والدین نے پولیس سے ساز باز ہو کر پسند کی شادی کرنے والی لڑکی کو اغوا کر لیا

والدین نے پولیس سے ساز باز ہو کر پسند کی شادی کرنے والی لڑکی کو اغوا کر لیا

شیخوپورہ(بیورورپورٹ)تھانہ خانقاہ ڈوگراں پولیس نے طمعہ نفسانی کی خاطرپسند کی شادی کرنے والی لڑکی کو اسکے والدین سے مک مکا کرکے اغواءکرلیااور ایک خاتون کو تھانہ کے اندر تشدد کا نشانہ بھی بنایا،بتایا گیا ہے کہ قصبہ خانقاہ ڈوگراں کے رہایشی محنت کش ذوالفقار نے حافظ آباد کی کرن بی بی کے ساتھ چند ہفتے قبل پسند کی شادی کی گزشتہ روز کرن کے والد شوکت والدہ کبری بی بی ،خالہ بلقیس بھائیوں کرامت ،امانت اور احسان وغیرہ نے خانقاہ ڈوگراں پولیس سے مبینہ مک مکا کرکے کرن بی بی کو اس وقت اغواءکرلیا جب وہ خانقاہ ڈوگراں بازار میں اپنی جٹھانی یاسمین کے ہمراہ سودا سلف خریدنے آئی تھی پولیس نے سربازار کرن کو اٹھا کر گاڑی میں ڈالا اور تھانہ لے گئے اورا سے زبر دستی والدین کے ساتھ بھجوانے کی خاطر ایڑھی چوٹی کا زور لگا تے رہے مگر جب یاسمین اسے بچانے کی خاطر تھانہ کے اندر گئی تو وہاں پر پولیس ملازمین نے ایس ایچ او کی موجودگی میں اسے بندوقوں کے بٹ مار کر شدید زخمی کرکے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے تھانہ سے باہر پھینک دیاجبکہ اہل علاقہ کی مداخلت پر کرن بی بی کو اس کے خاوند ذوالفقار کے حوالہ کردیا اور پولیس گردی کا شکار ہونے والی خاتون یاسمین کو تشویشناک حالت میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال شیخوپورہ میں طبی امداد دی جارہی ہے۔ متاثرہ خواتین نے بتایا کہ پولیس ہمیں میڈیکو لیگل کے لیے ڈاکٹ دینے سے انکار کررہی ہے۔ متاثرہ خاندان نے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں پولیس کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب اور اعلیٰ پولیس حکام سے داد رسی کا مطالبہ کیا ہے ،علا وہ ازیںپولیس زرائع نے تشدد کے الزامات کی تصدیق نہ کی ہے۔

مزید : صفحہ آخر