کنٹرول لائن ورکنگ بانڈری پر بلا اشتعال فائرنگ کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرانا درست نہیں :دفتر خارجہ

کنٹرول لائن ورکنگ بانڈری پر بلا اشتعال فائرنگ کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرانا ...

     آباد(اے این این) دفترخارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہاہے کہ بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن اور ورکنگ بانڈری پر دراندازی و بلااشتعال فائرنگ کا ذمہ دار پاکستان کوٹھہرانا درست نہیں، بھارت کے دعوے سچے ہیں تو وہ اقوام متحدہ کے مبصر مشن کو مقبوضہ کشمیر میں کنٹرول لائن کے دورے اور تحقیقات کی اجازت دے،مسائل کے حل کیلئے مذاکرات نہ ہونے کی ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے، کشمیری عوام کی وکالت کرتے رہےں گے، کنٹرول لائن پر فائرنگ کر کے پاکستان کو مذاکرات کی میز پر نہیں لایا جا سکتا، امریکہ سے ڈرون حملوں کا معاملہ متعدد بار اٹھایا ہے ، اس حوالے سے ہمارا موقف واضح ہے۔ جمعہ کو دفتر خارجہ کی ترجمان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہاکہ بھارت مسلسل جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے پاکستان نے ایل او سی پر فائرنگ شروع نہیں کی بلکہ ہم صرف ورکنگ بانڈری اور لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت کا صرف جواب دے رہے ہیں بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن اور ورکنگ بانڈری پر دراندازی اور بلااشتعال فائرنگ کا ذمہ دار پاکستان کوٹھہرانا درست نہیں ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان جوابی کارروائی میں بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہا ہے جہاں سے پاکستان پر فائر یا شیلنگ ہوتی ہے وہاں جوابی فائر کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری لائن آف کنٹرول کی صورت حال دیکھ رہی ہے جبکہ پاکستان نے بھارتی جارحیت کا معاملہ اقوام متحدہ کے فوجی مبصر مشن کے سامنے بھی رکھا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ مبصر مشن بھارتی فائرنگ سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کا خود جائزہ لے اور بھارت میں ہونے والے نقصانات کو بھی دیکھے،بھارت کے دعوے سچے ہیں تو وہ اقوام متحدہ کے مبصر مشن کو مقبوضہ کشمیر میں کنٹرول لائن کے دورے اور تحقیقات کی اجازت دے تاکہ مبصر مشن حالیہ فائرنگ پر رپورٹ مرتب کر کے اقوام متحدہ کو بھیج سکے۔اقوام متحدہ کی تحقیقات بھارت کے لئے بہترین آپشن ہے ،بھارت کو اقوام متحدہ کی تحقیقات اور سفارشات کو تسلیم کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت سے مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل چاہتا ہے لیکن بھارت نے سیکرٹری خارجہ مذاکرات منسوخ کر دیئے مسائل کے حل کیلئے مذاکرات نہ ہونے کی ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی وکالت کرتا رہے گا اور کنٹرول لائن پر فائرنگ کر کے پاکستان کو مذاکرات کی میز پر نہیں لایا جا سکتا۔ ڈرون حملوں کے حوالے سے تسنیم اسلم نے کہ امریکہ سے ڈرون حملوں کا معاملہ متعدد بار اٹھایا ہے ، اس حوالے سے ہمارا موقف واضح ہے پاکستان قبائلی علاقوں میں ہونے والے ڈرون حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔

دفترخارجہ

مزید : صفحہ اول