خوشگوار عاجزی کا پیکر: زمرد ملک (1)

خوشگوار عاجزی کا پیکر: زمرد ملک (1)
خوشگوار عاجزی کا پیکر: زمرد ملک (1)

  

دُنیا میں جہاں کہیں چائے پینے کا اتفاق ہوا، اس کا ذائقہ باقی جگہوں کے مقابلہ میں مختلف پایا۔ ٹی بیگ عام ہونے سے پہلے مکس اور سیپریٹ دو بڑی اقسام رائج تھیں۔ پھر بھی پتی کی مقدار ، دودھ کی کوالٹی اور پانی ابالنے کا دورانیہ ، یہ ایسے عوامل ہیں جن کے آگے پیچھے ہونے سے چائے کی تاثیر بدل جایا کرتی۔صرف دو مقامات ایسے دیکھے کہ جونہی ایک گھونٹ لیا ، ایسی یکساں اپنائیت کہ ’عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام‘ ۔ ان میں ایک ہے ماضی کی لاہور ہائی کورٹ میں ایڈیشنل رجسٹرار جعفر علی زیدی کا دفتر اور دوسرے ہماری طالب علمی کے زمانے میں سیالکوٹ کے جناح اسلامیہ کالج کی کینٹین جسے اپنے استاد زمرد ملک کی دیکھا دیکھی ہم نے بھی ہمیشہ ’ٹک شاپ‘ کہا ۔ اب گمان ہوتا ہے کہ دونوں جگہوں کا ذائقہ چائے کے اجزاء نہیں ، میزبانوں کی دلنوازی کے تابع تھا ۔جعفر علی زیدی سے ، جو عمر میں میرے والد سے دو سال بڑے ہوں گے ، لا کالج کی شام کی کلاس میں ہم جماعت کے طور پہ تعارف ہوا ۔ پھر شاعری ، تصوف اور کرکٹ میں مشترکہ دلچسپی ایسی دوستی کی بنیاد بن گئی کہ گورنمنٹ کالج میں انگریزی ادب کی کلاس پڑھا کر میں ہر صبح جیسے ہی مال روڈ کے اس پار ان کے آفس کا پردہ سر کاتا ، زیدی صاحب پیار سے اپنے پی اے کو آواز دیتے ’منور ، ملک صاحب کے لئے کافی ‘ اور منور کہتا ’آیا ، پیر جی‘ ۔ ہفتہ کے کون سے دن یہ آرڈر چائے اور بٹرڈ سلائس میں بدل جاتا اور کب یہ دعوت ملتی کہ آج شام خواجہ کے ہاں مشاعرے میں چلیں گے ، اس دلآویز تفصیل پر مبنی کالم ابھی ادھار ہے ۔ آج تو حالیہ ورلڈ ٹیچرز ڈے کی نسبت سے جناح اسلامیہ کالج میں اپنے اس استاد کا چرچا،جنہوں نے اول اول میری چائے نوشی کو ایک روحانی عقیدے میں تبدیل کیا تھا ۔

وہ منظر نہیں بھولتا جب میں زندگی میں پہلی بار زمرد ملک سے ملنے کے لئے کینٹین کے ایک نیم تاریک کمرے میں داخل ہوا ۔ واہ کینٹ میں جہاں اب انجینئرنگ اور میڈیکل کی یونیورسٹیاں قائم ہیں ، ان دنوں لڑکوں کا ڈگری کالج نہیں تھا ، اس لئے میرے ایف اے کرتے ہی والدین نے فیصلہ کیا کہ لڑکے کو آبائی شہر سیالکوٹ بھیج دیا جائے ۔ پہلی چوائس تو علامہ اقبال ، فیض احمد فیض ، خالد حسن اور امین مغل والا مرے کالج ہی تھا ۔ پر کالج کے پرنسپل ایف ایس خیراللہ کی اس وضاحت کی روشنی میں کہ اس سال بی اے میں پولیٹکل سائنس کا مضمون آفر نہیں کیا جائے گا ، ہمارا رُخ خود بخود ریلوے لائن کے پار جناح اسلامیہ کالج کی طرف ہو گیا ۔ یوں چاچا جی امین کی یہ دلی خواہش پوری ہو گئی کہ تمہارا ہاتھ پروفیسر زمرد کے ہاتھ میں دے دیا جائے، جو انگلش کے ’پرفیکٹ‘ استاد ہیں ۔

