متوسط طبقہ اور سیا سی بحران

متوسط طبقہ اور سیا سی بحران
 متوسط طبقہ اور سیا سی بحران

  


وطن عزیز پا کستان میں اس سال اگست میں شروع ہونے والا سیا سی بحران کسی بھی طور تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ بظاہر انقلاب اور آزادی مارچ کے دھرنے اپنے مقاصد جن میں وزیراعظم نواز شریف کا استعفیٰ سب سے بڑا مقصد تھا کو حا صل کرنے میں نا کا م رہے۔تاہم اب بڑے بڑے شہروں میں تحر یک انصاف اور پا کستان عوامی تحر یک کے جلسوں کے آغا ز سے یہی دکھائی دیتا ہے کہ ابھی بھی سیاسی بحران مکمل طور پر ٹلا نہیں ہے۔ اگست کے ماہ سے ہی تما م نیوز چینل ا ور اخبا رات میں روزانہ کی بنیا د پر دھر نوں اور ان کے حکومت پر اثرات پر دن رات بحث و مبا حثوں کا سلسلہ جا ری ہے۔موجودہ سیاسی بحران نے میڈیا کو بھی واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔میڈیا کا ایک حصہ تمام عوامل اور حقا ئق کو نظر انداز کر کے ان دھرنوں اور ان میں پیش کئے جانے والے مطا لبا ت کی مکمل طور پر حما یت کر رہا ہے تو دوسری طرف میڈیا کا دوسرا حصہ کئی بنیا دی حقا ئق کو نظر انداز کرتے ہوئے ان دھرنوں اور ان میں پیش کئے جانے والے موقف کو سراسر غلط قرار دے رہاہے افسوس سے کہنا پڑ تا ہے کہ اس حوالے سے دونوں جا نب سے ہونے والے اکثر بحث و مبا حثوں میں چیزوں کا انتہا ئی سطحی طور پر ہی جا ئز ہ لیا جا رہا ہے۔۔میڈیا کا ایک چھوٹا حصہ ہی ایسا ہے کہ جو ان دھرنوں، ان کے اثرات، پس پردہ محرکا ت اور حکو متی موقف کو لیکرتوازن سے کا م لے رہا ہے۔ اس حوالے سے سب سے اہم اور بنیا دی سوال یہی ہے کہ اس نوعیت کے سیا سی بحران پیدا ہونے کی بنیادی وجہ کیا ہے؟اگر آج یہ بحران ٹل گیا تو کیا آئندہ اس نوعیت کے بحران کبھی پیدا نہیں ہوں گے؟

ما ہرین سیا سیا ت کی اکثر یت اس امر پر اتفا ق کرتی ہے کہ کسی بھی معا شرے کی سیا ست دراصل اس کے سما جی رویوں کے ہی تا بع ہو تی ہے۔ یہ سما جی رویے ہو تے ہیں جو کسی معا شرے میں سیاسی رویوں کو تشکیل دیتے ہیں ۔اور سما جی رویوں کی تشکیل میں معا شی نظام کی اہمیت مسلمہ ہوتی ہے۔اس اصول کو ما نتے ہوئے اگر ہم پا کستان کے سیاسی بحرانوں یا یہاں نا فذ کئے گئے مارشل لا ز کا جائز ہ لیں تو کئی بنیادی حقا ئق ہما رے سامنے آئیں گے۔ پا کستان کے وجود میں آنے کے ساتھ ہی متوسط طبقہ نہ ہو نے کے برابر تھا۔1947ء سے پہلے ایسے علا قے جو پا کستان کا حصہ بننے جا رہے تھے ان علاقوں خاص طور پر شہری علا قوں میں جو تھوڑا بہت متوسط طبقہ موجود تھا اس کی اکثریت ہندوؤں اور سکھوں پر مشتمل تھی۔ اور ہندووں اور سکھوں کی بہت بڑی اکثریت آزادی کے وقت بھارت جا بسی۔ جس سے پا کستان میں متوسط طبقہ نہ ہونے کے برابر رہ گیا۔دوسری طرف حکمران طبقے کی واضح اکثر یت کا تعلق جا گیر داروں یا ایسی دیہی اشرا فیہ سے تھا کہ جس کے لئے کسی بھی قسم کی معا شی یا سیا سی اصلاحات کرنا اس لئے ممکن نہیں تھا ، کیونکہ ایسی اصلا حا ت کی صورت میں سب سے پہلے اسی طبقے کے سیاسی اور معاشی مفا دات پر ضرب پڑتی جو اس جاگیر دارطبقے کے لئے کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں تھا۔

