کابل ہوائی اڈے پر کھڑے 16 امریکی طیارے سکریپ میں تبدیل ہوگئے

کابل ہوائی اڈے پر کھڑے 16 امریکی طیارے سکریپ میں تبدیل ہوگئے
 کابل ہوائی اڈے پر کھڑے 16 امریکی طیارے سکریپ میں تبدیل ہوگئے

  

 واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک )افغان ایئر فورس کے لیے 50 کروڑ ڈالر کی لاگت سے خریدے گئے 16 طیارے کابل کے ہوائی اڈے پر کھڑے کھڑے کوڑا بن گئے ہیں اور اب انکی مالیت 32 ہزار ڈالر کے دھاتی کوڑے کی رہ گئی ہے، امریکی حکومت نے ملکی فضائیہ سے اس بارے میں جواب طلب کر لیا ہے ۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی حکومت کے قائم کردہ ایک نگران ادارے نے امریکی ایئر فورس سے اس بارے میں وضاحت کے لیے کہا ہے کہ قریب نصف بلین ڈالر کے عوض جو 16 ہوائی جہاز افغان فضائیہ کے لیے خریدے گئے تھے انہیں تباہ کر کے 32 ہزار ڈالر کا دھاتی سکریپ کیوں بنایا گیا اور امریکی ٹیکس دہندگان کی رقوم کو اتنی بےدردی سے ضائع کیوں کیا گیا؟۔ افغانستان کی تعمیر نو کے لیے خرچ کردہ رقوم کے آڈٹ اور ان کے مناسب استعمال پر نظر رکھنے والے انسپکٹر جنرل جان سوپکو نے امریکی ایئر فورس کی سیکریٹری ڈیبورا جیمز سے تحریری مطالبہ کر دیا ہے کہ سوپکو کے دفتر کو ان تمام فیصلوں کا تحریری ریکارڈ پیش کیا جائے ، جو C-27J طرز کے ان 16 طیاروں کی خریداری سے لے کر ان کی تباہی کے عمل تک کیے گئے تھے۔ صرف افغانستان ہی نہیں بلکہ ایسے ہی چار اور ہوائی جہاز طویل عرصے سے جرمنی میں ایک امریکی فضائی اڈے پر بھی کھڑے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی