وزیراعظم کا دورہ میرانشاہ

وزیراعظم کا دورہ میرانشاہ


وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے آپریشن ضرب عضب میں حصہ لینے والے پاک فوج کے جوانوں کا حوصلہ بڑھانے اور صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے بدھ کو میرانشاہ کا دورہ کیا۔ گزشتہ چالیس سال کے دوران اس علاقے کا دورہ کرنے والے پہلے وزیراعظم ہونے کے ناطے ان کو امتیازی حیثیت بھی حاصل ہو گئی ہے۔ نواز شریف میران شاہ پہنچے توآرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ان کا استقبال کیا۔ وزیراعظم نواز شریف نے اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے جنگ کے سخت ہونے کا اعتراف کیا، ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج ایک مشکل جنگ لڑ رہی ہے جس میں دشمن چھپ کر وار کرتا ہے، لیکن اس سب کے باوجود پاک فوج یہ جنگ جیت رہی ہے جس سے ملک میں ہمیشہ کے لئے امن ہو گا۔ انہوں نے افسروں اور جوانوں کو داد دیتے ہوئے کہا کہ جس بہادری کے ساتھ فوج جنگ لڑ رہی ہے ،وہ قابل تحسین ہے۔

انہوں نے آ پریشن میں کامیابی پر اپنی اور پوری قوم کی طرف سے افسروں اور جوانوں کو مبارکباد پیش کی ،دعابھی کی کہ جنگ میں جتنے بھی جوان اور افسران شہید ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو جوار رحمت میں جگہ دے اور ان کے لواحقین کو صبر جمل عطا کرے۔ انہوں نے شہداء کو قوم کا ہیرو قرار دیا۔ وزیراعظم نے جنرل راحیل شریف کو بھی مبارکباد دی کہ ان کی قیادت میں پاکستان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی جنگ کامیابی سے لڑ ی جارہی ہے۔ دورے کے دوران وزیراعظم کو دہشت گردوں سے برآمد ہونے والا اسلحہ اور گولہ بارود بھی دکھایا گیاجس میں بڑی تعداد میں جدیدخود کاراسلحہ اور بھارتی ہتھیار شامل تھے۔ وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاک فوج نے آپر یشن کے آغاز پر ہی میرانشاہ کو دہشت گردوں سے کلیئر کرا لیا تھاجبکہ اب تک میر علی، بویا،دیگان اور دتہ خیل سمیت 90 فیصد علاقے کلیئر کرالیے گئے ہیں۔ اس جنگ کے دشوار ہونے پر کوئی اختلاف نہیں کیا جا سکتا، یہ گوریلا جنگ ہے، دشمن چھپ کر وار کررہا ہے اور اس کی کارروائیاں کسی ایک علاقے تک محدود نہیں ہیں، ایسے میں دشمن کا مقابلہ کرنا کافی مشکل ہو جاتا ہے لیکن پھر بھی پاک فوج پورے حوصلے اور شجاعت کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے نبرد آزما ہے ۔ پاک فوج کو جتنی بھی داد دی جائے وہ کم ہے، ملک میں سکھ اور امن کے لئے ہماری فوج کے جوان جس طرح اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر مقابلہ کر رہے ہیں، قوم شاید اس کا حق کبھی ادا نہ کر سکے۔

وزیراعظم کے دورے سے جہاں پاک فوج کے جوانوں کے حوصلے بلند ہوئے وہیں فوج اور حکومت کے درمیان اختلافات کی خبریں پھیلانے والے عناصرکو منہ کی کھانا پڑی۔فوج اور حکومت کے درمیان اختلافات کی افواہیں بھی دم توڑتی نظر آرہی ہیں، اس دورے سے تو بڑا واضح پیغام مل رہا ہے کہ فوج اور حکومت کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں، دونوں حریف نہیں بلکہ ملک میں امن و سلامتی کے لئے متحد ہیں۔ اہل سیاست کو بھی اب ایسی باتیں کرنے سے گریز کرنا چاہئے،موجودہ صورت حال میں بدگمانی سے بھرپور گفتگو انہیں زیب نہیں دیتی۔

