے۔ ہائے یہ لیڈر اور اُن کی اولادیں! نہ جانے کس سیارے کی مخلوق ہے؟جسم کے کس حصے سے سوچتی ہے اور نہ جانے کیا کیا بولتی رہتی ہے؟

غالب تمہیں کہو کہ ملے گا جواب کیا

مانا کہ تم ’’ٹ ٹ‘‘ کئے اور ہم سنا کئے

بلاول نے تقریر کیا کی ؟ یہ نہیں، سوال تو یہ پوچھنا چاہئے کہ بلاول نے تقریر ہی کیوں کی؟ اُنہیں ایک ریاضت درکار تھی، طویل غوروفکر اور گہرے صلاح مشورے، مگر انہوں نے جذبات کی آگ پر کاٹھ کی ہنڈیا چڑھا دی ۔ سامنے کی حقیقت یہ ہے کہ حکمران اور اُن کی اولادیں بدلے ہوئے پاکستان کو سمجھ ہی نہیں رہیں۔ وہ اپنے پُرانے حربوں اور ہتھکنڈوں سے ہنر آزما ہیں۔ شہر کو ’’سیلاب ‘‘لئے جاتا ہے اور یہ مژگاں تک کھولنے کو تیار نہیں۔ پورا پاکستان ہی نہیں،سندھ سارا پیپلز پارٹی کی پرانی عادتوں سے بیزار ہوچکاہے، مگر ایک بار پھر جواں سال بلاول کُہنہ سیاست کی باسی کڑھی اُبال رہے ہیں۔ اُنہوں نے اپنے نانا کی طرح سیاست کے تمام کرداروں کو للکارنے کی روش اپنا لی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ نانا کی سیاست کی طرح ایک کامیاب حکمت عملی ثابت ہوگی۔وہ عمران خان، نواز شریف، شہباز شریف اور چودھری نثار پر ہی نہیں گرجے برسے، بلکہ رینجرز کے کردار سے بھی شاکی دکھائی دیئے۔ حیرت ہے وہ اُسی اُسلوب میں بھارت پر بھی بات کرتے دکھائی دیئے۔

پیپلز پارٹی کا روایتی سیاسی نقطہۂ نظر بھارت کے باب میں مختلف رہا ہے، مگر بلاول جذبات کے گھوڑے کی سواری میں کچھ اتنے اُتاؤلے ہیں کہ وہ گورنر سندھ اور بھارت پر بات کرنا کچھ ایک ہی جیسا معاملہ سمجھتے ہیں۔ یہ کام اس قدر خام طریقے سے کیا گیا کہ اُدھر بلاول نے بھارت کے خلاف بات کی اور اُدھر پیپلز پارٹی کی ویب سائٹ، ہیک کر کے اُس پر بھارت کا پرچم لگا دیا گیا۔ پیپلز پارٹی نے معاً یہ باور کرایا کہ بلاول کی طرف سے بھارت کو للکارنے کے باعث یہ بھارتی ردِعمل ہے۔ابھی پیپلز پارٹی اس پروپیگنڈا کا پرچار کر ہی رہی تھی کہ تحریکِ انصاف کی سائبر فورس حرکت میں آئی اور اُس نے ثبوتوں کے ساتھ واضح کر دیا کہ یہ کام پیپلز پارٹی نے خود ہی کراچی سے کیا ہے۔ فوراً ہی وہ ’’آئی پی ایڈریس ‘‘(انٹرنیٹ پروٹوکول ایڈریس) منظرِ عام پر آگیا جو ظاہر کرتا ہے کہ مشتہر مواد کی میزبانی کس مقام سے کون کر رہا ہے؟ جواں سال بلاول کو ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ شعبدہ بازی کا وقت نہیں ہے۔برسبیلِ تذکرہ، اعتزاز احسن مسلم لیگ نون کو تو بہت مشورے دیتے ہیں کیا اس کارِ خیر کے مستحق بلاول نہیں ؟

بلاول نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو انکل الطاف کہہ کر مخاطب کیا اور کہا کہ اپنے نامعلوم افراد کو کنٹرول کریں اگر میرے کارکنوں کو خراش بھی آئی تو لندن پولیس کو چھوڑیں میں آپ کا جینا حرام کردوں گا۔ بلاول کے اس بیانئے میں سندھ کا پورا المیہ موجود ہے۔ ایک طرف اس بیانئے میں پیپلز پارٹی کا یہ مقدمہ موجود ہے کہ کراچی میں اس قسم کی سرگرمیوں کی ذمہ دار ایم کیو ایم ہوتی ہے، چنانچہ مخاطب بھی اُس کو ہی کیا گیا ہے۔ دوسری طرف وہ معاملہ صرف اپنے ہی کارکنوں کا اُٹھا رہے ہیں، جبکہ اگر یہ اُن کا یقین ہے تو پھر انہیں کراچی میں ہونے والی پوری قتل وغارت گری کا مسئلہ اُٹھانا چاہئے تھا۔ نامعلوم لوگوں سے قتل ہونے والے صرف پیپلز پارٹی کے کارکنان ہی نہیں ،ایم کیوایم سمیت پورے کراچی کے بے گناہ لوگ ہیں۔ بلاول کے اس یقین کے ساتھ ایک سوال بھی لازماً پید اہوتا ہے کہ اگر ایم کیو ایم ہی نامعلوم لوگوں کی سرپرست ہے تو پھر وہ اُن کو اپنااتحادی بنا کر سندھ حکومت میں کیوں شریک رکھے ہوئے ہیں؟ کیا سندھ حکومت کی اتحادی بنا کر ایم کیوایم کو باقی شہر میں قتل وغارت گری کی اجازت ہے صرف پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو چھیڑنے کی اجازت نہیں۔ مکر ر عرض ہے کہ شعبدہ بازی کا وقت نہیں رہا۔ اور بلوچ کہاوت یہ ہے کہ ’’شف شف نہیں صاف صاف شفتالو کہو‘‘۔اس باب میں خبر یہ ہے کہ رحمن ملک کو متحرک کر دیا گیا ہے اور وہ ’’الطاف بھائی‘‘ کو بالاخر سمجھا بجھا ہی لیں گے۔

دراصل بلاول کی اُچھل کود کا اصل سبب پیپلز پارٹی کی سندھ میں گرتی ہوئی ساکھ ہے۔ یہی مسئلہ کراچی میں ایم کیو ایم کو درپیش ہے اور اس نوع کی لڑائی دونوں ہی قوتوں کو سازگار ہے۔ ایم کیو ایم کراچی میں تحریکِ انصاف کی تیز رفتار پیش رفت سے پریشان ہے۔ جب کہ پیپلزپارٹی کامسئلہ یہ ہے کہ اس کی کارکردگی صفر ہے۔ اور بدعنوانی کا سرطان پیپلزپارٹی کے پورے جسم کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ پارٹی کو نئی جان ہی نہیں نیا جسم بھی درکا ر ہے، چنانچہ بلاول پارٹی عہدیداران کو مجبور کر رہے ہیں کہ وہ سندھ کے عوام کو یہ باور کرائیں کہ وہ ڈاکٹر فریال ٹالپور اور اویس ٹپی سے مختلف ہیں۔ چنانچہ وہ خود کو ماں اور نانا سے مربوط کرکے دراصل اُس’’ چھوی‘‘سے جان چھڑا رہے ہیں جو پچھلے سات سال میں ٹپی مارکہ سیاست سے پیپلز پارٹی کی بن گئی ہے،مگر یہ چھوی تحلیل ہو کر نہیں دے رہی۔پیپلز پارٹی اس مسئلے کو بھی اپنی روایتی شعبدہ بازی سے حل کر نے کے لئے کوشاں ہے۔ وہ ایک طرف بلاول کو ایک مختلف آدمی کے طور پر پیش کر رہی ہے، مگر دوسری طرف اُن کی سیاست کے عملی معیارات وہی پرانے ہیں۔ چنانچہ بلاول کے تازہ ترین خطاب کے ساتھ ہی سندھ میں ایک حالیہ پیش رفت کو بھی موضوعِ بحث بنا یا جارہا ہے۔ عیدالاضحی سے دو دن پیشتر سندھ کے وزیر ایکسائزکا قلمدان مکیش چاؤلہ سے لے کر گیان چند کو دے دیا گیا۔ اس منفعت بخش پیش رفت کے پیچھے پی آئی اے کے عبید جتوئی متحرک رہے۔ گزشتہ چند برسوں میں عبید جتوئی اور انور مجید کے نام ایک خاص تناظر میں اُبھرتے اور اُچھلتے رہے ہیں۔سوال یہ ہے کہ سندھ میں جاری اِن سرگرمیوں کے ساتھ جواں سال بلاول اپنی چھوی کو مختلف کیسے بنا پائیں گے۔ بدعنوانیاں پیپلز پارٹی کے وجود کا ناگزیر حصہ بن چکی ہیں۔جن سے نجات کے بغیر پیپلز پارٹی نئے پاکستان میں کوئی نیا قدم نہیں اُٹھا سکے گی۔بلاول اپنے نانا اور ماں کا ہی نہیں،جنابِ زرداری کا ورثہ بھی رکھتے ہیں۔ اور پیپلز پارٹی کی گرتی ہوئی ساکھ کو سنبھالنے کے لئے بلاول کا تازہ سیاسی معروضہ کام نہیں کرسکے گا۔

جواں سال بلاول نے میاں نواز شریف کو مخاطب بنا کر کہا کہ آپ نے جمہوریت کے لئے شیر تو کیا کبھی بلی کے بچے کی بھی قربانی نہیں دی۔بلاول اور پیپلز پارٹی کا بس یہی ایک ’’فلسفہ ‘‘ہے جسے پوری طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بلاول اور پیپلز پارٹی کا سیاسی’’ فلسفۂ قربانی ‘‘ایک مستقل موضوع ہے جس پر بحث پھر کبھی۔ ابھی تو بس اتنا ہی کہ یہ فلسفہ بھی ایک نری جذباتیت کی پیداوار ہے۔ اور نئی سیاست کے لئے جذبہ درکار ہے، جذباتیت نہیں۔ *

مزید : کالم