پردیسیوں کی پریشانی اور ریل کا نظام!

پردیسیوں کی پریشانی اور ریل کا نظام!

جب بھی ملک میں کسی قومی یا دینی تہوار پر دو تین یا اس سے زیادہ چھٹیاں آئیں، یہ خبریں شروع ہو جاتی ہیں۔ پردیسیوں کی روانگی اور پردیسیوں کی واپسی اور ساتھ ہی ان مسائل کا ذکر ہوتا ہے جن سے یہ حضرات گزرتے ہیں، خصوصی طور پر آمدو رفت کے لئے ٹرانسپورٹ کا مسئلہ ہوتا ہے۔ بسوں والے کرائے بڑھا لیتے ہیں اور ریل گاڑیوں کا نظام خراب ہو چکا ہوا ہے ریلوے کی بُری کارکردگی کے باعث متعدد مسافر گاڑیاں تو بند ہو چکی ہوئی ہیں۔ یہ سستا اور بہتر سفر ہے کہ بس کی نسبت مسافر ریل گاڑی زیادہ سواریاں لے کر جاتی ہے۔ ان گاڑیوں کی ہی وجہ ہے کہ مسافر خطرہ مول لے کر ٹرین کی چھت پر سفر کرتے ہیں۔

اس مرتبہ بھی یہی مسئلہ درپیش تھا۔ عیدالاضحی منانے اور مَنا کر واپس آنے کے لئے جانے والوں کو انہی مشکلات کا سامنا تھا۔ ٹرانسپورٹر حسب روایت لوٹ رہے تھے۔ مسافر زیادہ ٹرانسپورٹ کم ہونے کے باعث عوام کو پریشانی اٹھانا پڑی۔اس سال ریلوے نے بہرحال زیادہ خصوصی ٹرینوں کے چلانے کا اہتمام کیا اور کرایوں میں بھی عید کے لئے30فیصد مزید کمی کر دی۔ یوں لوگوں کو سہولت تو ضرور ملی، لیکن یہ بھی ضرورت سے کم تھی، اس سے زیادہ ٹرینوں کی ضرورت ہے اور پہلا مسئلہ پہلے سے معمول کے مطابق چلنے والی ٹرینوں کی بحالی اور ان کے اوقات کار درست کرنا ہے اور اس کے لئے وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کوشاں ہیں، چین سے نئے انجن درآمد ہونے کے بعد آہستہ آہستہ ٹرینوں کی تاخیر میں کمی ہوئی ہے تو سابقہ ٹرینیں بحال کرنے کا سلسلہ بھی شروع کیا جا رہا ہے، جو خوش آئند ہے۔ خبر یہ ہے کہ لاہور سے ملتان والی موسیٰ پاک ایکسپریس15اکتوبر کی شب سے بحال ہو جائے گی اس کے بعد کراچی سے میرپور تک چلنے والی مہران ایکسپریس بحال کر دی جائے گی۔

وزیر ریلوے کی ان کاوشوں کو سراہنے اور ان کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے، تاکہ ریلوے خسارے سے نکل کر منافع بخش ادارہ بن سکے اور عوام اس سستی سواری کی سہولت سے مستفید ہوں، لیکن اس کے لئے خواجہ سعد رفیق کو بہت زیادہ چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔ انجن تو ملے اور مزید مل جائیں گے، اس کے بعد بوگیوں کی ضرورت ہو گی، جو ریلوے کیرج شاپ میں بھی تیار ہو سکتی ہیں، اِسی طرح انجنوں اور بوگیوں کی مرمت کا کام بھی ریلوے ہی کی ورکشاپوں اور انجن شیڈ میں ممکن ہے، اس کے لئے ریلوے ہی کے ملازمین کو ’’رائٹ مین فار رائٹ جاب‘‘ کے فارمولے کے تحت استعمال کرنا ہو گا۔ یہ کہا گیا ہے کہ مال بردار گاڑیوں کی تعداد اور ان کے اوقات درست اور کم کرنے کی بھی کوشش ہو گی۔ یہ سب ناممکن نہیں، حوصلے، جذبے اور محنت کے ساتھ ساتھ اہل لوگوں کی ضرورت ہے۔ وزیر ریلوے کو منصوبوں میں رکاوٹ ڈالنے والوں سے بھی بچنا ہو گا۔ریلوے ٹریک کو کراچی سے راولپنڈی اور پھر پشاور تک ڈبل کرنا بہت ضروری ہے،اس کے لئے وزیر موصوف کو اربوں روپے کا منصوبہ بنا کر دے دیا گیا، اتنے کثیر سرمائے اور بہت بڑے منصوبے پر کام شروع کرنے میں بہت وقت لگ سکتا ہے۔ اگر یہی کام چھوٹے چھوٹے منصوبے بنا کر تین چار مراحل میں کر لیا جائے تو ممکن ہو گا۔ پہلے مرحلے میں یہ کام لاہور سے کراچی تک جہاں ضرورت ہے وہاں دہری پٹڑی بچھا کر کیا جا سکتا ہے، اس کے بعد اسے لاہور سے پشاور کی طرف بھی مراحل میں پورا کیا جا سکتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یقین کرنا چاہئے کہ سعد رفیق توقعات پر پورا اتریں گے۔ *

مزید : اداریہ