ینگ ڈاکٹرز نے ماہانہ ٹیکس کی کٹوتی مسترد کر دی

ینگ ڈاکٹرز نے ماہانہ ٹیکس کی کٹوتی مسترد کر دی

                                              لاہور(جاوید اقبال)ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے زیر تربیت ڈاکٹروں کے ماہانہ وظائف سے انکم ٹیکس کی ماہانہ کٹوتی کو مسترد کر دیا ہے اور چیئر مین ایف بی آر اور اکاﺅنٹنٹ جنرل پنجاب کو دو ہفتے کا الٹی میٹم دے دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دو ہفتوں کے اندر زیر تربیت ڈاکٹروں کے ماہانہ وظیفوں سے 16سو سے 3ہزار تک کتوٹی کا سلسلہ بند کیا گیا تو ڈاکٹرز ایف بی آر اورایف بی پنجاب کے خلاف سڑکوں پر آکر دمادم مست قلندر کیا جائے گا۔بتایا گیا ہے کہ ایف بی آر نے ہسپتالوں میں پوسٹ گریجویٹ میں زیر تربیت ڈاکٹروں کی ماہوار تنخواہوں میں سے انکم ٹیکس کے نام پر کٹوٹی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس سے قبل محکمہ انکم ٹیکس نے زیر تربیت ڈاکٹروں کو ملازم اور مالک کا درجہ دیا جس کے باعث مختلف ہسپتالوں میں پی جی ڈاکٹروں کو ماہانہ ملنے والے وطاےف سے کتوٹی شروع کر دی ہیں ہسپتالوں میں پی جی ڈاکٹروں کی تنخواہوں سے 16سو اور بعض کی تنخواہوں سے 3ہزار تک ماہانہ بنیادوں پر انکم ٹیکس کا ٹا جا رہا ہے جس کے خلاف ینگ ڈاکٹروں کی تنظیم وائی ڈی اے میدان میں آگئی ہے جس نے اس کو ظالمانہ اقدام قرار دے دیا ہے اس سلسلے میں ینگ داکٹرز ایسوسی ایشن پاکستان کے سیکر ٹری جنرل ڈاکٹر سلیمان کا ظمی اور چلڈرن ہسپتال کے صدر ڈاکٹر سعود نے الگ الگ چیئر مین ایف بی آر کو خطوط لکھے ہیں جن پر انہیں پی جی ڈاکٹروں کے ماہانہ وظائف سے ماہانہ کٹوتی کو فی الفور واپس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر دو ہفتے کے اندر پی جی ڈاکٹروں کی ماہانہ تنخواہوں سے کٹوتی کا فیصلہ واپس نہ لیا گیاتو ڈاکٹرواس ظالمانہ فیصلے کے خلاف سڑکوں پر آ جائیں گے اس حوالے سے ڈاکٹر سلیمان کا ظمی کا کہنا ہے کہ پی جی ڈاکٹروں کو ماہانہ وظائف زیر تربیت ڈاکٹروں کے جیب خرچ کے لیے دیا جاتا ہے اس پر انکم ٹیکس لاگو کرنا ظلم ہے چیئر مین ایف بی آر فیصلہ واپس لیں ورنہ احتجاجی تحریکچلانے پر مجبور ہو جائیں گے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1