سیاسی اخلاق اور ماضی کی عید!

سیاسی اخلاق اور ماضی کی عید!
سیاسی اخلاق اور ماضی کی عید!

  

میڈیاکی مجبوری ہے کہ کسی بھی تہوار یا واقع کی خبریں دے اور فالواپ بھی مہیا کرے کہ قاری اور ناظر منتظر رہتے ہیں، ہم پرانے لوگ ہیں۔ماضی سب کو اچھا لگتا ہے اس لئے روایات پر عمل کرتے ہیں تو یاد بھی کرتے ہیں، ایک دور تھا جب الیکٹرونک میڈیا کے نام سے صرف ریڈیوپاکستان ہوتا تھا، بعدازاں پاکستان ٹیلی ویژن کا اضافہ ہوا اور اب ماشاءاللہ چینل ہی چینل ہیں۔ماضی میں حالات ایسے تھے کہ ایڈیٹر صاحبان ایک ایک سطر پر نظر رکھتے اور سینئر حضرات اپنے سے جونیئر کی رپورٹوں پر نظر ڈالنے سے انکار نہیں کرتے تھے۔اس طرح نہ صرف زبان و بیان کی تصحیح ہو جاتی بلکہ نامناسب الفاظ بھی نکال دیئے جاتے۔صورت حال یہ تھی آبرو سے متعلق خبر میں متاثرہ کا نام اور شناخت چھپا لی جاتی اور مختصر ترین خبر دی جاتی تھی اور پھر یہ بھی ہوتا کہ اگر کسی مقرر یا لیڈر نے کسی کے بارے میں غیر مہذب بات کہہ دی تو اسے رپورٹ نہیں کیا جاتا تھا۔ہمیں یاد ہے کہ اس دور میں سابق صدر ایوب خان کے خلاف تحریک کے دوران بہت کچھ کہا جاتا تھا، لیکن رپورٹنگ دائرہ اخلاق کے اندر ہوتی تھی۔آج کے دور میں تو الیکٹرونک میڈیابراہ راست کوریج کرتا ہے اس طرح مقرر جو بھی کہہ رہا ہو وہ جوں کا توں نشر ہوتا ہے اور یوں کسی کے خلاف کہے گئے غیر اخلاقی الفاظ بھی جوں کے توں نشر ہوتے اور سنے جاتے ہیں۔

ہمیں یاد ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے ایک دوبار فقرے بازی کی جو بہت مشہور ہوئی تھی ایک تو ان کا جواب ”ہو اِز شی“ تھا جبکہ ایک مرتبہ انہوں نے کہا ”آگے خان پیچھے خان، ڈبل بیرل خان“ یہ خان عبدالقیوم کے بارے میں تھا جن کا نام خان عبدالقیوم خان لکھا جاتا تھا، بھٹو کے اس مزاح کو بھی سنجیدہ حلقوں نے پسند نہیں کیا تھا۔بعد میں وہ محتاط ہو گئے تھے۔نوابزادہ نصراللہ خان کے حوالے سے ہم بتا چکے ہوئے ہیں کہ وہ شدید ترین مخالف ہوتے ہوئے بھی مخاطب کے لئے آداب کا دھیان رکھتے تھے۔ جمعیت علماءپاکستان کے صدر مولانا شاہ احمد نورانی بھی بہت خیال رکھتے تھے۔وہ طنز بھی لطیف اور مہذب پیرائے میں کرتے۔ایک مرتبہ جنرل ضیاءالحق نے مولانا شاہ احمد نورانی کے پان کھانے پر تبصرہ کیا، کہا وہ پان بہت کھاتے ہیں۔مولانا سے سوال ہوا تو وہ ہنسے اور جواب دیا ”وہ بھی تو ”ڈُن ہِل“ کے سگریٹ پیتے ہیں“۔ جنرل ضیاءالحق نے بعد میں سگریٹ چھوڑ دیئے تھے۔

یہ سب یوں یاد آ رہا ہے کہ جمعرات کو ملتان میں ایک افسوسناک واقعہ ہوا، مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے کارکنوں کے درمیان نعرہ بازی ہو گئی، وجہ فرزند راولپنڈی شیخ رشید تھے۔ وہ ہوٹل میں میڈیا سے بات کرنا چاہتے تھے، احتجاج کی وجہ سے نہ کر سکے اور تحریک انصاف کے کارکنوں کے تعاون سے پریس کلب میں بات کی۔ اس بار وہ بہت متوازن تھے اور انہوں نے نہ صرف فقرے بازی سے گریز کیا، بلکہ مریم نواز کو بار بار بیٹی کہا اور ساتھ ہی یہ بھی یاد دلایا کہ انہوں نے تو حمزہ شہباز کے بارے میں بھی کبھی کچھ نہیں کہا کہ یہ بچے ہیں، اسی لئے بیٹی مریم نواز کے ٹوئٹ سے دکھ پہنچا اس کے بعد انہوں نے میاں محمد نوازشریف اور میاں محمد شہباز شریف کو آڑے ہاتھوں لیا، ہمیں اس سے غرض نہیں کہ وہ جو زبان استعمال کرتے چلے آ رہے ہیں اس کے بدلے ان کو کچھ جواب بھی مل چکے ہیں، ہمیں افسوس یہ ہے کہ وہ بات کو گھما پھرا کر مارشل لاءکی طرف لے جاتے ہیں اور کبھی فوج کو دعوت دیتے ہیں، پھر اپنے کہے کی وضاحت کرنے لگتے ہیں۔آج پاک فوج جن محاذوں پر سرگرم ہے اسے عوامی حمائت کی ضرورت ہے، ایسی حمائت اور تائید جو 1965ءمیں ملی لیکن ایسا نہیں ہو پا رہا اور شیخ رشید مارشل لاءکی بات کرتے چلے جاتے ہیں۔وہ کیسے جمہوریت والے ہیں کہ فوج کو بلاوجہ ملوث کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ماضی میں بھی فوجی مداخلت کے حوالے سے الزام سیاست دانوں پر ہی ہے اور آج بھی ایسی حرکتیں ہوں گی تو الزام کسے؟

