یاسین گارڈن ہاﺅسنگ سکیم میں بجلی ،گیس نہ سیوریج ,مکین سراپا احتجاج

یاسین گارڈن ہاﺅسنگ سکیم میں بجلی ،گیس نہ سیوریج ,مکین سراپا احتجاج

                                                                                   (لاہور (اپنے نمائندے سے)سرسبزو شاداب اور بہترین لوکیشن کے دعوے کرتے ہوئے شاہدرہ کے علاقہ میں 96کنال اراضی پریٰسین گارڈن کے نام پر رہائشی ہاﺅسنگ سکیم بنانے والے مالک اراضی جعلساز نکلے،سوئی گیس،بجلی،پانی سیوریج ،سیکیورٹی گیٹ اور دیگر بنیادی سہولتوں سے عاری سوسائٹی مسائلستان کا منظر پیش کرنے لگی، ایڈمنسٹریٹر راوی ٹاﺅ ن ،ضلعی انتظامیہ اورلاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی دھوکہ دہی سے شہریوں کو اپنے جال میں پھنسانے والے ڈویلپرز کے خلاف تاحال کارروائی نہ کر سکے ،ٹاﺅن انتظامیہ ،ضلعی حکومت اور ایل ڈی اے کے قوانین بھی بااثر مالک اراضی کے سامنے نہ ٹھہر سکے،شہریوں کی کثیر تعداد مالک اراضی اور ملحقہ سرکاری اداروں کی بے حسی کے خلاف سراپاءاحتجاج بن گئی ،روزنامہ پاکستان کی جانب سے کئے جانے والے سروے کے دوران معلوم ہوا ہے کہ شاہدرہ کی حدود میں 2006میں شاد باغ کے رہائشی میاں مرسل اور میاں اظہر سمیت دیگر بہن بھائیوں نے 96کنال اراضی پر یٰسین ڈویلپر کا آفس قائم کرتے ہوئے یٰسین گارڈن کے نام کی ہاﺅسنگ سکیم بنائی اور اس ہاﺅسنگ سکیم کو ڈویلپ کرنے کےلئے ایک ایسوسی ایٹس کی معاونت حاصل کی،جبکہ شہریوں کی کثیر تعداد کو اشتہارات ،پمفلٹ بازی کے ذریعے گمراہ کرتے ہوئے سر سبز وشاداب ہاﺅسنگ سکیم تعمیر کرنے کا جھانسہ دیتے ہوئے شہریوں سے ایڈوانس میں لاکھوں روپے اکٹھے کر لئے 10مرلہ،6مرلہ،5مرلہ اور 3مرلہ کے خوبصورت رہائشی پلاٹس فی مرلہ 85ہزار روپے ریٹ مقرر کیا ،جبکہ کمرشل اراضی کا فی مرلہ 1 لاکھ 50ہزار روپے ریٹ مختص کیا گیا,یٰسین ڈویلپرکی جانب سے دیئے گئے پمفلٹ میں واضع کیا گیا کہ وہ سوسائٹی کے رہائشیوں کو سیکیورٹی گیٹ ،سیکیورٹی گارڈ ،بجلی ،پانی ،سیوریج ،ٹیلی فون ،تفریحی پارک ، سوئی گیس ،سکول ، مرکزی جامعہ مسجد ، قبرستان،جنازگاہ،20فٹ سے15فٹ کے کارپٹڈ روڈ اور انجینئر ز کے ذریعے گھر بنوا کر دینے کی سہولت کے علاوہ فوری قبضہ اور فوری رجسٹری انتقال کروا کر دینے کا وعدہ کیا ،مگر ان تمام سہولتوں میں کسی ایک پر بھی پورا نہ اتر سکے ،مقامی شہریوں کی کثیر تعداد نے جب پلاٹ لینے کے بعد اپنے گھر تعمیر کروا لئے تو معلوم ہوا کہ یٰسین گارڈن ہاﺅسنگ سکیم کے مالک اراضی شہریوں کو جو بجلی فراہم کر رہے تھے اور اس بجلی کی سپلائی کے عوض جو خطیر رقوم شہریوںسے وصول کر تے رہے وہ بھی چوری کی سپلائی جاری تھی اور وہ رقم ان کے ذاتی اکاﺅنٹ میں ڈالی جارہی تھی یہ سلسلہ کئی ماہ سے جاری تھا جس کے بعد واپڈا حکام نے اطلاع ملنے پر ڈویلپر میاں مرسل اور اس کی فیملیز کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر کا اندراج کروایا اور بجلی چوری کا ریفرنس نیب کو بھی بھجوا دیا جس کی