در گزر یا مزید سزا ؟

در گزر یا مزید سزا ؟

  

مکرمی!جب سے پاکستان کے تینوں کھلاڑی سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر جو کرکٹ میں سپاٹ فکسنگ کیس میں ملزم نامزد ہوئے۔ پھر مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے سزا کے مستحق قرار دیئے گئے۔ اب جب اُن کی سزا کی میعاد پوری ہو چکی ہے اور آئی سی سی نے اُن کو کلیئر کر دیا۔ پی سی بی کو اختیار دیا گیا کہ آئندہ وہ ان کو ڈومیسٹک/ انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے یا نہ دے۔ اس پر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر خوب بحث چل رہی ہے کہ آیا ان کو اجازت ملنی چاہئے یا نہیں؟ ہر ایک اپنی رائے دینے کا حق ضرور رکھتا ہے، مگر سب سے پہلے اپنے دین اور رسول اکرمؐ کے ارشادات کو بھی ذہن میں رکھنا چاہئے۔ مَیں نہ تو کوئی تجزیہ کار ہوں، نہ ہی جرنلزم سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی دین پر کوئی دسترس رکھتا ہوں فقط ایک پاکستانی شہری اور 1954 تا 1959ء کالج، یونیورسٹی وغیرہ تک کرکٹ کھیلا ہوا ہوں لہٰذا دیکھنے کا شوق تو زندگی کے آخر تک رہے گا اس لئے اپنی رائے تو دے سکتا ہوں۔ سب سے پہلی بات کہ در گزر یعنی معاف کر دینے میں ہی عظمت بتائی جاتی ہے۔ دوسرے آخر ان بچوں سے جڑے زیادہ نہیں تو تین چار خاندان تو ضرور ہوں گے جو پچھلے پانچ سال سے ان کی آمدنی سے محروم ہونے کے علاوہ اس مدت کا پورا بوجھ جو کسی بھی شکل میں ان پر یا ان کے لواحقین پر پڑا۔ شاید ہمدردانہ سوچ اور در گزر سے اس کا کچھ مداوا ہو جائے اور بجائے اس کے کہ وہ کوئی ایسا راستہ اختیار کرلیں جو ان کی زندگیوں کے ساتھ ساتھ جڑئے ہوئے افراد کے لئے مزید تکلیف دہ ہو یا شائد پاکستان کے لئے مزید بدنامی کا باعث بن جائیں۔ لہٰذا میرے خیال میں ان کو آہستہ آہستہ بہتری کی طرف لایا جائے ان کی مناسب کونسلنگ کی جائے ان کی کرکٹ کو بھی بہتری کی طرف لایا جائے۔ یہ بات بھی اپنی جگہ صحیح ہے کہ یہ تینوں میچ وننگ پلیر ہیں کیا خبر مستقبل میں یہ پاکستان کے لئے واقعی ایک سرمایہ ثابت ہوں۔ موقع دینے اور کوشش کر لینے میں کوئی حرج نہیں۔ ان کو ڈومیسٹک کرکٹ میں چانس دیں اور اگر میرٹ پر ٹیم میں آ سکتے ہوں تو اس سے بہتر کیا ہو گا؟ دوسری عرض یہ ہے کہ پی سی بی میں بڑے بزرگوں کے علاوہ کچھ کم عمر بزرگوں کو بھی آزمائیں۔ مختلف عہدوں پر بھی تبدیلی ضروری ہے۔ ایسی تبدیلی نہیں کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ بٹھا دیں ان کو با عزت فارغ کریں، امید ہے کہ چیئرمین صاحب اس طرف بھی توجہ دیں گے۔ (افتخار احمد قریشی، ویلنشیا ٹاؤن، لاہور)

مزید :

اداریہ -