ضرور پڑھیں: سوچ کے رنگ

یہی وہ بنیا دی تضا د تھا کہ جس نے پاکستان کو صحیح معنوں میں ایک قومی جمہو ری ریا ست بننے سے بھی روکا، کیو نکہ دنیا بھر میں جہا ں کہیں پر بھی جدید قومی جمہوری ریاست کو تشکیل دیا گیا تو اس میں جا گیرداروں اور ان کے ہمنو ا رجعتی طبقات کی معا شی اور خا ص طور پر سیاسی قوت کا خاتمہ کیا گیا۔ مغرب کی مثال دینا تو خیر بہت آگے کی با ت ہے اگر ہم ایسے مشرقی معا شروں کی ہی مثالوں کو دیکھیں کہ جنہوں نے جدید قومی جمہوری ریاستوں کو تشکیل دیا تو ہمیں معلوم ہو گا کہ ایسے معاشروں میں جا گیرداری نظام کا خاتمہ کیا گیا۔ ہما رے پڑوس میں بھا رت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہو ری ریاست ما نا جا تا ہے۔ بھا رتی جمہو ریت میں کئی خرا بیا ں ہوں گی مگر یہ حقیقت ہے کہ بھا رت نے جا گیر داری نظام کا خاتمہ کیا۔ آج وہا ں کی سیا ست میں پا کستان کے مقابلے میں متوسط طبقہ بھی اہم کردار ادا کررہا ہے۔خود بھارت کے مو جودہ وزیر اعظم مودی بے شک کا رپو ریٹ سیکٹر کی معا شی امداد سے ہی بر سر اقتدار آئے ہوں،مگر وہ آج بھی اس با ت پر فخر کرتا ہے کہ وہ ایک معمولی چا ئے بیچنے والے کا بیٹا تھا ۔مگر جا گیر داری نظام ہو نے کے با عث پا کستان کے حکمران طبقات اپنی دولت کی زیا دہ سے زیادہ نما ئش کرکے عوام کو یہ جتلا تے ہیں کہ وہ ان سے زیادہ امیر کبیرہیں۔قومی جمہو ری ریا ست کے تقا ضے پورے نہ ہونے کے با عث ہی پا کستان پر چا ر مرتبہ مارشل لاء نا فذ ہوئے۔

اس پس منظر کو سامنے رکھتے ہو ئے اگر ہم آج کے سیاسی بحران کو دیکھیں تو کئی حقا ئق ہما رے سامنے آئیں گے۔گز شتہ دس بارہ سال سے پا کستان میں معاشی اور سما جی اعتبا ر سے متوسط طبقے کی تعدادمیں خاطر خواہ اضا فہ ہوا ہے۔ایک انتہا ئی محتا ط جا ئز ے کے مطابق آج پا کستان میں کل آبا دی کا 35فیصد حصہ بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر متوسط طبقے کے دا ئر ے میں آتا ہے۔ آبادی کے تنا سب کے اعتبا ر سے یہ حصہ اگر بھارت کے متوسط طبقے سے زیا دہ نہیں تو کسی بھی طور اس سے کم بھی نہیں ہے۔مگر معا شی طور پر متوسط طبقے کا حجم بڑھنے کے با وجود سیاست میں اس کا حصہ کتناہے؟اس سوال کا جواب ہمیں ایک تا زہ تحقیق سے مل جائے گا۔اس تحقیق کے مطا بق پا کستان میں تقریبا 27ملین خاندان بستے ہیں مگر ان27ملین خاندانوں میں سے صرف 2700خاندان ہی ایسے ہیں جو گز شتہ دس انتخابات سے مسلسل ایک دوسرے سے انتخا بات میں مقابلہ کر تے ہیں اور پھر انہی امیر کبیر خا ندانوں کی بھر پور اکثریت قومی اسمبلی ، سینٹ اور صوبا ئی اسمبلیو ں کی 1174نشستوں پر براجمان ہو تی ہے۔ایسی اور اس نوعیت کی کئی اور تحقیقا ت یہ ثا بت کر تی ہیں کہ پا کستان میں متوسط طبقہ معا شی طور پر حجم میں بڑ ھنے کے باوجود سیاسی طور پر قابل ذکر کردار ادا نہیں کر پا رہا ۔دنیا بھر میں معا شی طبقا ت کی سوچ ، سیا سی رویے اور اخلا قیا ت بھی مخصوص ہوتی ہیں۔اسی طرح متوسط طبقے کی سوچ کے بھی اپنے مخصوص زاویے ہو تے ہیں ۔

اس سوچ میں خاندانی یا ورا ثتی سیاست، سیا سی اقتدار کو صرف اپنے خاندان کے معا شی مفا دات کیلئے استعما ل کرنا، کرپشن اور میرٹ کی پا ما لی ، اقربا پر وری کی با بت رواداری کی گنجا ئش کم ہو تی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پا کستان میں ایسی سیاسی جما عتو ں کو متوسط طبقا ت میں دیگر جما عتوں کے مقا بلے میں زیا دہ پذ یرا ئی مل رہی ہے کہ جو ورا ثتی سیاست، اقر با پروری، کر پشن ، اور لوٹ مار کے خلاف نعرہ زن ہیں تا ہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ خود ان جماعتوں میں بھی متوسط طبقے کی نہیں بلکہ پرانے سیاست دانوں کی ہی ایسی لیڈر شپ موجود ہے کہ جو اسٹیٹس کو کی مکمل طور پر حا می ہے۔اس کے با وجود متوسط طبقہ اپنے طبقے کی حقیقی نما ئندہ سیا سی جما عت مو جود نہ ہو نے کے باوجود ایسی جما عتوں کو ہی اپنی حما یت فرا ہم کر رہا ہے کہ جو کم از کم نعروں کی حد تک ہی متوسط طبقہ کے لئے کشش کا با عث ہیں۔یہی وہ بنیا دی سیا سی حقیقت ہے کہ جس کو پاکستان کے حکمران طبقا ت جس قدر جلد تسلیم کر لیں اِسی قدر ان کیلئے بہتر ہو گا۔ دنیا کے تما م سما جوں کی تا ریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی سما ج میں کو ئی طبقہ معا شی قوت حا صل کرتا ہے تو اس طبقہ میں ایک فطری خواہش پیدا ہو تی ہے کہ اب وہ سیا ست میں بھی اپنا کردار ادا کرے۔اگر کسی ایسے طبقے کو جس کے معا شی حجم میں اضا فہ ہو چکا ہو، مگر اسٹیٹس کو کی سیا ست کے با عث اس طبقہ کوسیا ست میں اپنا کردار ادا نہ کرنے دیا جا ئے تو پھر ایسے میں نت نئے اور سنگین بحرانوں سے بچنا نا ممکن ہوجا تا ہے۔ *

مزید : کالم