زمرد ملک سبز رنگ کی کرسیوں اور میز والے ایک کونے میں یوں بیٹھے دکھائی دئے کہ عقب میں دیوار اور سامنے کی طرف کینٹین کا بڑا دروازہ تھا ، لیکن دھوپ کو روکنے کے لئے دونوں پٹ بند ۔ میز پر چائے کے خالی برتن اور کیونڈر سگریٹ کا پیکٹ ۔ ہمیں دیکھتے ہی مسکرانے لگے اور میاں امین سے بہت تپاک کے ساتھ بازو کو لمبا کر کے مصافحہ کیا ۔ مجھ سے بھی ہاتھ ملایا اور کینٹین کے منیجرکو آواز دی ’ملک صاحب ، سارے آدمیوں کے لئے چائے‘ ۔ ایڈمشن فارم ہم پہلے ہی جمع کرا چکے تھے اور انٹر میڈیٹ میں فرسٹ ڈویژن کی بدولت داخلہ میں بظاہر کوئی رکاوٹ نہ تھی ۔ اس کے باوجود ، پروفیسر نے اچانک یہ کہہ کر جان نکال دی کہ میرے دل میں فرسٹ کلاس لینے والوں کے خلاف تعصب ہے ، اس لئے تمہارا چھوٹا سا ٹیسٹ لیا جائے گا ۔ ساتھ ہی بیرے کو آواز دی کہ کاغذ پنسل لے آئے۔

کوئی دو تین منٹ گھبراہٹ کے عالم میں گزرے ۔ جب کاغذ پنسل نہ آئی تو کہنے لگے ’چلو ، ان تین جملوں کا زبانی ترجمہ سنا دو۔۔۔ تم اسے کس حد تک جانتے ہو؟ ۔۔۔ اپنی قمیض کے بٹن بند کرو۔۔۔وہ اپنا کام ختم کر چکا ہو گا‘۔ مَیں نے ترجمہ کر دیا اور ساتھ ہی اللہ کا شکر ادا کیا کہ استاد نے میرا امتحان لینے کے لئے مختلف سبزیوں کے نام نہیں پوچھے ، جو انگلستان میں سالہا سال رہنے اور کام کرنے کے باوجود ، میں آج بھی روانی سے نہیں بتا سکتا ۔ میرے جواب سن کر میاں صاحب کے چہرے پہ بھی اطمینان کی لہر دوڑنے لگی تھی ۔ زمرد ملک نے کہا ’یار مائنڈ نہ کرنا ۔ آج کل کے پروفیسروں کو بھی یہ فقرے نہیں آتے‘ چھیالیس سال پہلے کی یہ بات ہو سکتا ہے کہ درست ہو ، لیکن میرے نزدیک اس رائے میں حقیقت پسندی سے زیادہ پروفیسر زمرد کی حس مزاح کو دخل ہو گا ۔

ہماری اس تعارفی ملاقات کی بقیہ گفتگو دوستانہ اور برابری کی سطح پہ ہوئی ، جس میں کئی معاملوں پر باہمی سوچ کی ہم آہنگی کو جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور واضح ہو نے والی تھی ، میں اس وقت محسوس نہ کرسکا ۔ جیسے ایک سیدھا سادہ نکتہ کہ ہمارا تعلیمی نظام پڑھائی کا شوق پیدا نہیں کرتا ، یہی بنیادی خرابی ہے ، اس کے سوا کچھ نہیں ۔ اس سے اگلا سوال تھا ’آجکل کیا پڑھ رہے ہو؟‘۔مَیں نے علامہ غلام احمد پرویز کی کتاب کا نام بتا دیا ’انسان نے کیا سوچا‘ ۔ پوچھا ’اس کی کیا ضرورت پڑگئی تھی؟‘ عرض کیا کہ اس میں آسٹرونومی ، فزکس اور کیمسٹری کے علاوہ اخلاقیات ، سوشیالوجی ، اکنامکس اور پولیٹکل سائنس کے اب تک کے بڑے بڑے نظریات کا خلاصہ ہے اور انہیں رد کیا گیا ہے ۔ اس کے بعد دوسری کتاب ’خدا نے کیا کہا ‘ پڑھنے کا ارادہ ہے ، جس میں ان مسائل کا قرآنی حل بتایا جائے گا‘ ۔