آپریشن ضرب عضب تو جاری ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ حکومت اور فوج کو آئی ڈی پیز کی داد رسی بھی کرنی چاہئے، ان کے مطالبات پربھی غور کرنا چاہئے، جو علاقے کلیئر ہو چکے ہیں اگر وہاں آئی ڈی پیزمعمولات زندگی شروع کر سکتے ہیں توان لوگوں کو اپنے علاقوں میں واپس پہنچانے اور ان کی بحالی کے لئے انتظامات کرنے چاہیں لیکن اگر ابھی بھی ان کااپنے علاقوں کو لوٹناممکن نہیں ہے تو ان آئی ڈی پیز کو اعتماد میں لینا چاہئے، ساری صورت حال سے تفصیلاً آگاہ کریں تاکہ کوئی ابہام اور بد اعتمادی کی فضا پیدا نہ ہو ۔ اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ آئی ڈی پیز کی بحالی ایک بہت بڑا مر حلہ ہے، ان کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور دوبارہ سے پورا انفراسٹرکچر کھڑا کرنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے لیکن اس کو وجہ تنازعہ بنانا مناسب معلوم نہیں ہوتا، اس بات کا احساس جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق کو بھی کرنا چاہئے۔ انہوں نے آئی ڈی پیز کے مسائل کو بنیاد بنا کر حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر تیس دن کے اندر اندر آئی ڈی پیز کے مطالبات نہ مانے گئے تو وہ لاکھوں قبائل کو لے کر اسلام آباد میں دھرنا دیں گے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کے دھرنے سے حکمران دیگر دھرنوں کو بھول جائیں گے۔ ابھی تو قوم کو پہلے ہی دھرنوں سے آزادی مل کر نہیں دے رہی اور اب ایک اور دھرنے کی دھمکی دے دی گئی ہے۔

ہم سب اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان میں بسنے والے ہر بچے کا تعلیم اور صحت پر جبکہ ہر شہری کا بنیادی سہولتوں پر ایک جتنا ہی حق ہے اور ان سے ان کا یہ حق کوئی نہیں چھین سکتا۔یہ ملک اس میں بسنے والے اٹھارہ کروڑ لوگوں کا ہے ، اس پر چند لوگوں کی اجارہ داری نہیں ہو سکتی۔ حکومت کو آئی ڈی پیز کے لئے خواراک ، صحت اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کویقینی بنانا چاہئے اور اگر اس معاملے میں کوئی کوتاہی ہوئی ہے تو اس کی نشاندہی کرنی چاہئے، لیکن اس کے لئے دھرنے دینے کی نہیں بلکہ زمینی حقائق کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ گھر چھوڑنے والوں کو گھر لوٹنے کی بہت چاہ ہے،ان کی مشکلات کا اندازہ ہم گھر بیٹھے لوگ نہیں لگا سکتے، یہ بھی حقیقت ہے کہ انہوں نے اب تک جس صبر و ہمت کا مظاہرہ کیا ہے،وہ بے مثال ہے لیکن جلد بازی اور بے چینی سے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔اب جب آپریشن ضرب عضب آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے، ایسے میں ’بدگمانی‘ کا بیج بونا مناسب نہیں لگتا۔ دھرنوں کی سیاست کی جو وبا اس ملک میں پھیل رہی ہے اس کو ہوا دینے کی بجائے اس کی ’ہوا‘ بند کرنے پر غورو فکر کرنا چاہئے۔ دھرنوں سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، معاملات مزید الجھ تو سکتے ہیں لیکن سلجھائے نہیں جا سکتے۔ تمام سیاسی و غیر سیاسی جماعتیں ، سیاست کرنے کی بجائے ، ان لوگوں کی بحالی کے لئے فوج کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلیں گی تو منزل مقصود تک پہنچنا بہت آسان ہو جائے گا۔ اس لئے بہت ضروری ہے اپنے اپنے فرائض کونہ صرف پہچانیں بلکہ ادا بھی کریں کیونکہ برکت ہمیشہ اتفاق میں ہی ہوتی ہے۔

مزید : اداریہ