گجر پورہ میں قتل ہونیوالی خاتون کے کیس کی تفتیش تاحال نامکمل

گجر پورہ میں قتل ہونیوالی خاتون کے کیس کی تفتیش تاحال نامکمل

لاہور(بلال چودھری)گجر پورہ کے علاقہ میںقتل ہونے والی دو بچوں کی ماںکے قتل کی تفتیش تاحال مکمل نہ ہو سکی ایک ہفتہ سے زائد گزرنے کے باوجود پولیس نے پوسٹ مارٹم رپورٹ تک حاصل نہیں کی ۔پولیس اہلکاروں نے ملزمان سے مبینہ طو پر رشوت لے لی ہے لواحقین کا الزام ۔تفصیلات کے مطابق گجر پورہ کے علاقہ جانی پورہ D-1بلاک کی رہائشی شہزادی بیگم کی 6سال قبل تنویر نامی شخص سے شادی ہوئی تھی اور ان کے دو بچے محمد علی اور رداءتھے لیکن اسے اس کے شوہرتنویر نے 4اکتوبرکو اسے گھر والوں کی مدد سے گلا دبا کر قتل کر دیا تھا اور خودکشی کا ڈرامہ رچایا تھا ۔ مقتولہ کے بھائی اور مقدمہ کے مدعی محمد رمضان،والد عبد المجید ،ماں صفیہ بی بیاور رشتہ دار محمد سلیم اور محمد منشاءنے نمائندہ" پاکستان" سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شہزادی کی اکثر اس کے سسرال میں ناچاقی رہتی تھی ۔جس کی وجہ سے شہزادی کے شوہر تنویر،سسر منیر احمداور ساس شہناز بی بی نے اسے گلا دبا کر قتل کر دیا جس کے بعد اس کی نعش کو میو ہسپتال میں لے آئے اور یہ ظاہر کیا کہ اس نے گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کی ہے لیکن ڈاکٹروں کو اس معاملے کا فوری طور پر اندازہ ہو گیا اور انہوں نے پولیس کو بلا لیا جس نے صرف تنویر کو حراست میں لیا ہے اور باقی ملزمان آزادپھر رہے ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس اہلکاروں نے ملزمان سے مبینہ طور پر رشوت لے لی ہے جبکہ مقتولہ کے بچوں بھی ملزمان کے ہی قبضے میں ہیں جن کے قتل کیے جانے کا امکان ہے ۔پولیس حکام سے اپیل ہے کہ اس معاملے میں ہماری مدد کی جائے۔اس معاملے میں تھانہ گجر پورہ میں رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ بہت جلد پوسٹ مارٹم رپورٹ لے کر تفتیش کو آگے بڑھایا جائے گا۔رشوت والی بات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

مزید : علاقائی