چائے کا تیسرا دور شروع ہونے تک مجھ میں اتنی جرات پیدا ہو گئی تھی کہ بورڈ اور یونیورسٹی کے امتحانوں میں فرسٹ آنے والے روایتی طالب علموں کی طرح یہ کہے بغیر نہ رہ سکا ۔ ’سر ، اگر آپ پڑھنا چاہیں تو یہ کتاب آپ کو دے سکتا ہوں‘ ۔ مذاہب کا ایک حصہ جو عقائد سے جڑا ہوا ہے ، وہ تو مجھے ہانٹ کرتا ہے، لیکن جہاں تک مذہب کے سوشل آرڈر کا تعلق ہے اس میں زیادہ دلچسپی پیدا نہیں ہو سکی۔جواب میری توقع کے برعکس تھا ، ان معنوں میں کہ دین کے نام پر پیش کیا جانے والا سارا پیکیج اس وقت عام مسلمانوں کی طرح مجھے بھی ایک لگی بندھی اکائی لگتا۔ زمرد ملک نے نہ تو میری سوچ کا مذاق اڑایا، نہ کسی ایسے پہلو کی نشاندہی کی جس سے ان کی برتری کا اظہار ہوتا۔ اگلے دن سے کلاسوں کا آغاز ہوا تو پہلے ہی لیکچر کے بعد کہنے لگے ’آؤ ، ٹک شاپ میں چل کر چائے پئیں‘ ۔

چائے پینے کا اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر یہ تھا کہ ہم بڑے خوشگوار موڈ میں کینٹین کے اس کمرے کے اندر داخل ہوتے جو استادوں کے لئے تھا ۔ جاتے ہی مخصوص آرڈر ’سارے آدمیوں کے لئے چائے‘ ۔ اگر سب کی مرضی کا موضوع ہوتا تو محفل میں شریک سبھی لوگ کوئی نہ کوئی بات ضرور کرتے ۔ بصورت دیگر زمرد صاحب کے بقول ہماری اپنی ’کانفرنس‘ شروع ہو جاتی ، جس کے دوران اونچی آواز میں بولنے کی نوبت کبھی نہ آئی ۔ بارہا یہ ہوا کہ اساتذہ کے کمرے میں کھپ زیادہ ہے ، اس لئے طالب علموں والی میز کرسیوں پہ بیٹھ گئے ۔ ’پتا نہیں لوگوں کو کیا کامپلیکس ہے ، مجھے تو سٹوڈنٹس والے کمرے میں کبھی اپنی عصمت خطرے میں محسوس نہیں ہوئی‘ ۔ مَیں تو کہوں گا کہ طلبہ اور اساتذہ سے ان کا میل جول تعلق اور لاتعلقی کے کسی درمیانی مرحلے کا رشتہ تھا،جس میں کسی کو دقت نہ ہوتی۔

پہلے ہی ہفتے ہماری جو کانفرنسیں ہوئیں، ان میں آلڈس ہکسلے ، جیمز فریزر اور ول ڈیوراں کا ذکر ہوا ۔ اُردو اور پنجابی کے شاعر اور ادیب ان کے علاوہ ہیں ۔ مثال کے طور پہ امرتا پریتم ، احمد راہی ، دلیپ کور ٹوانہ ، بلونت کارگی اور ہر بجن سنگھ کومل کو پڑھنے کی خاطر ’آ رسی‘ اور ’پریت لڑی‘ کے شمارے جمع کرنے کا چسکا انہی دنوں لگا ۔ اس وقت تک کے بعض نسبتاً کم معروف نام بھی پتا چلے جن کی تخلیقات کوئی نہ کوئی منفرد پہلو لئے ہوئے تھیں ۔ ان میں جمیل الدین عالی کے دوہے تو تھے ہی ، جھنگ کے شیر افضل جعفری اور جعفر طاہر کے متنوع بحروں کے تجربات بھی پڑھنے کو ملے ۔ ہاں ، پڑھائی لکھائی کی یہ ترغیب ہلکی پھلکی نوعیت کی ہوتی ، جیسے کچھ بھی شعوری کوشش سے مسلط نہ کیا جا رہا ہو ۔ اس کے پیچھے وہی حکمت عملی تھی جسے زمرد ملک اپنا خوشگوار عاجزی کا رویہ کہا کرتے ۔ (جاری ہے)

مزید :

کالم -