برساتی نالوں کی کشادگی کانیانقشہ عدالت میں جمع کرایا جائے،سپریم کورٹ

برساتی نالوں کی کشادگی کانیانقشہ عدالت میں جمع کرایا جائے،سپریم کورٹ

لاہور(نامہ نگارخصوصی )سپریم کورٹ نے صوبائی دارالحکومت کا سیوریج نظام بہتر بنانے کیلئے تین بڑے برساتی نالوں کی کشادگی کا مجوزہ نقشہ طلب کر لیا، منصوبے پر 9 ارب 29کروڑ لاگت آئیگی، حکومت نے ابھی ایک پیسہ بھی جاری نہیں کیا، ایم ڈی واسا چودھری نصیر کا فل بنچ کے روبرو بیان ۔سپریم کورٹ کے مسٹر جسٹس جواد ایس خواجہ، مسٹر جسٹس اقبال حمید الرحمن اور مسٹر جسٹس عمر عطاءبندیال پر مشتمل فل بنچ نے رجسٹری کے باہر بارش کے دوران نکاسی آب کے ناقص نظام کے خلاف کیس کی سماعت شروع کی تو ایم ڈی واسا چودھری نصیر نے رپورٹ جمع کراتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ پنجاب حکومت نے لاہور کے 3 بڑے برساتی نالوں برڈ ووڈ روڈ، سنٹرل ڈرین اور ملتان روڈ سے بابو صابو تک کنٹومنٹ ڈرین کی بحالی کیلئے 9ارب29کروڑ مالیت کا منصوبہ تیار کیا جس میں سے2ارب27کروڑ روپے کے ابتدائی پی سی ون کی منظوری دے دی گئی ہے جس کے تحت تینوں نالوں کے نئے سرے سے نقشے تیار کروا لئے گئے ہیں، حکومت نے ابھی ایک پیسہ بھی جاری نہیں کیا، تینوں نالوں کے کناروں پر قائم رہائشگاہیں اور تجاوزات منصوبے پر کام شروع کرنے میں بڑی رکاوٹ ہیں، عدالت نے کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی ۔

برساتی نالے

مزید : صفحہ آخر