تحقیقات جاری ہے یٰسین گارڈن کے رہائشی تصدق حسین ،تصور حسین،خورشید انور بٹ اور میاں محمد سعید نے آگاہی دی کہ بجلی پانی اور سوئی گیس سمیت تمام بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا گیا ہے جس سے سینکڑوں شہری اپنے پختہ تعمیر کردہ گھر چھوڑ کر جاچکے ہیں گٹروں کے ڈھکن تک تعمیر نہ کرنے کے باعث درجنوں بچے اورخواتین ان میں گر کر بری طرح زخمی ہو چکے ہیں ،بارش کے پانی کا نکاس نہ ہونے کے باعث ڈینگی کے لاروے کی کثیر تعداد یٰسین گارڈن سکیم میں موجود ہے یہاں ڈینگی کی وجہ سے 4افراد گزشتہ دنوں وفات پا چکے ہیں ،جس سیاسی شخصیت اور سرکاری اداروں کے افسران نے وزٹ کر نا ہے تو ہماری سوسائٹی میں آکر دیکھ لیں سوسائٹی میدان کربلا کا منظر پیش کرتی ہے ،رہائشی جاوید بٹ ،بابا فقیر محمد ،ابرارالحق ،محمد نفیس ،ذیشان علی ،محمد شبیر ،محمد منیر حید ر بٹ ،بابا خلیل مغل نے بتایا کہ میاں مرسل اور ان کی فیملی سینکڑوں شہریوںکو جھوٹے وعدے کرتے ہوئے سوسائٹی کو جلد از جلد آباد کرنے کی تسلیاں دیتے رہتے ہیں اور جو شہری ان کے خلاف کسی محکمہ میں درخواست دینے کی کوشش کرتا ہے تو مسلح افراد کے ساتھ انکے گھرو ں پر دھاوا بول دیتے ہیںیٰسین گارڈن میں پنجاب حکومت کا کوئی بھی آفیسر یا سیاسی رکن اسمبلی ایک دن سو کر دیکھا دے اس کی ساری زندگی خدمت کرنے کو تیار ہیں ،پانی کی عدم دستیابی کے باعث بچوں کے کپڑے استری نہیں ہو پاتے جس کی وجہ سے متعدد بچوں کو سکول سے نکال دیا گیا ،کئی بچوں اور بزرگوں کو کئی کئی دنوں تک نہ نہانے کی وجہ سے خارش پڑ چکی ہے اور بچے ،بوڑھوں سمیت خواتین کی بڑی تعداد بھی مختلف موذی بیماریوں میں مبتلاءہو چکی ہیں ،شہری عامر سلیم مغل ،میاں فاروق ،غلام مصطفی ،محمد عالم اور محمد اصغر نے آگاہی دی ہے کہ رات کو گھپ اندھیرے کی وجہ سے چور یہاں وارداتیں ڈال رہے ہیں شرابیوں اور نشئیوں کی بھرمار ہو چکی ہے کسی قسم کا کوئی تحفظنہیں ہم اپنی ساری زندگی کی جمع پونجی یہاں پھنسا چکے ہیں اب کسی اور جگہ جا کر زمین خریدنے کی سکت ہے اور نہ مہنگے داموں کرائے کے مکان لینے کی،خدا اور رسول کے واسطے وزیر اعلیٰ پنجاب ہماری مدد کریںمسلم لیگ (ن)کے ایم این اے ملک ریاض سمیت ،خواجہ عمران اور دیگر سیاسی رہنماﺅں سے بھی مدد مانگی ہے لیکن کسی نے ہمارا ساتھ نہیں دیا اس آبادی میں 15سے 20گھروں میں خاندان رہائش پذیر ہیں باقی یہاں سے جا چکے ہیں ِہم یہاں جنریٹروں کے ذریعے گزارہ کرنے میں مجبور ہیں ،سوئی گیس کی عدم دستیابی کے باعث گیس سلنڈروں کی شکل میںاپنے گھروں میں موت کو لیکر آچکے ہیں ،خدا کے لئے چیف جسٹس ہائی کورٹ ،گورنر پنجاب ،وزیر اعلیٰ پنجاب ،ڈی سی او اور ڈی جی ایل ڈی اے فوری طور پر ہماری دادرسی کریں اگر ہماری جلد داد رسی نہ کی گئی تو یٰسین گارڈن کے تما م رہائشی خاندان وزیر اعلیٰ ہاو¾س کے باہر خود کو آگ لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیں گے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1