سیاست اور سیاسی مخالفت میں اخلاق اور تہذیب کا دامن تھامے رہنا چاہیے لیکن یہاں کوئی بھی اس پر عمل نہیں کرتا۔آج الیکٹرانک میڈیا کا دور ہے اور ہر چیز، ہر بات ریکارڈ ہو جاتی اور محفوظ ہوتی ہے۔پرنٹ میڈیا بھی ریکارڈ رکھتا ہے۔اس لئے کسی کو غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ یہاں تو اوئے کہنے والوں نے اللہ کو بھی اوئے کہہ دیا تھا، تہذیب سے ہٹ کر بات مناسب نہیں، ہم کسی کا بھی ذکر نہیں کرتے لیکن ملتان کے واقعہ سے خائف ضرور ہیں کہ یہ بات لکھتے چلے آ رہے ہیں کہ ایسا کرنے کی کوشش ہوگی کہ خانہ جنگی کی کیفیت ہو، فائدہ کس کو ہوگا۔اندازہ لگا لیں!بات کچھ اور کرنا تھی لیکن ملتان نے قلم اس طرف گھما دیا۔پھر ماضی میں چلتے ہیں کہ آبادی کم تھی۔انتظام بھی بہتر ہوتے تھے۔آج بھی بچے بکرے منگوا کر ان کو گھما پھرا کر بہت خوش ہوتے ہیں۔ہمارے بچپن میں تو گھر والے سارا سال خود پرورش کرتے اور ہم روزانہ بکرے کو سیر کرانے بھی لے جاتے تھے۔عرض کیا کہ آبادی کم تھی، صفائی کا انتظام بہتر تھا اور خود لوگ بھی بہت دھیان رکھتے تھے۔اس لئے یہ سب آسان اور بہت اچھا لگتا تھا، لیکن آج کے دور میں آبادی بہت زیادہ اور انتظامی کمزوریاں اپنی جگہ ہیں اس لئے وہ شوق پورے نہیں ہو سکتے۔

عید قربان دینی تہوار اور قربانی سنت ابراہیمی ہے علماءکرام کے مطابق قربانی واجب ہے تاہم اس واجب کو برصغیر میں روائت کے طور پر فرض بنا لیا گیا ہے اور ہر سال اسی انداز سے قربانی ہوتی ہے۔ہر گھرانہ یہی کوشش کرتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح قربانی دے، ہمارے بچپن میں جہاں بکرے اور چھترے پرورش کرکے قربان کئے جاتے تھے۔وہاں گائے کی قربانی خال خال اور دیہات میں ہوتی تھی۔اس دور میں سات حصوں والا سلسلہ عام نہیں تھا اس لئے کبھی یہ مسئلہ سنابھی نہیں، لیکن اب تو تمام دینی مدارس باقاعدہ اہتمام کرتے ہیں، اس سال بھی اشتہارات اور بینرز کے ذریعے گائے کی قربانی کا سات حصوں والا اہتمام کیا گیا اور زیادہ تر دینی مدارس نے کیا، گوشت حصہ والوں کا اور کھال مدرسے والوں کی ہوئی، بہرحال پرانے زمانے میں قربانی کی اخلاقیات ہوتی تھیں، محلوں میں ہمسائے مل جل کر کرتے اور پھر صفائی کا بہت زیادہ خیال رکھا جاتا تھا لیکن آج کل اس سلسلے میں اخلاقیات کا جنازہ نکل چکا، لوگوں نے اپنے گھروں میں قربانی کی اور خون سمیت غلاظت گلی محلے میں پھیلا دی، اگر کسی سے درخواست کی گئی کہ وہ صفائی کا خیال رکھے تو یہاں جواب ”اچھا“ اور ”ہوں“ کہہ کر اس انداز میں دیا گیا جاﺅ بابا، اپنا کام کرو، ہم تو یہی کریں گے اور ایسا ہی کیا گیا۔

اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ ڈیفنس ہاﺅسنگ اتھارٹی اور کراچی کے ٹاﺅنوں کی طرح قربان گاہیں اور کانجی ہاﺅس کیوں نہیں بنا سکتی، جہاں جانور رکھے اور ذبح کئے جائیں، اگر ایسے کانجی ہاﺅس بن جائیں تو قربانی کے جانوروں کی صحت جانچنے کے لئے ویٹرنری ڈاکٹر بھی متعین کئے جاسکتے ہیں، اس دینی تہوار پر بھی اخلاق کا معیار گرا ہوا تھا، عید گاہوں میں عید مبارک بھی واجبی کہی گئی کہ ہر کوئی قربانی کے لئے بھاگ رہا تھا۔اس پہلو پر بھی غور کی ضرورت ہے۔ ٭

مزید : کالم